ضمیر برائے فروخت

ضمیر برائے فروخت

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یہ کسی اخباریا ٹی وی کا اشتہار نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے سیاست دانوں کی کہانی ہے جسے عموما گلگت بلتستان کے سیاست دان ہمیشہ جیب میں رکھ کر گھومتے ہیں تاکہ وقت ضرورت بغیر کسی تاخیر کے استعمال کرسکے ۔آج کوشش کروں گا کہ اس اشتہار کے مختلف کرداروں پر کچھ بات کریں جو عرصے دراز سے گلگت بلتستان کی سیاست کا حصہ ہے اور انہی کرداروں نے نچلی سطح سے مرکز کی سطح تک کے نظام کی دھجیاں اُڑا رکھی ہوئی ہے۔

بدلتی ہوئی سیاسی منظرنامے کے پیش نظرمسقبل قریب میں اس اشتہار کے کرداروں کی قیمت میں اضافہ ہونے کا بھی اندیشہ ہے گلگت بلتستان کی سیاست میں یہ اشتہار مختلف انواع کے پائے جاتے ہیں جو دیہی سطح سے شروع ہو کر مرکز تک پھیلا ہوا ہے۔میں ایک دیہاتی ہوں لہذا کوشش کروں گا کہ دیہات کی سطح سے ان کرداروں پر کچھ بات کریں کیونکہ دیہاتوں میں یہ کردار کم دام میں دستیاب ہوتا ہے بس چند کوہل کے ٹھیکے اور کچھ دیہی فنڈ اور چند چپراسی اور خاکروب کی نوکری ہی اس اشتہار کے کرداروں کی اوقات ہوتی ہے ۔اگر ان میں کسی ایک کا کچھ حصہ بھی انہیں مل جائے تو گاوں میں وہ طوفان مچا دیتے ہیں جسے بیاں نہیں کر سکتے یہاں تک اپنے مطلب کیلئے رشتے توڑوا دیتے ہیں۔ ضمیر فروشی کی انتہا یہ ہے اکثر بیشتر یہ لوگ اسے دینی فریضہ سمجھ کر صاحب ممبر حضرات کو بھی اپنے اشتہار کے مالک کی تعریف اور مخالف کے خلاف پروپگنڈے کرنے کیلئے قائل کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اگر یونین کونسل کی سطح پر بات کریں تو ان کرداروں کی قیمت میں کچھ اضافہ ہوتا ہے جیسے کچھ سرکاری سکول کا ٹھیکہ کچھ لنک روڈ اور اس طرح کے کچھ مخصوص نوکریوں تک اوقات ہوتی ہے۔یونین کونسل کی سطح پر بھی یہی ضمیر فروش لوگ اپنے مفاد کی خاطر مقامی علماء کو بھی استعمال کرکے ووٹ کو کبھی دینی فریضہ اور کبھی معاشرے کی ضرورت سمجھ کر عوام کو ورغلایا جاتا ہے۔اب جب یہ تمام مراحل طے ہوتے ہیں تو مرکزی کردار کوشش کرتے ہیں کہ مرکز میں انہیں ایساپارٹی مل جائے جو انکی ضمیر کا اچھا سودا کر سکے تاکہ عوام کو بیوقوف بنا کر کرسی تک پونچانے والے کرداروں کو خوش کرسکے ۔

آج اگر ہم گلگت بلتستان کی سیاسی منظرنامے پر نظر دوڑائیں تو ان کرداروں کی بڑی طلب نظر آرہی ہے کیونکہ ایک طرف الیکشن قریب ہے دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی تخت گلگت بلتستان کیلئے بڑی کھنچا کھنچی چل رہی ہے ساتھ میں کچھ مذہبی جماعتیں بھی اللہ رسول اور آئمہ کے نام پر ووٹ مانگے کی تیاری میں ہے لیکن ایک بات گلگت بلتستان کی سیاست کے حوالے سے طے ہے کہ یہاں اُس پارٹی کی حکومت ہوگی جنہیں وفاق کی اشرباد حاصل ہو یہ بات اس اشتہار کے سارے کردار بھی اچھی طرح جانتے ہیں یہی سبب ہے کہ پہلے سے ہی وفاداریاں تبدیل ہونا شروع ہوچکی ہے جسکی پہلی مثال سکردو حلقہ تین اور خپلو میں دیکھا گیا ۔گلگت بلتستان کے سیاست دانوں کے بارے میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ معاشرتی اصول سیاسی اخلاقیات ایک تو پہلے سے کم ہے لیکن بدلتی حکومت کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ وقت پڑے تو یہ لوگ کرسی اور عہدے کیلئے اس دھرتی کو بھی قربان کر سکتا ہے بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سیاست دان اس دھرتی کو آج تک اپنی مفاد کیلئے استعمال کرتے رہے لیکن اس دھرتی کی بقاء اور اس کی حقوق کی کبھی بات نہیں کی۔

پچھلے دنوں فیصل رضا عابدی صاحب کا ایک اخباری بیاں نظر سے گزرا جس کے مطابق گلگت بلتستان کے وزراء پٹرول کی بل نوکری اور ٹھیکے مانگنے کیلئے اسلام آباد کے بڑے چکر کاٹے ہیں لیکن گلگت بلتستان کی حقوق کے حوالے سے کبھی سنجیدہ گفتگو نہیں کرتے۔اس بیاں کے بعد کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہوا کہ جب وفاق میں اُنکی حکومت تھی تو ایسا کیوں نہیں کیا؟اُن تمام حضرات کیلئے عرض ہے کہ بچھلے 66سال سے جس خطے کو شمالی علاقہ جات کہہ کر اس خطے کی اصل شناخت ختم کرنے کی کوشش کی جارہی تھی ۔جس خطے کو کبھی فاٹا اور کبھی فانا کے نام سے پُکارے جاتے تھے کم از کم گلگت بلتستان کا نام دیکر کر یہ پیغام دیاکہ اب اپنے حقوق کیلئے خود اُٹھ کھڑے ہو۔فیصل رضا عابدی کا بیاں بھی اسی سلسے کی ایک کڑی ہے جس میں عوام کو بیدار ہونے کا ایک مثبت پیغام ہے اور اُنکا یہ بیاں ایک ایسی حقیقت ہے جسے گلگت بلتستان کے شعور رکھنے والے لوگ ایک دھائی سے محسوس کررہے ہیں اور عوام کو ان وفاقی نوکروں کے بارے میں اگہی بھی دینے کی کوشش بھی مسلسل ہورہی ہے لیکن بات پھر وہی ہر بار الیکشن میں یہی لوگ مقامی ضمیر فروشوں کے ذریعے غریب عوام سے جھوٹے وعدوں کے ذریعے ووٹ خرید لیا جاتا ہے جس کے عوض جیسے اُوپر ذکر کیا کچھ خاکروب کی نوکری اور کچھ فنڈز کھانے کو ملتے ہیں۔

اگر یہی لوگ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ذریعے قومی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ فیصلے کرتے تویقیناًآج گلگت بلتستان کو ایک مقام مل چکا ہوتا لیکن بدقسمتی سے ہمارے سیاست دانوں میں وہ ہمت اور وہ عزم کہاں سے لائیں جسکی قوم کو بیدار کرنے کیلئے ضرورت ہوتی ہے ہمارے رہنماوں نے تو ہمیشہ رہنمائی کے بجائے رہزنی کے راستے دکھاتے ہیں اس دھرتی کو جو امن اور اتشی کا پیامبر سمجھا جاتا تھا یہاں غیرمقامی مُلاوں کے ذریعے نفرتیں پھیلاتی رہی جس کی بدولت اس دھرتی کے عوام کو کئی سانحات سے گزرنا پڑا لیکن ان نام نہاد غیرآئینی وزراء پر کوئی اثر نہیں ہو ا۔ہونا تو یہ چاہے تھا کہ اس دھرتی کے مجرموں کو کیفرکردار تک پونچانے کیلئے تمام مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کے مابین مشترکہ حکمت عملی طے کرے۔ آج ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ایک خاص طبقے کے خلاف جہاد جاری ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔شوشل میڈیا پر کئی بلاگ اس وقت فرقہ وریت کے اکھاڑے بنے ہوے ہیں لیکن نہ ایسے بلاگ چلانے والوں کو خبر ہے نہ یہاں کی محکمہ داخلہ کو فکر ہے. بس اس دھرتی کا ہمیشہ کی طرح اللہ ہی حفاظت کرنے والا ہے۔

ان تمام بُرائیوں کی خاتمے کیلئے پہلی حکمت عملی کے طور پر امید ہے کہ آنے والے الیکشن میں قوم پرست فیکٹر کا بڑا عمل دخل ہوگا اور قوم پرست عناصر ہی اس خطے سے وفاق پرست ضمیر فروشوں کا صفایا کر سکتے ہیں۔کیونکہ بچھلے 66میں وفاق پرستی نے اس خطے کو فرقہ واریت دہشت گردی اور کرپشن کے سوا کچھ نہیں دیا ایسے میں گلگت بلتستان کے عوام کو چاہے کہ قوم پرست سیاست دانوں کو اپنے خطے کی بہتر مسقبل کیلئے آگے لائیں تاکہ گلگت بلتستان کی سیاست سے ضمیر فروشی اور مفاد پرستی کا خاتمہ ہو سکے۔آخر میں پرنٹ میڈیا کے حوالے سے بھی چند باتیں لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ میڈیا بھی ریاست کا ایک ستون سمجھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس خطے کی میڈیا میں بھی کچھ اخبارات ایسے ہیں جو نام تو گلگت بلتستان کا استعمال کرتے ہیں اور اس خطے کی حقیقی نمائندگی کا دعویٰ بھی کرتے ہیں لیکن حقیقت میں انہیں یہاں کی مسائل اور ضرورت سے کوئی سروکار نہیں ۔اس خطے کے مخصوص اخبارات کے حوالے سے راقم نے پہلے بھیکئی مضامین لکھے اس کے علاوہ اور بھی کئی صاحب قلم حضرات نے اس مسلے پر کالمز لکھے لیکن جس خطے کا کوئی آئینی حیثیت نہیں وہاں اس طرح کی ضمیر فروشوں کی نشاندہی کرنے سے بھی کچھ بدلتے نظر نہیں آرہے۔

گزشتہ دنوں شوشل میڈ یا پر ایک اخباری کٹ پیس دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ کچھ مقامی اخبارات اداریہ لکھنے کیلئے بھی غیر مقامی لوگوں کی خدمات لیتے ہیں اور اس بات پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں اس سے ذیادہ شرم کی بات نہیں کہ اب تک گلگت بلتستان سے اسطرح کے اخباروں کو اداریہ لکھنے والا نہیں مل سکا جب کہ اس شعبے سے منسلک کئی درجن اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ نوکری کی عدم حصولی کی وجہ سے آج بھی پریشان ہے ۔اللہ ہمیں اس خطے کی بہتر خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان ضمیر فروش سیاست دانوں وفاق پرست اخباروں صحافت کی لبادے میں چھپے فرقہ پرست کالم نگاروں صحافیوں اور دین فروش مُلاوں کو ہدایت دے اور گلگت بلتستان کو امن کا گہوارہ بنا دے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔