ہفت روزہ جی بی پوسٹ، خدشات و تجاویز

ہفت روزہ جی بی پوسٹ، خدشات و تجاویز

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہفت روزہ جی بی پوسٹ(ویکلی گلگت بلتستان پوسٹ) کا پہلا شمارہ دیکھتے ہی ذہن کے نہاں خانوں میں کچھ خدشات اور چند تجاویزگھومنے لگیں۔ نشر و اشاعت کے حوالے سے برادرم منیر جوہر کے ساتھ اس حوالے سے کافی مشاورت بھی ہوتی رہتی ہے۔ تاہم جی بی پوسٹ کے حوالے سے باقاعدہ کوئی تفصیلی گفت و شنید اور نشست نہیں ہوئی۔گلگت بلتستان کی صحافت سے کسی نہ کسی طریقے سے ٹچ رہتا ہوں اس لیے اس کے نشیب وفرازکے متعلق کچھ انفارمیشن بھی رکھتا ہوں۔ کئی اخباری مالکان سے صحافتی دعا و سلام ہے اس لیے بڑی حد تک ان کے کاروباری مسائل سے آگاہ بھی ہوں۔ اس میں دورائے نہیں کا اخبار ایک جاندار قسم کی صنعت کا روپ دھارچکاہے۔اخباری مالکان کی سوچ نشری و صحافتی،ابلاغی اور اپنے وظائف سے زیادہ کمرشل ہوچکی ہے۔کمرشل پر مبنی اس سوچ کے مالکان ا پنے معاصرانہ اخبارات و رسائل کو شدید نقصان اور بھاری گزند پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بلکہ ارباب اختیار سے ملکر ان کا راستہ روکنے کی ہمہ جہت کوششوں میں مبتلا رہتے ہیں۔سازشوں کے تار عنکبوت بنتے رہتے ہیں۔ڈمی اخبارات کا نام دے کر بہت سے حقداروں کا حق روکے رکھنے میں اپنے ’’کاربار‘‘کا بھلا و ترقی دیکھتے ہیںیعنی اپنے راستے سے کانٹے صاف کرتے ہیں۔اس غیر مناسب رویے سے کئی اچھے خاصے اخبارات سخت کرائسس کا شکار ہیں اوراشاعت ملتوی ہوچکی ہے۔کاش کوئی حقیقت نگاران تلخیوں سے پردے اٹھائے۔یہاں ایک اور سوچ سختی سے رواج پکڑ رہی ہے کہ اخبارات میں کام کرنے والا عملہ(ایڈیٹر سے سٹی رپوٹرتک) کا شدیداستحصال کیا جاتا ہے۔معاشی استحصال کی ایسی مثالیں بہت کم اداروں میں ملتی ہیں۔گلگت کی صحافت میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ غیر تربیت یافتہ،جعلی ڈگری ہولڈرز،کم علم اور پرانے پاپیوں نے تربیت یافتہ، ڈگری ہولڈرز اور باخبر نوجوان صحافیوں کا راستہ روکا ہوا ہے جس سے ان کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچنے کے ساتھ ان کی ترقی کے راستے بھی مسدود ہوتے ہیں۔نوجوان قلم کاروں اور صحافیوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کا یہ نامناسب رویہ یقینامثالی معاشرے کی راہ میں ایک عظیم رکاوٹ ہے اور اخبارات کے نکھار میں بھی ۔یہی حال ادب (نثر و نظم ) کے علمبرداروں کا بھی ہے۔وہ تو کسی مبتدی کو خاطر میں ہی نہیں لاتے۔

جی بی پوسٹ کا چیف ایڈیٹر کہنہ مشق صحافی ہے۔ کئی بڑے اداروں میں صحافتی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ماتحت عملہ کے جذبات سے بھی واقف ہے۔ کالم نگاروں کی سوچ سے بھی آگا ہی رکھتے ہیں۔ خود صحافت کے استاد بھی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں ایک دوسروں کے خلاف سازشیں کر نے والے مکروہ چہروں سے بھی واقف ہیں۔بلکہ کئی ایک کے چہروں میں لگے دبیز پردوں کے اندر سے جھانک بھی چکے ہیں۔اور ان کے نہاں خانوں میں پنپنے والی استحصالی سوچ سے بھی واقف ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ان تمام مکروہات سے اجتناب کریں گے۔اور اشاعتی اداروں اور ہم عصراخبارات کے راستے میں کانٹے بچھانے والے کالے بھجنگوں اور سیس ناگوں سے دامن بچاتے ہوئے اپنے پروفیشنل امور انجام دیں گے۔ انشاء اللہ

بطور ماحضر چند باتیں ہمارے دل و ماغ میں آئی تو مناسب جانا کے قرطاس ابیض میں اتاردیں ، شاید کسی کے کام آجاوے۔یہاں تک خدشات کی بات ہے تو اشارۃََ و کنایۃََ بلکہ استعارۃََہم نے ماقبل میں ذکر کردیا ہے۔میرے سامنے بہت سی مثالیں ہیں کہ کچھ اپنوں کی ریشہ دوانیوں اور کچھ غیروں کی کارستانیوں سے ، اور کافی ساری اخباری مالکان کی اپنی خرمستیوں سے ان کے اخبارات مختلف بحرانوں کا شکار ہوئیں اور بالآخر مکمل بند ہوئی یا اشاعت میں طویل تاخیر ہوئی اور ان کا امیج بری طرح متاثر ہوا۔یہی خدشات جی پوسٹ کے ساتھ بھی لاحق ہوسکتی ہیں بلکہ مگرمچھ کی طرح منہ کھولے انتظار کررہی ہیں لہذا تمام ذمہ دار عملے کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے کہیں نومولوگی میں بھی اُکھیڑ نہ دیے جاوے یا خود پچھڑجاوے۔

ہمارا ایک عدد مشورہ فری میں حاضر ہے۔مشورہ دینے میں کونسا میں حرج ہے۔اور نہ ہی اس میں کوئی بڑا بجٹ انوال ہے۔ویسے بھی مشورہ اس لیے دیا جاتا ہے کہ اس پر عمل نہ کیا جاوے۔بلکہ دیوانے کی بَڑ کو مشورہ کے بجائے تجویز ہی خیال کیا جائے کیونکہ مشورہ کا مطلب باہمی تجویز ہے جبکہ یہ ہماری انفرادی تجویز ہے۔ جی بی پوسٹ کے چیف ایڈیٹر اور ایڈیٹر اور ذمہ دار عملے سے گزارش ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے جید کالم نگاروں پر مبنی ایک ٹیم تشکیل دیں۔یہ ذہن میں رہے کہ کالم نگار صاحب اُسلوب ادبی و صحافتی سوچ کا مالک’’ حیوان‘‘ ہو۔صرف ’’حیوان ‘‘ہونا کافی نہیں بلکہ معاشرتی وسیاسی حیوان ہو۔یعنی حیوان ناطق۔ طرز کہن پہ اَڑتا نہ ہو اور آئین نو سے ڈرتا نہ ہو۔چار پانچ افراد پر مشتمل کالم نگاروں یہ کی ٹیم اخبار کو زندہ جاوید رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرسکتی ہے۔دبستان صحافت میں کئی ایسے اخبارات تھے جو چند ایک جری اور صاحب اسلوب لکھاری، انشاء پردار اور خوش نواشاعروں کی وجہ سے ہی زندہ و تابند ہ تھے۔معارف اعظم گڑھ،ہفت روزہ البلاغ والہلال ،ہمدرد ، ہفت روزہ چٹان کا لوگ شدت سے صرف اس لیے انتظار کرتے تھے کہ معارف میں سیدسلیمان ندوی کے علمی مضامین،البلاغ و الہلال میں ابوالکلام آزادکے ادبی شہ پارے، ہمدرد میں ظفر علی خان کی ادبی و شعری چٹکیاں اور چٹان میں بے باک صحافی، صاحب طرز ادیب شورش کاشمیری کی معجزانہ تحریریں ہی انبوہ عام کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھنچتی تھیں۔اور اجتماعی طور پر ان اخبارات و رسائل کو پڑھا جاتاتھا۔کوثر نیازی کا شہاب، نقوش اور ادب لطیف اسی زمرے کے جرائد ہیں۔ موجودہ دور میں ہفت روزہ ضرب مومن،ماہنامہ ترجمان القرآن اورماہنامہ الشریعہ بھی مخصوص لکھاریوں اور اصحاب علم کی وجہ سے مرکزِ نگاہ بنے ہوئے ہیں۔ ہفت روزہ ضرب مومن میں چند جید کالم نگار اور ایک دو تحقیقاتی و تجزیاتی رپوڑٹیں ہی مقبول عام بننے کا سبب ہیں ورنہ معلومات کے تیز ترین دور میں ہفتہ پرانی خبریں کون پڑھے گا۔ آج تو انگلی دبانے کی دیر ہے کہ پوری دنیا سامنے آجاتی ہے ایسے میں ہفت روزہ اخبارات کو اپنا وقار ، معیار اور مارکیٹ ویلیو بنانے اور اپنے وجود کا احسا س دلانے کے لیے کچھ نئی راہیں اور انوکھے طریقے اپنانے ہی پڑھتے ہیں۔

ہفت روزہ جی بی پوسٹ کوبھی اخباری صنعت ،اصحاب علم اور عوامی حلقوں میں زندہ رہنے کے لیے فی الحال کالم نگاروں کی ایک مضبوط ٹیم بنانے کی ضرورت ہے۔ اور ساتھ ہی ہر شمارے کے لیے ایک دو جاندار قسم کی نیوز رپورٹس تیار کرنی ہونگی تاکہ عوام و خاص اخبار پڑھنے پر مجبور ہوجائیں۔ورنہ روزنامہ اخبارات اور انٹرنیٹ کی موجود گی میں ہفتہ باسی خبروں کو کوئی دور سے بھی نہیں دیکھے گا۔یہاں تک کالم نگاروں کی بات ہے تو جی بی پوسٹ کی ٹیم اگر سنجیدگی سے یہ کام کرنے کی کوشش کریں تو انہیں اچھی ٹیم میسر آسکتی ہے۔ یہ خوب جانتا ہوں کہ جی بی پوسٹ والے فی الحال قلم قبیلہ کو کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں لیکن محبت و شرافت پر مبنی درخواست قلم کاروں کے دل پسیجنے کے لیے کافی ہے۔ اگر ہوسکے تو منتھلی ایک لنچ پروگرام میں اپنی ٹیم کے قلم کاروں کو جمع کیا جاسکتا ہے اوران کا بھر پور شکریہ ادا کرکے انہیں مزید جذبے سے لکھنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔آج وہی فاتح عالم ہے جو دلوں کو فتح کرے۔کاپی پیسٹ کالم ،خبریں اور تحریریں آپ کے اخبار کو تباہ تو کرسکتی ہی زندہ نہیں رکھ سکتی۔ آپ مل بیٹھ کر طے کرلیں اور ہر کالم نگار کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کریں ، مجھے امید ہے کہ وہ آپ کومایوس نہیں کریں گے اور وہ آپ کے ڈیمانڈ کے مطابق گلگت بلتستان کے سلگتے مسائل ،معاشرے کے رَ ستے ناسور،ڈوبتی ناؤ،امید کی کرن،پامالیِ حقوق نسواں،ناگفتہ بہ حالات و واقعات اور ان جیسے بے شمار موضوعات کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ، معلومات کی فراہمی اور اخبار کی زندگی کا بیڑہ اٹھائیں گے۔رہی بات تحقیقی نیوزرپوٹس کا تو اس کے لیے آپ خود ہی کوئی لائحہ عمل طے کرسکتے ہیں ، باہر سے آدمی ہائر(hire) کریں گے تو وہ مہنگا پڑ سکتا ہے۔اپنے تلامذہ کو یہ اسائنمنٹ دیا جاسکتا ہے۔ رہا اداریہ : تو اداریہ کسی بھی جریدے کا چہرہ ہوتا ہے۔ جس کا چہرہ بے نور ہواس کی تمام خوبیاں ماند پڑتی ہیں ویسا آج کل عالمی مقابلہ حسن کے لیے چہرے کے علاوہ کچھ اور لوازمات بھی ضروری سمجھے جاتے ہیں جیسے امن کے نوبل انعام کے لیے امن کے علاوہ کچھ اور بھی ضروری ہے۔ خیر اداریہ اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ ایوانوں میں ڈسکس ہونے لگے۔ کیا ایسا ہوگا؟۔’’جان چھڑاؤ ‘‘ ادریوں سے قاری بھی جان ہی چھڑاتا ہے۔

میرے نزدیک صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔صحیفے آسمانوں سے اترتے ہیں تو آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ کتنا مقدس پیشہ ہے۔اس مقدس پیشے کی لاج رکھنا صحافت سے منسلک ہر آدمی کا فرض ہے۔مگر یہاں تو اس کو جنس بازار بنایا جاچکاہے۔ گلگت بلتستان کی صحافت کی جب بھی تاریخ لکھی جاوے گی تو جی بی پوسٹ کے مدیران کو نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔میری گزارش ہے کہ آپ ایک لمحے کے لیے بھی اپنے اخبار پر آنچ نہ آنے دیں۔جو کہنا ہے ڈنکے کے چوٹ پر کہا جاوے۔ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل آپ کا موٹو ہونا چاہیے۔جھکنا آپ کی سرشت میں ہی نہ ہو،حق پر ڈٹنا آپ کا منشور ہو۔ مالی مشکلات آپ کا راستہ نہ روکتی ہو۔اصحاب اقتداراور ان کے چیلوں کے مظالم آپ کے ارادوں کو نہ بدلنے پاوے اور ڈالر کی جھونک ضمیر کونہ خریدنے پاوے۔آپ کو ایک مرد بیمار کے بجائے ایک مرد جری و بے باک کا کردار ادا کرنا ہوگا یعنی ’’یااپنا گریباں چاک یا دامن یزدان چاک‘‘۔

میرا ایک مسئلہ ہے۔ میں نے قنوطیت سے بھاگنے بلکہ دور بھاگنے کا حلف اٹھارکھا ہے۔ غربت میں نام کمانے کے گُر سے واقفیت حاصل کی ہے۔میرا مطالعہ مجھے بتاتا ہے کہ دنیا کے اکثر عظیم ترین لوگ غریب جھونپڑیوں اور جھگیوں سے اُٹھے ہیں۔خدا کو سجدہ کرنے والے اور خانہ خدا کو آباد کرنے والے بھی غریب ہی ہیں۔امید سے دنیا قائم ہے۔تمنائیں ہر کسی کا حق ہے۔کم سے کم امیدوں اور تمناؤں پر تو اقوام متحدہ پابندیاں عائد نہیں کرسکتی۔ سو میں بھی یہ امید اور تمنا کرتا ہوں کہ جی بی پوسٹ پھلے پھولے اور برگ وبار نکالے۔ کیا میں اپنے دوست منیر جوہر، محمدسلیم خان اور متعلقہ احباب کو یہ مشورہ دے سکتا ہوں کہ وہ شورش کاشمیری کے ان اشعار کو اپنا منشور اور پالیسی بنائے۔میں جانتاہوں کہ آپ کے لیے سینکڑوں مسائل ہیں لیکن پھر بھی۔بہرصورت شورش کاشمیر ی نے آزادی صحافت پر ایک نظم کہی ہے اس کے چند بندآپ کی نظر کرتاہوں ۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جاوے میری بات: ؂

تم قلم روک رہے ہو پر تمہیں یاد رہے

ہم وہاں ہیں کہ سفینوں سے لہو ٹپکے گا

دعوتِ فکر کا رکنا ممکن نہیں صاحب

شہر یاروں کی جبینوں سے لہو ٹپکے گا

ہم قلم کار کسی خوف سے دبنے والے نہیں

ہم یہاں پرورشِ دار ورَسن کرتے ہیں

پابہ زنجیر چلے جاتے ہیں مقتل کی طرح

اپنے ہی خون سے مینائے سفر بھرتے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔