کیا یونیورسٹی کو تالا لگا دیا جائے؟

کیا یونیورسٹی کو تالا لگا دیا جائے؟

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کے کالجز میں شاید میں کم عمر لیکچرر ہوں۔مجھے اہل علم سے مباحثہ کرنے کا بڑا شوق ہے۔میں اپنے اس شوق کی تکمیل کے لیے اپنے بزرگ پروفیسروں کے ساتھ ہمیشہ الجھتا رہتا ہوں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ سینکڑوں صفحات کے مطالعہ سے زیادہ اہل علم کی چند نشستوں سے معلومات اور علم حاصل کیاجاسکتا ہے۔کبھی کبھارمحفلِ یاراں میں کوئی سوال داغ کر ان اساتذہ کرام کی لڑائی بڑے شوق سے دیکھتا ہوں جو میرے سوال کے بعد وجود میں آجاتی ہے۔ وہ اس علمی لڑائی میں تمام تر قوت کے ساتھ اپنے دلائل اور پسند اور ناپسند کو خوب صورت انداز میں پیش کرتے ہیں۔انہی میں ایک بڑا نام پروفیسر بشیر ہنزائی کا ہے۔وہ ببانگ دہل بات کرنے کے عادی ہیں۔دو سال پہلے قراقرام یونیورسٹی کے قیام پر ان سے میں الجھتا رہتا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ مشرف نے یونیورسٹی کو قبل از وقت منظور کیا۔ ہم لوگ اس لائق ہی نہیں کہ ہمیں یونیورسٹی دی جائے۔ہمیں ابھی تک ذہنی بلوغت حاصل ہی نہیں ہوئی، ہم علمی حوالے سے میچور ہی نہیں ہوئے تو ہم خاک علمی درسگاہوں کی قدر کریں گے‘‘ ۔ میں ان سے کسی صورت اتفاق نہیں کرسکتا تھا، میں عرض کرتا کہ سر جی! آزاد کشمیررقبے کے لحاظ سے ہم سے سات گناہ کم ہے مگر وہاں چھ ساتھ یونیورسٹی کام کررہی ہیں،آز اد کشمیر یونیورسٹی کے کئی کیمپس ہیں،ہماری طرح وہ بھی آئینی علاقے نہیں مگر وہا ں تعلیمی رجحان بہت زیادہ ہے۔ خیر گلگت کے لوگوں کے حوالے سے میرے پاس معلومات کم تھی ۔میں تو اپنے جذبے کی بنیاد پر جو کچھ سمجھتا تھا اس کو برحق سمجھتا تھا۔دو سال کے طویل عرصے میں مجھے گلگت میں جو کچھ دیکھنے اور سمجھنے کوملا، اب اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ واقعی ہم لوگ اس قابل نہیں کہ ہمیں ’’جامعہ‘‘ جیسا کوئی ادارہ دیا جائے۔ قراقرم یونیورسٹی کی عمر صرف گیارہ سال ہے۔ اس کے قیام سے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی بڑی امیدیں وابستہ تھی مگر افسوس کہ ہمارے ہی سیاسی ومذہبی لوگوں نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ یونیورسٹی میں بہت ہی کم ڈیپارمنٹ ہیں ۔ مگر پھر بھی غریب لوگوں کو اعلیٰ تعلیم ان کے گھر میں میسر آگئی ہے۔ کیا یہ نعمت عظمیٰ سے کم ہے۔میں یہ سچ بیان کرنے سے قطعا نہیں شرماؤنگا کہ قراقرام یونیورسٹی کو ابھی تک اہل سنت و اہل تشیع نے تسلیم ہی نہیں کیا۔ہمارے دونوں مسلک کے لوگ مختلف اوقات میں یونیورسٹی کے خلاف سرگرم رہے ہیں،میں ہزار زاویوں سے سوچنے کے بعد بھی نہ سمجھ سکا کہ آخر ہمارے لوگ ہاتھ دھو کر اس یونیورسٹی کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں۔ہمارے سیاسی و مذہبی لیڈروں کے بیانات سن کر میں مبہوت رہ جاتا ہوں کہ آخر یہ لوگ قوم کو کس طرف لے جارہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو یونیورسٹی میں دمادم مست قلندر ہوگا۔ کوئی صاحب اٹھتا ہے اور یونیورسٹی کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا مژدہ سنا دیتا ہے۔ کوئی صاحب یونیورسٹی کو فحاشیوں کا اڈہ خیال کرتا ہے۔اور دکھ اس بات کی ہے کہ بظاہر بڑے خوبصورت علمی نام والی سیاسی پارٹیاں اور مذہبی انجمنیں یونیورسٹی کو تالا لگانے کے آپشن پر غور کررہی ہیں۔مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ ہم پر اللہ کوئی عذاب نازل نہ فرمادے۔ ہم نے مساجد پر تو تالے لگا کر خدائی عذاب کو دعوت دی ہے۔ اب گلگت بلتستان کی اکلوتی نابالغ یونیورسٹی پر بھی تالا لگانے کا سوچ رہے ہیں۔ہمارے یہ جاہل لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ یونیورسٹی ایک آئینی اور خودمختار ادارہ ہوتا ہے۔ اور وی سی کے عہدے کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہے۔ یونیورسٹیوں کے تمام فیصلے سنڈیکیٹ کرتا ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ایک خودمختار ادارہ ہوتا ہے۔ مگر ہمارے سیاسی لوگ صرف اور صرف اپنے مفاد کی خاطرقراقرم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف سازشیں بنتے ہیں اور اخباری بیانات جاری کرتے ہیں۔میں موجودہ وی سی کی بات نہیں کررہا ہوں، ہمارے افلاطونی دانشوروں نے تو کے آئی یو کے کسی وی سی کو معاف نہیں کیا۔ہمارے ان لیڈروں کی اوقات صرف اتنی سی ہے کہ اگر یونیورسٹی میں ان کا کوئی گریڈ ون بھرتی ہوجائے، یاان کا کوئی رشتہ دار کلرک لگا دیا جائے تو یہ لوگ یونیورسٹی کے گن گانے لگتے ہیں،اگلی دفعہ ان کی کوئی سفارش قبول نہیں کی جاتی ہے تو ان کو پوری دنیا کی خرابیاں قراقرم یونیورسٹی میں نظر آتی ہیں۔یہ اس قوم کے ساتھ عظیم مذاق ہے۔ قراقرام یونیورسٹی کا ایک کیمپس دیامر میں تعمیر ہونا تھا جو تاحال نہ ہوسکا۔ ان حالات میں ا س کا توقع بھی عبث ہے، گوہرآباد کے عوام نے جس طرح کیڈٹ کالج کے لیے ایک ہزار کنال زمین مفت میں دی ہے اس طرح کے آئی یو کو بھی آفر کریں کہ وہ دیامر گوہرآباد میں کیمپس تعمیر کرے۔بلتستان میں کیمپس قائم ہوچکا ہے ،مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ مین کیمپس کہیں بلتستان کو نہ بنا دیا جائے ۔کیونکہ گلگت میں آئے روز کے فتنوں سے تنگ آکر یہ فیصلہ کیا گیا تو یہ ایک بہت بڑا حادثہ ہوگا۔ اس کے بعد تو گلگت کے شیعہ سنی کفِ افسوس ہی مَل سکتے ہیں۔مگر آج کل یہ دونوں فریق قولاً و فعلاً اس کے لیے ماحول سازگارکررہے ہیں۔

قراقرم یونیورسٹی کے حوالے سے ہماری لوکل انتظامیہ اور صوبائی کابینہ کے خیالات بھی حد درجہ مایوس کن ہیں۔لوکل انتظامیہ کو ہر حال میں اپنی رٹ قائم کرنی ہوگی۔ لاء اینڈ آرڈ ر کا رواج پھر طریقے سے ڈالنا ہوگا۔مناقفت پر مبنی اس روش سے حالات سازگار ہونے کے بجائے مزید الجھ سکتے ہیں۔ہاں یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی اپنے طرز عمل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ کہیں ان کے غیر سنجیدہ فیصلوں کی وجہ سے حالات اس نہج تک تو نہیں پہنچے ہیں؟ آئے روز اپنے ہی فیصلوں پر نظر ثانی کی وجہ سے کہی ایسا تو نہیں ہورہا ہے۔اگر سنڈیکیٹ نے ایک فیصلہ کیا ہے تو پھر تمام تر قوت کے ساتھ اس پرڈٹ جانا بھی چاہیے۔ لوکل انتظامیہ اور سیاسی لیڈروں کا دباؤ کسی صورت قبول نہ کیا جائے۔یونیورسٹی کے حوالے سے لوگوں کو سخت قسم کی شکایات ہیں۔قراقرم یونیورسٹی کسی فرقہ، مسلک، علاقہ ، سیاسی پارٹی یا فرد واحد کی ملکیت نہیں ، یہ گلگت بلتستان کے غریب عوام کا قومی اثاثہ ہے،اس اثاثے کی حفاظت کے لیے بے قاعدگیوں اوربدعنوانیوں کے تما م راستے روکنے ہونگے۔میرٹ کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔ حق دار کو اس کا حق ملنا چاہیے۔ ذاتی پسند اور ناپسند کے بجائے باصلا حیت افراد کو آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔میری یونیورسٹی انتظامیہ سے درمندانہ اپیل ہے کہ اپنے اوپر ہونے والے تمام اشکالات کا سنجیدہ گی سے جائزہ لیں اور ان تمام خدشات کو دور کریں جو یونیورسٹی کے حوالے سے ایک مخلص انسان کے دل و دماغ میں پائے جاتے ہیں۔ سنڈیکیٹ کو ایک موثر ادارہ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اور ان سیاسی لیڈروں کی سفارش پر کوئی گریڈ ون بھی بھرتی نہ کریں جو اگلے دن یونیورسٹی کے خلاف زہر اگلتے ہیں،کے آئی یو کے اندر ہی ایک لابی یونیورسٹی کو بدنام کرنے کا فریضہ احسن طریقے سے انجام دی رہی ہے۔ یہ ٹیم ہے تو مختصر مگر پراثر ہے۔مجھے حیرت ہے کہ آخر یہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں۔جس ادارے نے انہیں پہچان دی، بھاری بھر کم معاوضہ دیا پھر بھی ہاتھ دھو کر اس علمی درسگاہ کے پیچھے پڑنا عقل و خرد سے ماورا ہے۔

کسی بھی یونیورسٹی پر لازم نہیں کہ وہ مذہبی بلکہ مسلکی پروگراموں کا انعقاد کرے۔اور نہ ہی مذہبی پروگراموں کے لیے یونیورسٹیاں بنائی جاتی ہیں،کے آئی یو کے قیام سے پہلے بھی اسلام تھا اور بعد میں بھی ہے،حسینؓ اور عمرؓ کی عظمت اور مرتبہ کے آئی یو کے اندر پروگرام کرنے اور نہ کرنے پر منحصر نہیں، وہ عظیم بلکہ بہت عظیم ہیں۔ ہم جیسے جاہل، اجڈ، گنوار اور کم عقل لوگ ان کی عظمت وقربانی کو کیا جان سکتے ہیں۔ ہم تو ان کے نام پر آپس میں لڑنے کا سامان کررہے ہیں۔ اگروہ عظیم ہستیاں زندہ ہوتی تو ہر گز ہرگز ہمیں اس طرح کی بچگانہ حرکتوں کی اجازت نہ دیتیں۔ کاش کوئی ان کے فلسفہ قربانی کو سمجھتا۔اے کاش۔گلگت بلتستان کے قریہ قریہ میں پھیلی فرقہ واریت کی آگ سے کے آئی یو کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے،اس نومولود یونیورسٹی کو سیاسی و مذہبی آماجگاہ بنانے کے بجائے تعلیمی و تحقیقی ادارہ ہی رہنے دیا جائے تو سب کا بھلا ہے۔ہمیں یہ سادہ سی بات کیوں نہیں سمجھ میں آتی ہے کہ یونیورسٹیاں تحقیق و تدقیق اورفکر و نظریہ اور علم و ادب کی آبیاری کرتیں ہیں۔ یہاں نہ نماز جمع ادا کیا جاتا ہے اور نہ ہی بزرگان دین پر پروگرام کیے جاتے ہیں۔ اگر کیے بھی جائے تو اتفاق و اتحاد اور صبر و تحمل سے کرنے کی گنجائش ہے مگر اس دینی پروگرام کی شرعی حیثیت کیا ہوگی جس کی وجہ سے کئی بے گناہ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے؟ ہمارے مذہبی نیتاؤں کو اس بارے بھی غور کرنا چاہیے۔میرے ناقص علم کے مطابق متنازعہ زمین پر تو نماز جیسی اہم عبادت بھی مقبول نہیں، اور جہاں انسانیت کی جان و مال کے ضیاع کا خطرہ ہے، کیا وہاں کسی دینی پروگرام کے انعقاد کی شرعی گنجائش نکل سکتی ہے؟میری کے آئی یو کے تمام طلبہ و طالبات سے بھی گزارش ہے کہ اپنی اس مادر علمی کو صاف ستھرا رکھو۔ مسلکی الائشوں کو کھینچ کر یہاں مت لاؤ،یہ تم سب کا مشترکہ گھر ہے۔آگ لگاؤ گئے تو سب کا گھر جلے گا۔مت گھراؤ اس گھر کو اس میں نقصان تم سب کا ہے۔ تم نے مقابلہ ہی کرنا ہے تو علم و ادب اور تحقیق و تصنیف کے میدان میں کود جاؤ، یہی پورے علاقے کے لیے بہتر ہے اور تمہارا کیریئر بھی مضبوط ہوگا۔ آنے والے کل آپ کو اپنے علاقے اور مسلک کی خدمت کا موقع بھی ملے گا۔ کاش یہ پھیکی پھیکی باتیں آپ کو متاثر کرسکیں۔اللہ نے قراقرم یونیورسٹی کی شکل میں تمہیں ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ودیعت میں دیا ہے۔ تم اس میں لڑائی جھگڑے کے بجائے علمی و فلسفی مباحثوں کا آغازکرو،علم و ادب کا رواج ڈالو، تحقیق و تصنیف اور تعلیم و تعلم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناؤ، نظریات و افکار کی آبیاری کرو،انقلابی سوچ کو لے کرآگے نکلو۔28ہزار مربع میل پر پھیلے اس صحرا میں کے آئی یو کی شکل میں ایک ننھا پودا اُگا ہے۔ اس کو جڑ سے اکھیڑنے کے بجائے شفاف پانی سے سیراب کرو۔ اور بچو ! ان لوگو سے جو اس ننھے پودے کو بموں سے اڑانا چاہتے ہیں اور اس کی تالہ بندی کی میٹنگیں کرتے ہیں۔یہ لوگ ہرگز آپ کے دوست نہیں اور نہ ہی علم و ہنر کے دوست ہیں۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔