صدیق ؓ اور حیدرؓ کے متوالو…خداکے لیے

صدیق ؓ اور حیدرؓ کے متوالو…خداکے لیے

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

میرے گزشتہ کالم پر کچھ اپنوں نے اور تھوڑا کچھ غیروں نے ناک بھوں چڑھایا۔چند احباب تو باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کروانے لگے۔ ایک صاحب تو نماز کے بعد مسجد کے باہر لتاڑنے لگے۔مجھے اکثر ایسا فیڈ بیک ملتا رہتا ہے مگر اس دفعہ تو بزدلی کا طعنہ بھی دیا گیا بلکہ کتمانِ حق کا مرتکب قرار دیا۔ مجھے حیرت ہورہی تھی کہ میں نے واقعی کچھ غلط تو نہیں لکھا ہے۔ دوبارہ اپنی تحریر پڑھ کر مطمئن ہوا کہ ایسا کچھ نہیں لکھا جس پر پیشمانی ہو۔میں نے تو صرف محبت و مودت سے معاشرتی زندگی گزارنے کی درخواست کی تھی مگر مجھ پر فتویٰ لگانے کا الزام بھی لگایا گیا۔ حالانکہ نہ میں نے ایسا کوئی جملہ لکھا ہے نہ میں فتویٰ لگانے کی مسند پر براجمان ہوں۔یہ یاد رہے کہ اہل بیت عظامؓ پر درود و سلام بھیجے بغیر نہ میر ی نماز مکمل ہوتی ہے نہ ایمان کامل۔اہل بیت عظامؓ بالخصوص حسن و حسینؓ، شیر خدا حضرت علیؓ،جنت کی عورتوں کی سردار حضرت فاطمۃ الزھراءؓ اور تمام ازواج مطہراتؓ کے ساتھ جتنی جذباتی لگاؤ اور محبت ہے اتنی ہی اصحاب نبی رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ بھی محبت و عقیدت ہے۔ اہل بیت اور اصحاب نبی سے محبت میرے عقیدے کا حصہ ہے۔

انتہائی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑھتا ہے کہ آج اہل بیت اور اصحاب نبی کے مقدسوں ناموں پر ہم نے جنگ شروع کررکھی ہے۔ حالانکہ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان میں بے حد محبت تھی۔میں آپ کی خدمت میں وہ تمام تاریخی حوالے اس لیے پیش نہیں کرسکتا کہ کاغذ کے ان اوراق میں ا تنی گنجائش کہاں ہے۔یہ انتہائی اعلیٰ درجے کی اخلاص، ورع اور للہیت کا رزلٹ تھا کہ اہل بیت عظام، اصحاب نبی اور ائمہ مجتہدین باہمی اختلاف کے باوجود ایک دوسروں کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔جنگ جمل ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اس جنگ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے مقابلے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جیت ہوئی۔ حضرت علیؓ کی جماعت کے چند افراد نے اصرار کیا کہ تمام مخالفین کو قتل کیا جائے تو شیرخداؓ نے انکار کیا۔کچھ شدت پسند وں نے اصرار کیا کہ ان کو قیدی بنایا جائے تو حضرت علیؓ نے ایک تاریخ ساز جملہ ارشاد فرمایا کہ ’’ تم میں کون ہے جو اپنی ’’ماں‘‘ حضرت عائشہ ؓ کو باندی بنا کر اپنے حصے میں لے جائے؟تو سب نے کہا ’’نستغفراللہ‘‘ یعنی ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں تو حضرت علیؓ نے بھی ارشاد کیا کہ’’ وانا استغفراللہ‘‘ یعنی میں بھی اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں۔اپنے متشدد دل پر ہاتھ رکھ کر بتلاؤ کہ کیا آج ہم بھی اپنے مخالفین کے ساتھ اس سلوک کے روا دار ہیں ۔وہ لوگ ایک دوسروں کے خلاف تلوار اٹھانے والوں کے ادب و احترام کا جتنا خیال رکھتے تھے آج ہم دلیل کی بنیاد پر اپنی پالیسی سے اختلاف کرنے والوں کو بھی اتنا احترام دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ ان کو گزند پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔اسی جنگ جمل میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا اونٹ زخمی ہوکر گرا ،تو شیر خدحضرت علیؓ فرمانے لگے کہ دیکھو کہیں ’’ ام المؤمنین کو تکلیف تو نہیں پہنچ رہی ہے‘‘۔ام المؤمنین کا بھائی محمد بن ابی بکرؓ جو حضرت علیؓ کے طرف دار تھے نے دیکھاتو امی عائشہؓ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی تھی، پھر خود شیر خدا وہاں تشریف لائے اور خیریت دریافت کی ،جانبین سے مغفرت کی دعا ہوئی اور شیر خدا نے حفاظتی دستے کے ساتھ ام المؤمنین کو گھر پہنچا دیا۔

شیر خدا حضرت علیؓ خلفائے راشدینؓ سے حد درجہ پیار و محبت کرتے تھے۔ اپنے کئی بیٹوں کے نام خلفائے راشدین کے نام پر رکھے تھے، حضرت امام حسینؓ کے ساتھ میدان کرب و بلا میں حضرت علیؓ کے جو بیٹے شہید ہوئے تھے کیا کوئی ان کے نام بتلائے گا۔ ہم ہی بتلاتے ہیں۔ ان کے نام یہ تھے ۔حضرت ابوبکر بن علی، حضرت عمر بن علی، حضرت عثمان بن علی،حضرت عبداللہ بن علی،حضرت عبیداللہ بن علی۔ یہ سب شہید کربلا کے بھائی تھے جو ان کے ساتھ راہ حق میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگے۔ کیا دس محرم کو ہمیں یہ نام یاد رہتے ہیں؟۔ اس طرح حضرت علی ا بن حسین زین العابدین کے فرزند حضرت زید بن علی ایک دفعہ پھر اپنے بزرگوں کی تاریخ دھرانے کے لیے کوفہ پہنچے تو چالیس ہزار لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور جب ان کا نمائندہ اہل سنت کے امام اعظم ، امام ابوحنیفہ کے پاس پہنچا تو آپ نے ایک قیمتی جملہ ارشاد کیا تھا کہ’’خروجہ یضاھی خروج رسول اللہ علیہ وسلم یوم البدر‘‘ زید بن علی کا اس وقت راہ حق کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ایسا ہے جیسے کائنات کے سردار حضرت محمد ﷺ یوم بدر میں اٹھے تھے‘‘ اور پھر امام اعظم کا قول سچ ثابت ہوا کہ چالیس ہزار کے متبعین ندارد، صرف 313 لوگ باقی تھے۔

حضرت امام حسنؓ کو بھی زہر دے کر شہید کردیا گیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ زہر کس نے دیا ہے۔ آخری حالات میں متعلقین نے اصرار بھی کیا مگر حضرتؓ نے نام نہیں بتایا اور ارشاد کیا کہ’’ جس پر مجھے شک ہے اگر وہی ہے تو اللہ جل وعلا کا انتقام کافی ہے اور اگر وہ نہیں ہے تو میرے بعد میری وجہ سے کسی بے گناہ کو تنگ کیا جائے یہ مجھے منظور نہیں‘‘۔یہی حضرت حسنؓ پر زہر کا اثر زیادہ ہونے لگا تو اپنے بھائی حضرت حسینؓ کو ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں بھیجتے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں کہ وہ ان کے گھر میں اپنے نانا حضورکریم ﷺ کے قریب، گھر میں دفن ہونا چاہتے ہیں تو ام المؤمنینؓ (باوجود لڑائی جمل کے)بخوشی اجازت مرحمت فرماتی اور ایک تاریخ ساز جملہ ارشاد کرتی ہے’’ نعم وکرامۃ‘‘ یعنی بڑے اکرام و اعزاز کے ساتھ۔ حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان جو جنگ ہوئی وہ بہت معروف ہے۔ اس جنگ میں رومی بادشادہ نے حضرت علی کے مقابلے میں حضرت امیر معاویہ کی مدد کرنی چاہا تو حضرت امیر معاویہ نے وہ تاریخی جملہ کہا جو آج تک زبان زد عام ہے۔حضرت معاویہ نے ارشاد کیا کہ’’ اے رومی کتے!ہمارے اختلاف سے تم دھوکہ نہ کھاؤ۔ اگر تم نے حضرت علی کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو حضرت علی کی فوج کا پہلا سپاہی میں بنونگا‘‘۔

حضرت عمرؓ نے تو اپنے قاتل تک کو معاف کیا۔ابو لؤلؤ جو نصرانی غلام تھا ،نے حالت نماز میں آپ کو شہید کیا۔ اس نے پہلے بھی خلیفہ وقت کو قتل کی دھمکی دی تھی مگر آپؓ نے کوئی انتقام نہیں لیا بلکہ احسان کا معاملہ فرمایا۔حضرت علی نے بھی اپنے قاتل کے ساتھ بے حد رحم والا معاملہ کیا۔ابن ملجم جو حضرتؓ کا قاتل تھا ایک دفعہ اپنی کوئی حاجت لے کر حضرت علیؓ کے پاس پہنچا تو حضرت نے اس کی حاجت پوری کردی اور ارشاد کیا کہ ’’ یہی میرا قاتل ہے‘‘ کسی نے کہا کہ آپ اس کو قتل کیوں نہیں کرادیتے تو حضرت علیؓ نے کیا خوبصورت ارشاد فرمایا’’ فمن یقتلنی‘‘ یعنی پھر مجھے کون قتل کرے گا۔ جب یہ شقی القلب نے حملہ کیا اور پکڑا گیا تو حضرت نے ارشاد کیا کہ ابھی اس کو کچھ مت کہو بلکہ’’واطیبوا طعامہ والینوا فراشہ‘‘اچھا کھانے کو دینا اور ملائم بستر دینا ۔ اگر حملے میں، میں اللہ کا پیار اہواتو اسلامی قانون کے مطابق قصاصاً قتل کردینا اگر میں رو بہ صحت ہوا تو میں اپنے معاملے میں خود مختار ہونگا ۔چاہے تو معاف کردو ں چاہے تو بدلہ لے لوں۔

تاریخ کے ادنی طالب علم کو یہ بات معلوم ہے کہ کفار مکہ نے اسلام کے ابتدائی دنوں میں آنحضرت ﷺ کو بے انتہا تکالیف پہنچائی مگر فتح مکہ کے بعد آپ نے سب کو معاف فرما دیا اور ایک عظیم الشان جملہ ارشاد کیا’’ لاتثریب علیکم الیوم، یغفراللہ لکم‘‘ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ۔ کوئی مواخذہ نہیں اللہ آپ کو معاف فرمادے۔ آپ ﷺ نے تو اپنے چچا کے قاتل کو بھی معاف فرمادیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ گستاخی جہالت کی علامت ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے کہ ’’ اعوذ بااللہ ان اکون من الجاھلین‘‘ کہ میں اللہ سے پناہ ڈھونڈتا ہو کہ جاہلوں میں شامل ہوجاؤں۔مجھے میرے اکابر کی سوانح عمریوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام تر علمی و سیاسی اور مذہبی اختلاف کے باجود انہوں نے ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھا۔ گستاخی، استہزاء و ٹھٹھ سے حتی المقدور گریز کیا۔ یہ ان کی تواضع للہ تھا۔وہ اپنے معاندین کی بے قدری نہیں کرتے تھے۔میرے نزدیک موجودہ دور میں ہماری داخلی پستی وزوال کے بہت سارے اسباب کے ساتھ یہ بھی ہیں کہ نفس پرستی،فضول کی ضد وعنااور حسد،نام نہاد رسموں پر اصرار، توازن و اعتدال کا فقدان، نام نہاد خوش فہمیاں، شخصیت پرستی، تنگ نظری، لسانی، علاقائی اور مذہبی اختلافات،بالخصوص فروعی اختلافات کی پرزور تبلیغ۔ یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے ہمیں اندرونی طور پر کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔

یہاں ایک سچ سن ہی لینا مناسب ہے۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اہل تشیع اور اہل سنت میں اختلافات ہزار سال سے چلے آرہے ہیں۔یہ محال ہے کہ یہ دونوں فریق ایک ہوجائیں۔اس اختلافی موضوع پرمیرے سامنے ایران ، عرب ممالک اور پاکستان وہندوستان سے شائع ہونے والی سینکڑوں کتب موجود ہیں ۔آج کے دور میں اس موضوع پر جتنا مواد عربی اور فارسی میں موجود ہے اتنا ہی اردو میں بھی موجود ہے۔انگریزی میں بھی کافی مواد ملتا ہے۔سی ڈیز، کیسٹس، اور موبائل کلپ اس کے سوا ہیں۔یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے مگر کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ ان تمام اختلافات کے باوجود معاشرتی زندگی ہمیشہ سکون کے ساتھ گزری ہے۔ برصغیر میں صدیوں تک فقہ حنفی کا راج رہا۔تمام ریاستی فیصلے فقہ حنفی کے مطابق ہوتے رہے مگر اس طرح مذہب بلکہ مسلک کے نام پر قتل و غارت نہیں ہوئی جو بٹوارے کے بعد ہمارے ہاں در آئی۔کیا ہم معاشرتی طور پر بھی سکون کے ساتھ نہیں رہ سکتے؟۔یہ کتنا مقام افسوس ہے کہ ہم جن لوگوں کے مقدس ناموں سے قتل و غارت کا بازار گرم رکھتے ہیں وہ آپس میں بہت ہی محبت و احترام کا رواج رکھتے تھے۔ تاریخ اس پر شاہد ہے۔ کیا ہم اپنا چہرہ اپنے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آؤ ذرا دیکھ ہی لیتے ہیں۔ اے گلگت والو! تم وہ ہیں جنہوں نے اسکردو میں انجمن اہل سنت کا مرکز اور قرآن پاک کو جلا کر خاکستر کردیا۔ تم نے گلگت اور مضافات میں بے گناہ لوگوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کیے۔ بم دھماکے کر معصوم بچوں کی جان لی۔ کوہستان میں لوگوں کو شُوٹ کیا، لالو سر کی جھیل انسانوں کے خون سے سرخ کردیا ۔ چلاس میں مسافروں کو اتار اتار کر پتھروں سے مارڈالا۔ اور اب کی بار تعلیم القرآن میں بے گناہ شہریوں کے ساتھ معصوم طلبہ کو بھی ذبح کردیا اور مسجد و مدرسہ کو جلاکر بھسم کردیا ۔تمہارا ضمیر تمہیں قرآن پاک جلانے سے بھی نہ روک سکا۔ اور اس کے نتیجے میں جو بے سکونی پورے ملک میں پھیلی ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔

پورا گلگت بلتستان نوحہ کناں ہے۔ اپنے پتھر دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ کیا صدیق اکبرؓ اور حیدرکرارؓ کی یہی تعلیمات تھیں؟ کیا ان کی اولاد نے تمہیں یہی کچھ سکھایا تھا۔میں ہاتھ جوڑ کر آپ کی دربار میں اتنی سی گزارش کرتا ہوں کہ تم بے شک جوہو وہی رہو مگر خدا را انسان بھی رہو۔اگر نہیں تو پھر میرے پیارے صدیق اکبرؓ اور حیدر کرارؓ کا نام بھی نہ لو۔ اور نہ ہی شہیدانِ کرب و بلا کا۔وہ تو اسلام کی عظمت کے لیے کٹ مرے اور تمہیں پتہ ہی نہ ہو کہ انہوں نے کیوں قربانی دی تھی۔ ان مقدس ناموں کے واسطے آپ سے معاشرتی سکون اور بھائی چارے کی بھیک مانگتا ہوں۔ کیا یہ بھیک آپ مجھے دے سکو گے؟۔خدارا ۔ جو ش کے بجائے ہوش سے کام لو۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو. 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments