گلگت شندور روڈ کو آل ویدر روڈ میں تبدیل کرنے کے لئے بھر پور کوشش کرینگے ایم پی اے سلیم خان

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پشاور (کریم اللہ) سابق صوبائی وزیر بہبود آبادی اور موجودہ ایم پی اے لوئیر چترال سلیم خان نے کہا ہے کہ گلگت چترال روڈ کو آل ویدر روڈ میں تبدیل کرنے کے لئے بھر پور کوشش کرینگے ۔اپنے ایک اخباری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پہلے بھی کوشش کر چکا ہوں اور آئیندہ بھی اس کے لئے کام کرتا رہونگا ۔گلگت بلتستان قانو ن ساز اسمبلی کے حالیہ قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جی بی اسمبلی نے اچھی شروغات کی ہے جس کے لئے ہم بھی ان سے مل کر کام کرنے کے لئے تیا رہے کیونکہ اس سڑک کی تعمیر اور سارے موسم میں ان کی بحالی سے نہ صرف گلگت بلتستان کی ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ اس سے چترال کے ٹریفک مسائل کو حل کرنے میں بھی کامیابی ملے گی اس کے علاوہ اس سڑک کی بحالی سے دونوں خطوں کے عوام میں سماجی رابطے بڑھنگے سیاحت کو فروغ ملے گا اور اس سے دونوں خطوں کے عوام کے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں خطوں کے ادبی و علمی تنظیموں کو زیادہ سے وفود کا تبادلہ کر کے اعتماد سازی کی بحالی میں اپناکردار ادا کرنا چاہئے اور چھوٹے موٹے تنازعات میں الجھنے کے بجائے مشترکہ اقدار کو فروغ دینا چاہئے ،انہوں نے اپنے بیان میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہKIU چترال کے اسٹوڈنٹس کی تعلیمی ضروریات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اب وقت آگیا ہے کہ اس کا ایک کمپس چترا ل میں بھی قائم کیا جائے تاکہ یہاں کے غریب اسٹوڈنٹس اپنے دہلیز میں اعلیٰ تعلیم سے مستفید ہوسکے ۔اس کے علاوہ انہوں نے گلگت مستوج چلنے والی نیٹکو سروس کے حوالے سے کہا کہ اس سروس کی بحالی سے گلگت اور چترال کی جانب سفر کرنے والی مسافروں کے بہت سارے مسائل حل ہوئے ہیں سلیم خان کا مزید کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ نیٹکو اپنی سروس کو چترال تک وسعت دے تاکہ علاقے م;2یں سفر کا مسئلہ حل ہو سکے ۔

ایم پی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ آئندہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اجلاس میں گلگت چترال روڈ کو آل ویدر روڈ میں تبدیل کرنے کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کرونگا اور انشا اللہ سب مل کرکام کرنے سے اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی ،چترال اور گلگت بلتستا ن دونوں ایک سکے کے دو رخ ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ سماجی رابطوں کو بڑھا کر مشترکہ اقدار کے فروع کے لئے کام کیا جائے کیونکہ موجودہ دور تعلق توڑنے کا نہیں بلکہ رشتے جوڑنے کا ہے انہوں نے ریڈیو پاکستان گلگت کے کردار کو بھی سراہا جوکہ گزشتہ پانچ چھ سالوں سے روزانہ کہوار زبان میں پروگرام نشر کرتی ہے لیکن اب اس کی ٹائمنگ اور فریکونسی کو بڑھا دینے کی ضرورت ہے کیونکہ گزشتہ دو سالوں سے اس کی نشریات چترال میں واضح انداز سے نہیں پہنچتی ،انہوں نے چترال کے اسٹوڈنٹس پر زور دیا کہ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے اور جو وہاں زیر تعلیم ہے وہ خود کو صرف کتاب کی حد تک محدود رکھنے کی بجائے صحت مند سرگرمیوں میں شامل ہو کر چترال کی صیح انداز میں نمائیندگی کرے، خصوصا، ادبی سرگرمیوں میں شامل ہونے سے طلبہ وطالبات کو سیکھنے کے بہت سارے مواقع مل سکتے ہیں. انہوں نے گلگت بلتستان کے نیوز ایجنسیوں کے مالکان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے نیوز ایجنسیوں کو چترال میں بھی انٹروڈیوس کرے تاکہ دونوں خطوں کے مسائل زیرِ غور آنے کے علاوہ علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروع ملے اور اس سے نوجوانوں میں صحافتی ادب کو پروان چڑھانے میں مدد ملے گی۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔