ہفت روزہ جی بی پوسٹ، خدشات و تجاویز

ہفت روزہ جی بی پوسٹ(ویکلی گلگت بلتستان پوسٹ) کا پہلا شمارہ دیکھتے ہی ذہن کے نہاں خانوں میں کچھ خدشات اور چند تجاویزگھومنے لگیں۔ نشر و اشاعت کے حوالے سے برادرم منیر جوہر کے ساتھ اس حوالے سے کافی مشاورت بھی ہوتی رہتی ہے۔ تاہم جی بی پوسٹ کے حوالے سے باقاعدہ کوئی تفصیلی گفت و شنید اور نشست نہیں ہوئی۔گلگت بلتستان کی صحافت سے کسی نہ کسی طریقے سے ٹچ رہتا ہوں اس لیے اس کے نشیب وفرازکے متعلق کچھ انفارمیشن بھی رکھتا ہوں۔ کئی اخباری مالکان سے صحافتی دعا و سلام ہے اس لیے بڑی حد تک ان کے کاروباری مسائل سے آگاہ بھی ہوں۔ اس میں دورائے نہیں کا اخبار ایک جاندار قسم کی صنعت کا روپ دھارچکاہے۔اخباری مالکان کی سوچ نشری و صحافتی،ابلاغی اور اپنے وظائف سے زیادہ کمرشل ہوچکی ہے۔کمرشل پر مبنی اس سوچ کے مالکان ا پنے معاصرانہ اخبارات و رسائل کو شدید نقصان اور بھاری گزند پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بلکہ ارباب اختیار سے ملکر ان کا راستہ روکنے کی ہمہ جہت کوششوں میں مبتلا رہتے ہیں۔سازشوں کے تار عنکبوت بنتے رہتے ہیں۔ڈمی اخبارات کا نام دے کر بہت سے حقداروں کا حق روکے رکھنے میں اپنے ’’کاربار‘‘کا بھلا و ترقی دیکھتے ہیںیعنی اپنے راستے سے کانٹے صاف کرتے ہیں۔اس غیر مناسب رویے سے کئی اچھے خاصے اخبارات سخت کرائسس کا شکار ہیں اوراشاعت ملتوی ہوچکی ہے۔کاش کوئی حقیقت نگاران تلخیوں سے پردے اٹھائے۔یہاں ایک اور سوچ سختی سے رواج پکڑ رہی ہے کہ اخبارات میں کام کرنے والا عملہ(ایڈیٹر سے سٹی رپوٹرتک) کا شدیداستحصال کیا جاتا ہے۔معاشی استحصال کی ایسی مثالیں بہت کم اداروں میں ملتی ہیں۔گلگت کی صحافت میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ غیر تربیت یافتہ،جعلی ڈگری ہولڈرز،کم علم اور پرانے پاپیوں نے تربیت یافتہ، ڈگری ہولڈرز اور باخبر نوجوان صحافیوں کا راستہ روکا ہوا ہے جس سے ان کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچنے کے ساتھ ان کی ترقی کے راستے بھی مسدود ہوتے ہیں۔نوجوان قلم کاروں اور صحافیوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کا یہ نامناسب رویہ یقینامثالی معاشرے کی راہ میں ایک عظیم رکاوٹ ہے اور اخبارات کے نکھار میں بھی ۔یہی حال ادب (نثر و نظم ) کے علمبرداروں کا بھی ہے۔وہ تو کسی مبتدی کو خاطر میں ہی نہیں لاتے۔

جی بی پوسٹ کا چیف ایڈیٹر کہنہ مشق صحافی ہے۔ کئی بڑے اداروں میں صحافتی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ماتحت عملہ کے جذبات سے بھی واقف ہے۔ کالم نگاروں کی سوچ سے بھی آگا ہی رکھتے ہیں۔ خود صحافت کے استاد بھی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں ایک دوسروں کے خلاف سازشیں کر نے والے مکروہ چہروں سے بھی واقف ہیں۔بلکہ کئی ایک کے چہروں میں لگے دبیز پردوں کے اندر سے جھانک بھی چکے ہیں۔اور ان کے نہاں خانوں میں پنپنے والی استحصالی سوچ سے بھی واقف ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ان تمام مکروہات سے اجتناب کریں گے۔اور اشاعتی اداروں اور ہم عصراخبارات کے راستے میں کانٹے بچھانے والے کالے بھجنگوں اور سیس ناگوں سے دامن بچاتے ہوئے اپنے پروفیشنل امور انجام دیں گے۔ انشاء اللہ

بطور ماحضر چند باتیں ہمارے دل و ماغ میں آئی تو مناسب جانا کے قرطاس ابیض میں اتاردیں ، شاید کسی کے کام آجاوے۔یہاں تک خدشات کی بات ہے تو اشارۃََ و کنایۃََ بلکہ استعارۃََہم نے ماقبل میں ذکر کردیا ہے۔میرے سامنے بہت سی مثالیں ہیں کہ کچھ اپنوں کی ریشہ دوانیوں اور کچھ غیروں کی کارستانیوں سے ، اور کافی ساری اخباری مالکان کی اپنی خرمستیوں سے ان کے اخبارات مختلف بحرانوں کا شکار ہوئیں اور بالآخر مکمل بند ہوئی یا اشاعت میں طویل تاخیر ہوئی اور ان کا امیج بری طرح متاثر ہوا۔یہی خدشات جی پوسٹ کے ساتھ بھی لاحق ہوسکتی ہیں بلکہ مگرمچھ کی طرح منہ کھولے انتظار کررہی ہیں لہذا تمام ذمہ دار عملے کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے کہیں نومولوگی میں بھی اُکھیڑ نہ دیے جاوے یا خود پچھڑجاوے۔

ہمارا ایک عدد مشورہ فری میں حاضر ہے۔مشورہ دینے میں کونسا میں حرج ہے۔اور نہ ہی اس میں کوئی بڑا بجٹ انوال ہے۔ویسے بھی مشورہ اس لیے دیا جاتا ہے کہ اس پر عمل نہ کیا جاوے۔بلکہ دیوانے کی بَڑ کو مشورہ کے بجائے تجویز ہی خیال کیا جائے کیونکہ مشورہ کا مطلب باہمی تجویز ہے جبکہ یہ ہماری انفرادی تجویز ہے۔ جی بی پوسٹ کے چیف ایڈیٹر اور ایڈیٹر اور ذمہ دار عملے سے گزارش ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے جید کالم نگاروں پر مبنی ایک ٹیم تشکیل دیں۔یہ ذہن میں رہے کہ کالم نگار صاحب اُسلوب ادبی و صحافتی سوچ کا مالک’’ حیوان‘‘ ہو۔صرف ’’حیوان ‘‘ہونا کافی نہیں بلکہ معاشرتی وسیاسی حیوان ہو۔یعنی حیوان ناطق۔ طرز کہن پہ اَڑتا نہ ہو اور آئین نو سے ڈرتا نہ ہو۔چار پانچ افراد پر مشتمل کالم نگاروں یہ کی ٹیم اخبار کو زندہ جاوید رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرسکتی ہے۔دبستان صحافت میں کئی ایسے اخبارات تھے جو چند ایک جری اور صاحب اسلوب لکھاری، انشاء پردار اور خوش نواشاعروں کی وجہ سے ہی زندہ و تابند ہ تھے۔معارف اعظم گڑھ،ہفت روزہ البلاغ والہلال ،ہمدرد ، ہفت روزہ چٹان کا لوگ شدت سے صرف اس لیے انتظار کرتے تھے کہ معارف میں سیدسلیمان ندوی کے علمی مضامین،البلاغ و الہلال میں ابوالکلام آزادکے ادبی شہ پارے، ہمدرد میں ظفر علی خان کی ادبی و شعری چٹکیاں اور چٹان میں بے باک صحافی، صاحب طرز ادیب شورش کاشمیری کی معجزانہ تحریریں ہی انبوہ عام کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھنچتی تھیں۔اور اجتماعی طور پر ان اخبارات و رسائل کو پڑھا جاتاتھا۔کوثر نیازی کا شہاب، نقوش اور ادب لطیف اسی زمرے کے جرائد ہیں۔ موجودہ دور میں ہفت روزہ ضرب مومن،ماہنامہ ترجمان القرآن اورماہنامہ الشریعہ بھی مخصوص لکھاریوں اور اصحاب علم کی وجہ سے مرکزِ نگاہ بنے ہوئے ہیں۔ ہفت روزہ ضرب مومن میں چند جید کالم نگار اور ایک دو تحقیقاتی و تجزیاتی رپوڑٹیں ہی مقبول عام بننے کا سبب ہیں ورنہ معلومات کے تیز ترین دور میں ہفتہ پرانی خبریں کون پڑھے گا۔ آج تو انگلی دبانے کی دیر ہے کہ پوری دنیا سامنے آجاتی ہے ایسے میں ہفت روزہ اخبارات کو اپنا وقار ، معیار اور مارکیٹ ویلیو بنانے اور اپنے وجود کا احسا س دلانے کے لیے کچھ نئی راہیں اور انوکھے طریقے اپنانے ہی پڑھتے ہیں۔

ہفت روزہ جی بی پوسٹ کوبھی اخباری صنعت ،اصحاب علم اور عوامی حلقوں میں زندہ رہنے کے لیے فی الحال کالم نگاروں کی ایک مضبوط ٹیم بنانے کی ضرورت ہے۔ اور ساتھ ہی ہر شمارے کے لیے ایک دو جاندار قسم کی نیوز رپورٹس تیار کرنی ہونگی تاکہ عوام و خاص اخبار پڑھنے پر مجبور ہوجائیں۔ورنہ روزنامہ اخبارات اور انٹرنیٹ کی موجود گی میں ہفتہ باسی خبروں کو کوئی دور سے بھی نہیں دیکھے گا۔یہاں تک کالم نگاروں کی بات ہے تو جی بی پوسٹ کی ٹیم اگر سنجیدگی سے یہ کام کرنے کی کوشش کریں تو انہیں اچھی ٹیم میسر آسکتی ہے۔ یہ خوب جانتا ہوں کہ جی بی پوسٹ والے فی الحال قلم قبیلہ کو کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں لیکن محبت و شرافت پر مبنی درخواست قلم کاروں کے دل پسیجنے کے لیے کافی ہے۔ اگر ہوسکے تو منتھلی ایک لنچ پروگرام میں اپنی ٹیم کے قلم کاروں کو جمع کیا جاسکتا ہے اوران کا بھر پور شکریہ ادا کرکے انہیں مزید جذبے سے لکھنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔آج وہی فاتح عالم ہے جو دلوں کو فتح کرے۔کاپی پیسٹ کالم ،خبریں اور تحریریں آپ کے اخبار کو تباہ تو کرسکتی ہی زندہ نہیں رکھ سکتی۔ آپ مل بیٹھ کر طے کرلیں اور ہر کالم نگار کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کریں ، مجھے امید ہے کہ وہ آپ کومایوس نہیں کریں گے اور وہ آپ کے ڈیمانڈ کے مطابق گلگت بلتستان کے سلگتے مسائل ،معاشرے کے رَ ستے ناسور،ڈوبتی ناؤ،امید کی کرن،پامالیِ حقوق نسواں،ناگفتہ بہ حالات و واقعات اور ان جیسے بے شمار موضوعات کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ، معلومات کی فراہمی اور اخبار کی زندگی کا بیڑہ اٹھائیں گے۔رہی بات تحقیقی نیوزرپوٹس کا تو اس کے لیے آپ خود ہی کوئی لائحہ عمل طے کرسکتے ہیں ، باہر سے آدمی ہائر(hire) کریں گے تو وہ مہنگا پڑ سکتا ہے۔اپنے تلامذہ کو یہ اسائنمنٹ دیا جاسکتا ہے۔ رہا اداریہ : تو اداریہ کسی بھی جریدے کا چہرہ ہوتا ہے۔ جس کا چہرہ بے نور ہواس کی تمام خوبیاں ماند پڑتی ہیں ویسا آج کل عالمی مقابلہ حسن کے لیے چہرے کے علاوہ کچھ اور لوازمات بھی ضروری سمجھے جاتے ہیں جیسے امن کے نوبل انعام کے لیے امن کے علاوہ کچھ اور بھی ضروری ہے۔ خیر اداریہ اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ ایوانوں میں ڈسکس ہونے لگے۔ کیا ایسا ہوگا؟۔’’جان چھڑاؤ ‘‘ ادریوں سے قاری بھی جان ہی چھڑاتا ہے۔

میرے نزدیک صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔صحیفے آسمانوں سے اترتے ہیں تو آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ کتنا مقدس پیشہ ہے۔اس مقدس پیشے کی لاج رکھنا صحافت سے منسلک ہر آدمی کا فرض ہے۔مگر یہاں تو اس کو جنس بازار بنایا جاچکاہے۔ گلگت بلتستان کی صحافت کی جب بھی تاریخ لکھی جاوے گی تو جی بی پوسٹ کے مدیران کو نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔میری گزارش ہے کہ آپ ایک لمحے کے لیے بھی اپنے اخبار پر آنچ نہ آنے دیں۔جو کہنا ہے ڈنکے کے چوٹ پر کہا جاوے۔ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل آپ کا موٹو ہونا چاہیے۔جھکنا آپ کی سرشت میں ہی نہ ہو،حق پر ڈٹنا آپ کا منشور ہو۔ مالی مشکلات آپ کا راستہ نہ روکتی ہو۔اصحاب اقتداراور ان کے چیلوں کے مظالم آپ کے ارادوں کو نہ بدلنے پاوے اور ڈالر کی جھونک ضمیر کونہ خریدنے پاوے۔آپ کو ایک مرد بیمار کے بجائے ایک مرد جری و بے باک کا کردار ادا کرنا ہوگا یعنی ’’یااپنا گریباں چاک یا دامن یزدان چاک‘‘۔

میرا ایک مسئلہ ہے۔ میں نے قنوطیت سے بھاگنے بلکہ دور بھاگنے کا حلف اٹھارکھا ہے۔ غربت میں نام کمانے کے گُر سے واقفیت حاصل کی ہے۔میرا مطالعہ مجھے بتاتا ہے کہ دنیا کے اکثر عظیم ترین لوگ غریب جھونپڑیوں اور جھگیوں سے اُٹھے ہیں۔خدا کو سجدہ کرنے والے اور خانہ خدا کو آباد کرنے والے بھی غریب ہی ہیں۔امید سے دنیا قائم ہے۔تمنائیں ہر کسی کا حق ہے۔کم سے کم امیدوں اور تمناؤں پر تو اقوام متحدہ پابندیاں عائد نہیں کرسکتی۔ سو میں بھی یہ امید اور تمنا کرتا ہوں کہ جی بی پوسٹ پھلے پھولے اور برگ وبار نکالے۔ کیا میں اپنے دوست منیر جوہر، محمدسلیم خان اور متعلقہ احباب کو یہ مشورہ دے سکتا ہوں کہ وہ شورش کاشمیری کے ان اشعار کو اپنا منشور اور پالیسی بنائے۔میں جانتاہوں کہ آپ کے لیے سینکڑوں مسائل ہیں لیکن پھر بھی۔بہرصورت شورش کاشمیر ی نے آزادی صحافت پر ایک نظم کہی ہے اس کے چند بندآپ کی نظر کرتاہوں ۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جاوے میری بات: ؂

تم قلم روک رہے ہو پر تمہیں یاد رہے

ہم وہاں ہیں کہ سفینوں سے لہو ٹپکے گا

دعوتِ فکر کا رکنا ممکن نہیں صاحب

شہر یاروں کی جبینوں سے لہو ٹپکے گا

ہم قلم کار کسی خوف سے دبنے والے نہیں

ہم یہاں پرورشِ دار ورَسن کرتے ہیں

پابہ زنجیر چلے جاتے ہیں مقتل کی طرح

اپنے ہی خون سے مینائے سفر بھرتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

12 تبصرے “ہفت روزہ جی بی پوسٹ، خدشات و تجاویز

  1. بہت خوب صاحب۔۔۔عمدہ تحریر ہے۔۔۔۔گلگت بلتستان کی صحافت کا بھی کم و بیش وہی حشر ہے جو وہاں کی سیاست کا ہے

    یعنی
    ع۔۔۔۔ گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
    جو امر زیادہ تکلیف دہ ہے ، جس کا آپ نے بھی ذکر فرمایا، وہ یہ کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا صحافی بنا ہوا ہے۔ دکان داری کے

    بعد صحافت ایسا شعبہ بن گیا ہے جہاں ہر طرف سے دھتکارا ہوا آدمی قسمت آزمائی کر سکتا ہے ، اس کےلیے تعلیم ضروری

    ہے نہ تربیت۔بس کسی سیا سی لیڈر کی دلالی کا فن آنا ضروری ہے۔ان تماش بینوں نے صحافت کے تقدس اور حرمت کی

    طرف سے آنکھیں بند کرکے اس طوائف کے جسم کی کمائی کھانے پر اکتفا کیا ہوا ہے۔صحافت کی ابجد سے واقف نہیں۔

    بمشکل تمام چار لائنیں کاغذ پر گھسیٹتا ہے وہ اغلاط سے بھرپور اور تذکیر و تانیث کا وہ حشر کہ الامان والحفیظ۔ گرامر کی شرحیں

    تو رہی ایک طرف، زندہ انسانوں کے جنس میں خلل ڈال کر حظ اٹھاتا ہے۔
    اس سے بھی زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب یہی نام نہاد صحافی بڑی بڑی گاڑیوں میں آپ کے پاس سے زناٹے سے گزر جاتے ہیں

    ۔کسی بڑے نیوز چینل کا مائیک گاڑی کے شیشے کے ساتھ ایسے رکھا ہوتا ہے کہ واضح نظر آئے۔اور آپ دھوئیں اور گرد و

    غبار میں چھپے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ صحافت میں ایمانداری اب بے وقوفی ہے۔ یہاں اب اپنے ضمیر کو جسم کی مانند بیچنے

    والا ہی صحافی ہے ، جو ایماندار ہے اور مستحق ہے ، ڈگری رکھتا ہے وہ کسی شمار میں ہے نہ قطار میں۔۔۔۔۔۔۔

  2. haqqani sab, nice article likha ha, ap ny GB k tamam sahafiyoon ki tarjumani ki h, aur sahafat k name p zrd sahafat krny waloon ko oojal kya h. dil sy mubark ho, jis by name sahafi ny coments kya ha wo bi 100 fisad such h janab, allah apko khosh rakhy aur such likhny ki tofiqq dy

  3. DEAR SIR, I READ YOUR ARTICLE, Realy I enjoy, tomorrow i discus with u in class sir some things about writing inshaalah

  4. hahahahahahaha.haqqani sb ap kya samujty ho, kya ap ky is tarah likhny s gilgit baltistan k sahafi apni rawish badliangy? nhi janab. ya ap ki kamfihmi ha. rahi bat apko ko alfaz ky sath khilna ata ha is lia asa likhty ho janab. ya game ap ny acha sikha ha, wrana jin talimyafta and digree holdrz ki bat ap krty ho wo b zrd sahafat m kisi sy kam nhi, maray pas bohot saroon ky bary proof hann janab, ap ny akhbari malikan ki jo bat ki h woo such ha.socaity ky asal zalim aur lutary yahi log han janab. baher surat apko likhty rihna chahai, wasy ap bi joot sy kam lity ho, kabi kabi chilas ki hamdardi m ap such ko jhoot aut jhoot ko such likhty ho yar, ya aisa mat kro na, ap allover observation kr ky q nhio likht ji,, chalooo jasy bi likhty ho likho, aj ak sinior sahafi aki tihrir p bada gusa tha, yara aisa to mat kijy na.ak bat batata hon k aksar writer apki tihreer zaroor apdty han kuch nak bhoon b chadaty han.

  5. Dear Mr Haqqani,Articl to jandar likha hy mga ap sy mukmal itfaq to nhi kya ja skta ha na janab. realy , ur A Good writer and Teachear han mgr bohot sy lhbab apki tehrer sy itifaq nhi krty because some time U Write worng things, but phir bi janab apki strgulz ko wellcom kihna chahy.

  6. ARY YAR AP NY TO NAM NIHAD SAHAFIYOON KA MUH KALA KR DYA, SAMUJ LO KAF SARY APKI TIHRIR SY NARAZ HAN , WASY MAZAQ MAZAQ M AP NY BOHOOT KUCH KEH DYA JANAB. UN KA NARAZ HONY SY APKA KYA BIGRHY GA HAQQANI SAB.

  7. حقانی صاحب تعریفی کلمات سے ہٹ کر ایک بات یہ انسانی فطرت ہے کہ جو بات اس کے حق میں جاتی ہے تو وہاں اس کے منہ سے واہ واہ اور جب بات انسانی طبعیت سے ہٹ کر ہو تو منہ بسورنا بھی اسی انسان کی خُو میں شامل ہے۔بحر الحال مفت مشورہ اور تجویز کسی کو عنایت کرنا کبھی کبھار اس محاورہ کے مصداق آ بیل مجھے مار والی بات بن جاتی ہے جب آپ نے تجویز اور مشورہ لکھ چھوڑا ہے تو اب آپ دل گردہ بڑا کر کے مار اور پیار دونوں کے لئے تیار رہیں ۔یہاں اس میدان میں سب ننگے ہیں چاہئے وہ تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈر ہوں یا ان پڑھ۔گلگت بلتستان کی صحافت کیا ہے بے چارے پدی کیا تو پدی کا شوربہ بس مزدوری سمجھیں یہ سب اخباری مالکان کے ملازم اور نوکر ۔۔نوکر کا کام کیا ہوتا ہے خدمت تو جناب ان لوگوں کو صحافی کے بجائے خدمتگار کہا جائے تو مناسب لگے گا۔فن سے واقف ہونا فن کا ذوق رکھنا اور بات ہے لیکن فنکار بننا بہت مشکل کام ہے اور اس مشکل کام کا آپ نے آرٹیکل میں ذکر کیا ہے مشکل تو یہی ہے کہ ہم ان مشکلوں سے گزرنا نہیں چاہتے اور تیار شدہ کھانا تناول کرنا چاہتے ہیں باقی صحافت کو صحافت سمجھنے والے صحافی ساری حقیقت سے آشنا ہیں

  8. Dears Dost Ahbab: tamam dosto ky Coments Ajj Dakh liya, Her ak ny apni Soch ky mutabiq likha ha. thanks For All Brotherz/ Ya Ap ki muhabbat ha kai ap log is Faqqer ki kamzooor si Tehreer Goor sy Padty Han,Aaenda b sath Rahiy Ga . Ak Dafa phir Thanks.. Ur Amir jan Haqqani From Gilgit

  9. سلام دوستو ، آج ایک ایسے مقامی ھفت روزہ اخبار نے بھی میری خبریں اپنے کھاتے میں ڈال کر پرنٹ کی ھے جس کا دعوی تھا کہ یہ واحد اخبار ھے جس کی سر پرستی انتہائی اعلی تعلیم یافتہ اور پیشہ وار صحافیوں کی ٹیم کر رہی ھے
    اس اخبار کی پیشانی پر ایک ایسا معتبر نام لکھا ھے جن کے احترام میں کچھ کہنے کی جسارت نہیں کرسکتا
    لیکن آج مجھے ایک احسان فراموش نام نہاد کالم نگار کا حال ہی میں لکھا گیا وہ مضمون یاد آرہا ھے جس میں موصوف نے مذکورہ ہفت روزہ کی شان میں قصیدے لکھتے ھو ے مقامی صحافیوں کی مٹی پلید کرنے کی بھر پور کوشش کی تھی
    آج اگر ان صاھب میں اخلاقی جرات ھے تو ذرا یہ بتا دیں کے ایک خبر رساں ادارے( inp gilgit ) کی خبریں ادارے سے بغیر معاہدہ کے اپنی رپورٹ ظاہر کر کے پرنٹ کرنے کا نام صحافت ھے …………؟
    کیا دوسروں کی خبریں چوری کرنے کا نام ، پیشہ وارانہ صحافت ، ھے
    ھم نا لایق ، نہ تجربہ کار سہی
    کیا یہ ھوتا ھے کام پرفیشنلز کا ………………………؟

  10. DEAR, Bukhari sab, i think apko Galat fihmi hoai ha kia ma na kisi ki matti paleed ki ha,muja jo manzar samuj aya Raqum kya h. Apka Name nihad likhna to Samuj m ata ha, Apka haqq ha, ap senior Admi ha,ap jo Zuban Use kry, ap kr skty han. mgr Ehsan faramoosh likhna aur kihna Ma Sumujh nhi saka bhai, Agr ap ny nacheez p koi Ehsan kya ha to apka bohot thanks, plz muja bataiy ga, M apki Ehsan ka badla Ehsan hi ky Zarie Ada .kronga, Allah apki neet ky Mutabiq apko Jaza dain, apna bohot khayal kija ga.

  11. برادان مکرم: اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کس نے کس کی مٹی پلید کی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ گلگت بلتستان کی صحافت پر قابض ہیںوہی لوگ اپنے آپ کو تنقید اور اصلاح سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ کیا یہ ایک سچ نہیں ہے کہ یہی رپورٹر اور اخباری مالکان ہرسرکاری اور غیر سرکاری ادارے کے لوگوں کو حسبِ توفیق بلیک میل کرتے رہتے ہیں۔ مگر جب کوئی ان کو ان کے آئینے میں ان کی شکل دکھائے تو یہ لوگ سیخ پا ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ تو اپنے متعلق ایک بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ کیا یہ ایک حقیقت نہیں کہ میڈیا ریاست کا چوتھا پلر ہوتا ہے مگر گلگت بلتستان میں ایک بھی چینل کی آفس ہے؟ میری خیال میں ان چینلوں کا یہاں کی طرف رخ نہ کرنا بھی ان نام نہاد بازاری رپورٹروں کی ناکام پرفارمنس ہے۔ اگر ان میں جرأت ہے تو یہ لوگ تمام چینل کو یہاں آنے پر مجبورکریںف۔ ایسا ناممکن ہے، یہ لوگ تو ایک دوسروںکے خلاف ہی لگے رہتے ہیں۔ ان میں اتنی اخلاقی جرات کہا کہ یہ لوگ صحافت کی بہتری کے لیے کچھ کرسکیں۔اس کالم نگار کو میں نہیں جانتا مگر اس نے جو لکھا ہے وہی سچ ہے۔ میری خیال میں اس نے پھر بھی مداہنت سے کام لیا ہے۔ ورنہ اس سے بھی سچ بہت مختلف ہے۔

  12. ڈیئر برادران کرام: میں پامیر ٹائمز اور دیگر اخبارات اور ویب سائٹس کا کافی پرانا قاری ہوں۔لوکل اخبارات کے ساتھ قومی اخبارات بھی بلاناغہ اسٹڈی کرتا ہوں۔پامیر ٹائم کی نیوز اسٹوریز اور کالمز اکثر پڑھتا ہوں۔ پہلی دفعہ یہ ثاثرات لکھ رہا ہوں۔ اوپروالا کالم میں نے غور سے پڑھا۔غور سے پڑھنے کی وجہ ظاہر تھی کہ اس پر عجیب و غریب کمنٹس دیے گئے ہیں۔قارئین نے عجیب سے خیالات کا اظہار کیا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ یہ تمام حضرات گلگت بلتستان کے مختلف ایریاز کے صحافی ہیں۔میں حیران اس بات پر ہوں کہ آخر صحافیوں کو غصہ کیوں آرہا ہے اور کچھ لوگ کالم نگار کی تعریفیں کیوں کرتے ہیں۔ یہ تو سیدھی سی بات ہے کہ اس نے جو سمجھا لکھ ڈالا۔ ثاتراتی کالم کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ثاترات و تجربات سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے۔ اب اس کالم نگار کو وہی سمجھ آیا تو اس نے لکھ دیا۔اس نے صراحتا کسی کو گالی تو نہیں دی۔میر ی خیال میں ہم سے مجموعی طور پر صبر کا مادہ ختم ہوچکا ہے۔ اگر کوئی صاحب سمجھتا ہے کہ اس قلم کار نے حالات کی درست نشاندہی نہیں کی ہے تو اس کے جواب میں درست نشاندہی کی جانی چاہیے،یہ آدمی لگتا تو مولوی ٹائپ کا مگرا س نے اک سال قبل وزیر بیگ اسپیکر اسمبلی کے متعلق بھی حقائق پر مبنی ا یک کالم لکھا تھا تب بھی بہت سارے لوگ اپنے اپنے کمنٹس پوسٹ کررہے تھے۔ ؛
    یہ بات لازمی تو نہیں کہ اس کے کالم کے ساتھ ہر کوئی اتفاق کرے۔ معاشرے میں بہتری اس وقت آئے جب اس میں تنوع ہوگا تو۔ بھائی ایک آدمی نے بالفرض آپ کے بارے میں لکھا ہے تو دیکھو اگر وہ چیز آپ میں پائی جاتی ہے تو اس کی اصلاح کرو اگر آپ میں وہ کمزوری اور خامی نہیں پائی جاتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرو اور اس بندے کا بھی، کیونکہ اس کی وجہ سے آپ کے گناہ ختم کردیے جائیں گے روز قیامت۔آپ اپنی سوچ مثبت رکھو۔ اگر آپ حق پر ہیں تو ایسے لوگ خودبخود خاموش ہوجائیںگے اگر نہیں تو پھر اس کا حق ہے کہ و ہ سچ لکھئے۔ یاد رکھا جائے کا سچ چھپتا نہیں۔ سچ کی تلاش جاری رہتی ہے، آج نہیں تو کل اس نے ظاہر ہونا ہوتا ہے۔غصہ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ایک صاحب نے شکایت کی ہے کہ اس کی خبریں کوئی دوسرا ادارہ اپنے نام سے شائع کرتا ہے۔ بھائی یہ تو بالکل غلط اور خیانت کی بات ہے۔اس ادارے کو ایسابالکل مت کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں یہ صحافتی خیانت ہے۔ اس سے پچنا چاہیے۔کیا اس کو زرد صحافت نہیں کہا جاسکتا؟ مجھے نہیں پتہ کہ زرجرنلزم کس کوکہا جاتا ہے۔ خیر یہ کچھ مجھے سمجھ آیا تو لکھ ڈالا، نہ مجھے کسی سے غرض ہے نہ کسی کی مخالفت اور حمایت سے سروکار ہے۔ تم جانو تمہارا معاملہ، اپنےopinionسے آپ کو آگاہ کیا۔ اگر کوئی دوست میری کمزور کمزور باتوں سے ناراض ہے تو معاف کیجئے گا۔گلگت کی صحافت پر کچھ دن پہلے ایک اور کالم بھی پبلش ہوا تھا۔اس میں بھی تو اخبارات اور ان کے مالکان کو خوب سنایا گیا تھا۔ میں کبھی ٹائم نکال کر اس کالم کو بھی دوبارہ پڑھتا ہوں کہ اس صاحب نے کیا لکھا تھا، سرسری پڑھا تو تھا مگر ذہن میں نہیں ہیں اس کے مندرجات، خدا حافظ دوستو! اس ہائیڈ پارک میں ہم نے بھی اپنا حصہ ڈال دیا، اب دیکھو کون کیا کہتا ہے ہم کو۔ جب تک اس طرح کے موضوعات پر مکمل مباحثہ نہیں ہوگا تب تک اصل حقائق واضح نہیں ہونگے،

تبصرے بند ہیں