دیامر بھاشہ حدود تنازعہ: ہربن اور تھور کے قبائل میں خون ریز تصادم، چار افراد ہلاک، سات زخمی

دیامر بھاشہ حدود تنازعہ: ہربن اور تھور کے قبائل میں خون ریز تصادم، چار افراد ہلاک، سات زخمی

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
چلاس(ایس ایچ غوری) دیامر بھاشہ ڈیم حدود تنازعہ ہربن اور تھور قبائل میں خون ریز تصادم 4افراد ہلاک 7افراد زخمی علاقہ میں شدید خوف و ہراس ،تصادم کے باعث شاہراہ قراقرم پر ٹریفک معطل،دونوں اطراف سے ہزاروں افراد اپنے اپنے حدود میں مورچہ زن ،مولانا قاضی عنایت اللہ کی قیادت میں علماء و عمائدین دیامر کا وفد دونوں فریقوں کے مابین فائر بندی کروانے روانہ ہوگئے دونوں قبائل کے مابین دیامر بھا شہ ڈیم حدود تنازعہ اور گذشتہ دنوں ہربن عوام کی طرف سے تھور کے عوام کے مبینہ بکریاں چوری اورملوث ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجہ سے حالات خراب ہوئے تھے بعد ازاں عمائدین داریل اور ضلعی انتظامیہ دیامر کی مسلسل کاؤشوں سے حالات بہتر ہوئے لیکن گذشتہ روز ایک با ر پھر ہربن قبائل کی گندلونالہ کی طرف پیش قدمی کی دھمکیوں کی آمدہ اطلاعات پرتھور قبائل کے عوام کی بڑی تعداد گندلو نالہ کی حفاظت کے لئے پہنچ گئے اس دوران بعض نامعلوم افراد نے گندلو نالہ میں تھور قبائل کے مویشی خانوں کو آگ لگایا جس کے ساتھ ہی گند لو نالہ میں موجود دونوں مورچہ زن قبائل میں فائرنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ہربن سے تعلق رکھنے والے 4 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے جنہیں شتیال ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ بعض زرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہے کیونکہ گندلو نالہ تک عام لوگوں کی رسائی ممکن نہیں ہے دوسری طرف مولانا قاضی عنایت اللہ کی قیادت میں امن قافلہ متاثرہ علاقہ پہنچ گئے ہیں اوردونوں قبائل سے فائر بندی کی اپیل کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف ہربن اور تھور سے تعلق رکھنے سینکڑوں افراد اپنے اپنے حدود میں موجود ہے جبکہ گندلو نالہ میں بھی سینکڑوں لوگ مورچہ زن ہیں
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔