شاہراہ قراقرم کی اہمیت اور خطرات

شاہراہ قراقرم کی اہمیت اور خطرات

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
شیر علی انجم 
دنیا کے عظیم پہاڑی سلسلوں قراقرم اور ہمالیہ کو عبور کرتی شاہراہ قراقرم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ  دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے اور  جعرافیائی حوالے سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس شاہراہ کو پاکستان اور چین کی اشتراک سے بیس سال کے عرصے میں 1986میں مکمل کیا اور دروران تعمیر810پاکستانی اور 82کے قریب چینیوں اپنی جانیں گنوا دی ۔یہی وجہ ہے کہ اس شاہراہ کو پاک چین دوستی کی ایک طویل علامت بھی سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہی شاہراہ پاکستان کو اپنے مخلص ترین دوست ملک چین سے ملانے کا زمینی ذریعہ بھی ہے۔
شاہراہ قراقرم کی لمبائی تقریبا 1300کلومیٹر ہے جو پاکستان کے شہر حسن ابدال سے شروع ہو کرچین کے شہر کاشغر میں ختم ہوتی ہے اس شاہراہ کے دامن سے دریائے سند ھ، ننگا پربت، راکاپوشی اور دریائے گلگت بھی گزرتے ہیں۔ یہ شاہراہ پاک فوج کیلئے سیاچن جیسے اہم محاذ کا واحد سپلائی لائین ہے۔اسکے علاوہ پاک چین تجارت میں بھی ایک مرکزی حیثیت رکھنے کے ساتھ گلگت بلتستان کے سویلین کو پاکستان سے ملانے کا واحد ذریعہ بھی ہے کیونکہ خطے میں فضائی سروس کے بہتر مواقع ہونے کے باوجود عام آدمی کیلئے نایاب اور ایک خواب کی طرح ہے جس کی بنیادی وجہ فلائٹ شیڈول کا غیر اعلانیہ تعطلی اور قومی ائرلائین کی بدمعاشی اور بدنظمی شامل ہے دوسری بات اگر کبھی قسمت کی دیوی مہربان ہواجائے تو کرایہ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے کیونکہ گلگت بلتستان جہاں کی آبادی کا ذیادہ تر لوگ شہروں میں محنت مزدوری کرکے سیزن میں گھروں کو لوٹتے ہیں ایسے میں بہت زیادہ کرایوں کے سبب عام آدمی کیلئے ہوائی سفر ایک خواب سے کم نہیں۔یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کے باسی تمام خوف خطر کے باوجود زمینی راستے سے سفر کرنے پر مجبور ہے۔لیکن یہاں کے باسیوں کو اس شاہراہ پر مناسب سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے شدید خدشات ہے جن کا ازالہ کرنے والاکوئی نہیں۔ اس شاہراہ کی دفاعی جعرافیائی اور علاقائی اہمیت کے باوجود پاکستان کی سرکار اب تک اس شاہراہ کوپُرامن نہیں بنا سکا ہے.  یہاں سے گزرنے والے مسافر ہر وقت موت کومحسوس کرتے ہوئے سفر کرتے ہیں اور سلامتی سے منزل تک پہنچنے  پرشکرانے کی نماز ادا کرتے ہیں جو کہ گلگت بلتستان کی انتظامیہ اوروفاق پاکستان کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
یہ شاہراہ جہاں ایک طرف دنیا کی اس آخری کالونی کے رہنے والوں کیلئے سہولت لیکر آیا دوسری طرف اس شاہراہ کی افتتاح کے ٹھیک دو سال بعد 1988 میں اس شاہراہ کے ذریعے گلگت بلتستان پر لشکر کشی کی گئی ۔ آج سانحہ روالپنڈی کے رونما ہونے کے بعد اس شاہراہ پر پھر سے خطرے کی گھنٹی بجنی شروع ہوگئی جس کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا ہے جہاں دنیا کے مختلف حصوں میں جان بحق ہونے والوں کو  اسی سانحے کا شہید کہہ کر کبھی ان کا تعلق چلاس سے تو کبھی دیامر اور کوہستان کے کسی اور حصے سے جوڑا جا رہا ہے. یہ الگ بات ہے کہ انٹرنیٹ پر عبور رکھنے والے لوگوں نے جب ان تمام تصاویر کی حقیقت سوشل میڈیا پر شائع کی توتمام مکاتب فکر کے علماء نے تمام نجی چینلز پر اس بات کی تصدیق کی کہ سانحہ روالپنڈی کو جس طرح سوشل میڈیا پر ایک خاص طبقہ فکر کے خلاف استعمال کیا گیا، حقیقت اس کے برعکس ہے ۔لیکن ایک نجی چینل کی متعصب رپورٹ کے بعد گلگت بلتستان کے عوام میں بے چینی مزید بڑھ گئی اور ایک دفعہ پھر راولپنڈی آسلام میں میں زیر تعلیم طلباء کو اس تمام واقعے کا ذمہ دار ٹھہرا کر گلگت بلتستان میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہماری حکومت اور انتطامیہ کا فرض بنتا تھا کہ اس میڈیا رپورٹ کے حوالے سے ثبوت طلب کریں۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ شائد ہمارے کسی وزیر یا مشیر نے یہ خبرتک نہیں دیکھی ہوگی۔
ہمارا اصل موضع شاہراہ قراقرم ہے کیونکہ پاکستان میں کہیں بھی کسی قسم کا فساد ہوتا ہے تو سب سے پہلے گلگت بلتستان کے عوام کو سزا بھگتنی پڑتی ہے اور اسکی ابتداء اسی شاہراہ سے ہوتا ہے۔ روالپنڈی سانحے کے بعد بھی کچھ ایسا ہی ہوا دشمن نے پھر سے گلگت بلتستان کی اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اس وجہ سے یہاں کی حکومت نے ایک دفعہ پھر شاہراہ قراقرم کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دیا ۔گلگت بلتستان کے عوام کی اس اعصاب شکن دھمکی نے پھر سے نیندیں اُڑا دی لیکن انتظامیہ نے شاہراہ کو بند کرکے ہی اپنی ذمہ داری نبا لی۔ایک عجیب بات ہے کہ اس شاہراہ کو ایک طرف پاک چین دوستی کی علامت سمجھے جاتے ہیں دوسری طرف افواج پاکستان کیلئے دفاعی اعتبار سے بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ اس شاہراہ پر کئی دلخراش سانحات پہلے بھی پیش آچکے ہیں. لیکن لگتا ہے وہ تمام دعوے صرف اخباری بیان  کی حد تک تھے جن میں کہا گیا تھا کہ اس شاہراہ کیلئے سپیشل فورس تشکیل دی جائے گی ،یہاں جدید سیٹلائٹ فون مہیا کیے جائیں گے  ،ہر دو کلو میٹرپر سیکورٹی فورس کی چیک پوسٹیں قائم کی جائے گی وغیر وغیر۔
آج سانحہ راولپنڈی نے وفاق پاکستان سمیت گلگت بلتستان انظامیہ کی پول کھول دی کہ اس شاہراہ پر اب بھی سفر محفوظ نہیں یہاں اب بھی دہشت گرد کسی بھی وقت کاروائی کرسکتے ہیں۔یااللہ آخر گلگت بلتستان کے عوام کب تک موت کی وادی سے سفر کرتے رہیں گے ؟ وہ نام نہاد لیڈران جن کو ووٹ دیکر مرکز تک پہنچایا گیا تھا  کب عوام کو پُرامن سفر مہیا کرنے کیلئے اقدامات کریں گے؟۔کب تک یہاں کے عوام مکتب فکر کی اختلاف کی بنیاد پر مرتے رہیں گے یا ڈر کے زندگی گزاریں گے؟  کب تک ہمارے علماء ایک دوسرے کی مسجدوں میں سیاسی نمازیں پڑھ کر منافقت کے چہرے دھکاتے رہیں گے؟ کیا ایک دوسرے کی مساجد میں نماز پڑھنے سے شاہراہ قراقرم محفوظ ہوجائے گا؟ کیا اجتماعی پریس کانفرنس کرنے سے اس خونی شاہراہ پر سفر کرنے والوں کے دلوں سے خوف کا سایہ ہٹ جائے گا؟ بلکل نہیں عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے سوشل میڈیا کو لگام دینے کی ضرورت ہے اس وقت گلگت شہر سے ایک مخصوص گروپ سوشل میڈیا کے ذریعے مکتب تشیع کے خلاف مسلسل منفی پروپگنڈے پھیلا رہے ہیں لیکن روکنے والا کوئی نہیں حالانکہ گلگت بلتستان میں اس طرح کے انتشار پھیلانے والوں کا بڑی آسانی سے سراغ لگایاجاسکتاہے کیونکہ اطلاع کے مطابق یہاں کی ٹیلی کمونیکیشن سروس کو باقاعدہ سکیورٹی ادارے کنٹرول کرتے ہیں ۔
آخر میں ایک گزارش گلگت بلتستان کے عوام خاص طور پر دیامر کے عوام سے کروں گا خدا را دشمن ہماری بقاء ختم کرنے کی کوشش میں ہے مگر ہمیں خبر نہیں۔بقول امام خمینی رضوان اللہ کے کہ ہم ہاتھ کھولنے اور بند کرنے پر جھگڑے میں لگے ہوئے ہیں اور دشمن ہمارے ہاتھ کاٹنے کی کوشش میں مصروف عمل ہے”۔
یہ دھرتی ماں ہماری بقاء ہے جب دھرتی نہ رہے تو ہمارے رہنے کا کوئی اسباب نہیں ہمیں اپنے صفوں میں چھپےُ دشمنوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو ہمیں دینداری کے نام پر فرقہ واریت میں الجھا کر مفاد حاصل کرتے ہیں۔گلگت بلتستان میں بسنے والے شیعہ دیوبندی سُنی اسماعیلی اور نوربخشی ایک گھر کے پانچ بھائی ہیں.  یہ پانچ بھائی ایک دوسرے سے گھر کی حد تک ناراض ہوسکتے ہیں لیکن محلے کی فساد کو گھر میں لاکر ایک دوسرے کا دست گریباں نہیں ہوسکتے .ہمیں اسی فسلفے کے تحت شاہراہ قراقرم کوپُر امن کا شاہراہ بنانے کیلئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ہماری بقاء کا مسلہ ہے اللہ ہم سب کو اخوت اور بھائی چارگی کی سوچ عطا فرمائے اور ہمارے دشمن کو نیست نابود کرے آمین
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔