گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں تحصیل گوجال کی نما ئندگی

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

احمد رحیم

عر صہ دراز سے تحصیل گوجال کے باشندے اور نمآئندے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں علیحدہ نشست کا مطالبہ کرتے رہے ہیں. اسی سلسلے میں اس مضمون کے زریعے چند معروضی دلائل پیش کیے جارہے ہیں تاکہ پالیسی ساز اداروں اور افراد کو زمینی حقائق سے آگاہ کرنے کا فریضہ کما حقہ ادا ہو سکے.

  • جغرافیائی طور پر وادی گوجال گلگت بلتستان کا سب سے بڑا تحصیل ہے. ہنزہ کے کل رقبے کا پچاسی فیصد. مزید یہ کہ وادی گوجال پچیس سے زیادہ دیہاتوں پر مشتمل ایک دور افتادہ علاقہ ہے جسکی سرحدیں چین اور افغانستان سے براہ راست منسلک ہیں. ان دیہاتوں میں زندگی کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہے. قانون ساز اسمبلی میں نمائیندگی ملنے سے علاقے کے دیرینہ مسائل کے حق میں آواز آٹھے گی اور لوگوں کے مسائل جلد اور زیادہ موثر انداز میں حل ہوں گے.

  • انتظامی طور پر وادی ہنزہ دو تحصیلوں، علی آباد اور گوجال، پر مشتمل ہے.

  • وادی گوجال کی دفاعی اور معاشی اہمیت مسلم ہے. صدیوں سے یہاں کے باسی پاکستان افغانستان سرحد کی حفاظت کرتے ہوے دوست ملک چین کے ساتھ تعلقات کو خوشگوار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں. وادی گوجال تاجکستان اور دوسرے وسطی ایشیائی ممالک کے قریب واقع ہے، اور تاریخی طور گوجال کے باسی ان ممالک میں موجود افراد کے ساتھ ثقافتی اور روابط رکھتے ہیں. بدلتی سیاسی صورتحال میں لازمی ہے کہ اس علاقے کو نمائندگی دے کر ان روابط کو مضبوط کرنے اور پاکستان کو علاقائی معاشی مرکز بنانے کی کوشش تیز کی جائے.

  • ہر سال حکومت پاکستان وادی گوجال میں واقع سوست کسٹمز کے زریعے تقریبا ایک ارب روپے ٹیکس کی مد میں وصول کرتی ہے. لیکن، اس ٹیکس کا ایک فیصد حصہ بھی گوجال کی ترقی کے لیے استعمال نہیں ہوتا، حالانکہ علاقے کے قدرتی وسائل سے بھر پور فائدہ لیاجا رہاہے اور ان کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچ رہا ہے.

  • مجوزہ پاکستان چین اقتصادی راہداری بھی وادی گوجال سے گزرے گی جس کی وجہ سے شاہراہ قراقرم کی توسیع اور ریلوے ٹریک بچھانے کی صورت میں گوجال کی سماجی اور معاشی زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے. اس صورتحال میں اس اہم علاقے کے مفادات کا بہترین دفاع صرف وادی گوجال کے مستقل باشندے اور منتخب نمائندے ہی کر سکتے ہیں.

  • ۴جنوری ۲۰۱۰ سے عطاء آباد میں رونما ہوںے والی قدرتی آفت کی وجہ سے وادی گوجال کی سماجی اور معاشی زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ گئی ہے. علاقے کی معیشت کی بربادی کی وجہ سے ترقیاتی عمل نہ صرف رک چکا ہے بلکہ غربت میں اضافے اور قیمتی زمینوں کے نقصان کی وجہ سے پہلے سے زیادہ مخدوش صورتحال پیدا ہو چکی ہے. ماہرین کا ماننا ہے کہ گوجال کی ترقی اس وقت معکوس عمل کا شکار ہے، یعنی جتنی ترقی کی گئی تھی اس پر پانی پھر چکا ہے اور اب تنزلی کا عمل جاری ہے. اس نازک صورت حال میں وادی گوجال کی نمائیندگی صرف یہاں کے مقامی لوگوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے تاکہ دل وجان سے علاقے کی تعمیر نو اور بحالی کا کام شروع کیا جاسکے.

  • تاریخی کتابوں کے حوالے سے یہ بات وثوق کے ساتھ کی جاسکتی ہے کہ ریاست ہنزہ میں گوجال کو علیحدہ اور اہم حیثیت حاصل تھی. اسی لیے ۱۹۷۴تک وادی گوجال انتظامی تحصیل صدرمقام ، گلمت، ریاست ہنزہ کا سرمائی دالخلافہ بھی رہا. دربار ہنزہ میں وادی گوجال کو ہمیشہ ممتاز اور علیحدہ حیثیت حاصل رہی تھی. اس حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کرنا تاریخ کے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف ہے، جسکے منفی اثرات مرتب ہوں گے. اس لیے لازم ہے اب بھی گوجال کی علیحدہ انتظامی حیثیت برقرار رکھتے ہوے قانون ساز اسمبلی میں اس علاقے کو نمائیندگی دی جائے.

  • وادی گوجال کے مکین تاریخی طور پر مقامی میروں کے ظلم و عتاب کا شکار رہے ہیں. تاریخی حوالوں سے یہ بات عیاں ہے کہ میر آف ہنزہ وادی گوجال کے لوگوں سے زیادہ ٹیکس وصول کرتا تھا. محرومی کے اسی تاریخی احساس کی وجہ سے ہی گوجال کے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد نے بغاوت کرکے ریاست ہنزہ کے سقوط کا مطالبہ کر دیا تھا، جسکی تکمیل ۱۹۷۴میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوئی. وادی گوجال کو حق نمائیندگی سے محروم رکھنے کی کوشش کرنا اسی طرح کے منفی اور خطرناک جذبات کو دوبارہ اجاگر کرسکتی ہے جو علاقے کے مفاد میں نہیں ہے.

  • سب سے اہم بات یہ ہے کہ علیحدہ نشست کا حصول گوجال کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے. اور اس مطالبے کی تایئد نہ صرف وادی گوجال کے مکینوں نے کی ہے بلکہ، ہنزہ ایکشن کمیٹی، پاکستان پیپلز پارٹی کے علاقائی اور مرکزی رہنماؤں اور وزیروں، پاکستان مسلم لیگ کی مقامی تنظیم کے عہدیداروں اور دوسرے سماجی و سیاسی تنظمیوں نے بھی وقتا فوقتا کی ہے. حال ہی میں سلک روٹ فیسٹیول کے اختتامی تقریب سے گلمت کے مقام پر خطاب کرتے ہوے وفاقی وزیر جناب برجیس طاہر نے بھی علیحدہ نشست دلانے کی یقین دہانی کروائی تھی.

ان تمام معروضی حقائق اور علاقے کے افراد کی دیرینہ خواہش کو مدنظر رکھتے ہوے یہ ضروری ہے کہ وادی گوجال کو حق نمائیندگی سے محروم نہ کیا جائے. اگر چند افراد اور سرکاری افسران نے اپنی مرضی کا فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج علاقے کی وحدت اور مستقبل کے حق میں بہتر نہیں ہوں گے.

مضمون نگار سے ان کے ای میل اڈریس ahmadrahim2012@mail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے. 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔