پھرنہ کہنا ہمیں خبرنہ ہوئی

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد بشیرعلوی

ماہرین تعلیم نے ویسے تو بہت سے نظریات دیئے ہیں لیکن سعی وخطاء (Trial and Errorٌ) بہت مشہور نظریہ ہے جس کے تحت متعلم کئی چیزیں صحیح ہوں یا غلط بار بار کرنے سے سیکھتا ہے. اس نظریہ کوثابت کرنے کیلے ایک ماہر تعلیم نے کسی بھوکی بلی پہ  تجربہ کیا۔بلی کو پنجرے میں بند کردیااورپنجرے کے اندر ایک بٹن لگایادیا۔اگربلی اس بٹن کو دبا دیتی توپنجرے کادروازہ کھل جائے،اور وہ آزاد ہوکرگوشت کھاسکے۔تین دن کی بھوکی بلی کوجب پنجرے کے باہرگوشت نظرآیاتواس نے ہاتھ پیرمارے،پنجرے کو توڑنے کی پوری کوشش کی مگر ناکام ہوئی۔اچانک اس کے جسم کاایک حصہ پنجرے میں نصب بٹن سے جاٹکرایااوردروازہ کھل گیا بلی باہر آگئی ۔ مفکر نے بلی کوگوشت کھانے نہیں دیااورپھرسے پنجرے میں بندکردیا،اب کے جب بلی کوپنجرے میں بندکردیاتوبلی کوزیادہ کوشش نہیں کرناپڑی، تھوڈی کوشش کی ہاتھ پیر مارے مگر خود کو آزاد نہیں کرا سکی. اچانک بلی کے ذہن میں یہ بات آگئی،کہ زور لگانے سے دروازہ نہیں کھلنے والابلکہ اس میں کوئی تو راز ہے جو آسانی سے دروازہ کھلنے کا سبب بنتا ہے۔اچانک پھرسے ان کا جسم بٹن سے جالگا اور دروازہ کھل گیا،بلی باہر آگئی اورگوشت پر لپکنے کوتھی کہ ایک بار پھر مفکر نے بلی کو پکڑکر پنجرے میں بندکردیا۔اب کے بار بلی نے ایک بھی لمحہ ضائع  کئے بناجب جب قید کردیابٹن دباکرباہرآگئی۔

یہی صورتحال گلگت بلتستان میں رہنے والولے غریب لوگوں کاہے ان کو موجودہ سیٹ اپ میں جیسے پنجرے میں بندکیاہو۔ہرشخص قید سے باہر نکلنے کیلے ہاتھ پیرماررہاہے کسی طرح سے بھی وہ بٹن ہاتھ لگ جائے اور دباء کرباہر آجائے۔بٹن کی تلاش میں کئے لوگ چوردروازں کاانتخاب کرتے ہوئے بنظریہ ان کے اپنی منزل حاصل کرچکے ہیں،مگر چندلوگ چوردروازوں کا انتخاب کے چکرمیں پھنس کر رو ڑو ں پر احتجاج کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔کچھ ان میں سے 183اساتذہ کا گلگت اتحاد چوک کا دھرنہ آ پ سب دیکھ چکے ہیں۔اور ہرطرف ایک افراتفری ہے تعلیم کے محکمے میں جو تحقیقات ہو رہی ہیں اللہ کرے تحقیقات شفاف ہوں اور کرپٹ لوگ شرمندہ ، ہوں کم از کم ان کی پگڑیاں اچھال دیں لوگ ،اور چور درواں سے بھرتی ہویئے یہ لوگ بھی کرپٹ مافیاء کی مخالفت میں روڈں پر ہوں باقی بچے وہ لوگ جو پہلے سے ہی ظلم کی چکی میں ص پس رہے ہیں وہ تو ہیں ہی بٹن کی تلاش میں ، جیسے ہی بٹن ہاتھ لگے دباء کرقیدسے آزادی حاصل کرئیں اب تو وہ لوگ بھی جان گئے ہیں جنہوں نے براہ راست پیسے دے کر نوکری حاصل کی ہے پیسے دینے کے باوجود ان کی نوکری کی کوئی ضمانت نہیں۔ہر شخص کرپشن اقرباء پروری کی وجہ سے پریشانی کاشکار نظرآرہاہے،یہاں تک کہ شرک کامرتکب ہورہے ہیں، بغیر کچھ سوچے سمجے ہر شخص یہ کہتاہوانظرآتاہے کہ یار اپناتو کوئی ہے ہی نہیں جو ہماری سفارش کرے بس ہمارا تو لے دے کر اللہ ہے،یعنی ایسے جیسے اگر کوئی سفارشی مل جاے تو پھر خدا کی ضرورت ہی نہ ہو۔اب یہ روز بروز کی بگڑتی صورت حال سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ہرشخص آزادی کی تلاش میں ہے اورکبھی بھی بٹن دباء کر باہر آسکتاہے،اور جب پنجرے کا دروازہ کسی طرح سے کھل گیاتو پھر بلی کی طرح آسانی سے دوبارہ ان لوگوں کوقیدکرناحکمرانوں کی بس میں نہیں ہوگا۔جب قیدی بندہ جس کی قید کے دوران کوئی تربیت نہیں کی گئی ہو،بلکہ دوران قید ان کے زخموں کوسہلانے کے بجائے ذخموں پر نمک چھڑکایاگیاہو ایسے قیدی کی آزادی قید کرنے والوں کیلے کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے۔یا پھر آزادی حاصل کرنے والوں کی تحریک انقلاب کا شکل اختیار کرجاتی ہے۔جب انقلاب آتاہے تو معاشرے کی موجودہ حالت یکسربدل جاتی ہے یعنی پہلے والی کوئی روایت برقرار نہیں رہ جاتی ۔سرمایہ درار طبقہ انقلابیوں کے غلام ہوجاتے ہیں،اورانقلاب لانے والے حاکم،لہذا معاشرے کے پڑے لکھے طبقے کو میرٹ کے مطابق ان کے حقوق دمل جائیں تاکہ معاشرے میں موجود انتشارہ ختم ہو جائے ،حقدار کو حق ملے،نہیں تو کسی بھی وقت پنجرے میں قید لوگ بٹن کو دباء کر باہر اجائیں اور پورا کا پوراگوشت کھاجائیں، اور جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ ہرچیز کے مالک ہیں ان کا اپناگوشت بھی شاید بچے نہ بچے۔مجھے قرآن مجید کی ایک آیت بھی اس ضمن میں یاد آرہی ہے،یوم یفرالمرء ا من اخیہ و امہ وابیہ وصاحبیہ وبنیہ۔وہ لوگ جن کے پیسے بغیر چبائے نگل گئے ہیں وہی ان کو نوچ لیں گے، یا پھر اپنوں سے منہ چھپائے بھاگیں گے۔

بلبل کو باغبان سے نہ صیاد سے غلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہارمیں

یہ لوگ انسان ہیں بلبل نہیں جو قسمت کا لکھا سمجھ کر بیٹھ جائے۔ انسان فطری طور پر آزاد خلق ہوا ہے اگر کسی شخص کو وقتی طور پر کوئی انسان قید بھی کر لے تو زیادہ دیرپا نہیں کہ وہ قید سے آزادی حاصل کر ئے۔ دنیا کا قانون ہے کہ کوئی بھی قوم زندگی بھر غلام نہیں رہتی ،کوئی نہ کوئی جنگ آزادی کاہیرو پیدا ہوجاتا ہے۔جیسے افریقہ میں پسے ہوے کالے غلاموں کو نلسن منڈیلا جیسا ہیرو ملاآج ہر شخص کے منہ سے منڈیلا کانام سنتے ہی دعا نکل جاتی ہے،اب میں منڈیلا کے لیے دعا کی بات کروں توپھر کوئی مجھ پے کفر کا فتوی نہ لگائے دیکھو یہ ایک کافر افریقی کو دعا دے رہا ہے مگرمیں کہوں یا تو میں کافر ہوا یا وہ مسلمان نہ رہے۔،جس27نے سال قید کاٹنے کے باوجود اپنی قوم کو ان کا حق دلادیا،اور آج سپرپاور امریکہ کا صدر بلاکسٹ ہے پھر بھی کچھ انسان رحم دل ہوتے ہیں انتقام نہیں لیتے مظلوم کو جب موقع ملتا ہے تب وہ ظالم کو بھی انصاف فراہم کرتا ہے مگر میرے حساب سے اتنابھی کافی ہے کہ جن کو گورئے انگریز انسان نہیں گرانتے تھے رب نے انہیں گوروں کو کالوں کی غلامی میں دیدیا۔ یوں ہر قوم میں نلسن منڈیلا جیسا پیدا ہوجاتا ہے تاکہ وہ معاشرے سے ظلم کرنے والوں کا اور ظلم کاخاتمہ کرئے۔ جیسے،ایران کو امام خمینی جیسی شخصیت ملی، جنہوں نے ایران سے ظلم ،کرپشن اقراباء ، اور کی طاغوت کی زبردستی پوجا کرانے والوں کا خاتمہ کرکے ایران جیسے ملک میں انقلاب لایا اور آج طاغوت کی آنکھ میںآنکھ ڈال کر بات کرتے ہیں اور دنیا میں ایران کی استقامت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ویسے ہی انقلابی یہاں بھی پیدا ہونگے بلکہ میں یہ کہوں کرپشن ،رشوت خوری اقرباء پروری جیسی لعنت خودبخود ایسے لوگ پیدا کردیتی ہے ہر شخص ایک قابل حد تک برداشت کرلیتا ہے

جب ظلم برداشت سے باہر ہوجائے توپھر معاشرے میں حقوق سے محروم ظلم کے ستائے ہوئے لوگ بٹن کی تلاش شروع کر دیتے ہیں بس بٹن ان کو کسی طرح مل جائے اور دباء کر باہر اجائیں۔ ،انشاء اللہ بہت جلد ان کو پنجرے کا بٹن مل جائے گا پھر باہر آ کر ظلم میں پسی ہوئی اس قوم کو ظاموں سے نجات بھی دلائنگے اور ظلم کا خاتمہ بھی۔ انشاء اللہ۔

صاحب تحریر سے اس ای مل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے.bashir.jabbar@yahoo.com

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔