قراقرم یونیورسٹی کی متعصبانہ سوچ، وخی زبان کو قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کی میٹنگ میں نظر انداز کیا گیا

قراقرم یونیورسٹی کی متعصبانہ سوچ، وخی زبان کو قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کی میٹنگ میں نظر انداز کیا گیا

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

download

کراچی ( نمائندہ خصوصی ) قراقرم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دوسرے ذمہ داران نے وخی زبان کو قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کی میٹنگ میں نظر انداز کر کے تعصب اور جہالت کی شرمناک مثال قائم کی ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں بشمول اشکومن ، چترال اور وادی گوجال میں بولے جانے والی وخی زبان کو نامعلوم وجوہات پر اس قابل نہیں سمجھا گیا کہ اس کے بارے میں پالیسی ساز اشخاص اور اداروں کومعلومات فراہم کی جائے اور اس کی ترقی اور ترویج کے لئے کوششیں کی جائیں۔ گلگت بلتستان کے چالیس ہزار افراد کی شناخت اور چھپانے اور انکی شناخت کو مسخ کرنے کی مذموم کوششوں کو عالمی فورمز پر آواز اُٹھا کر ناکام بنائیں گے۔ 

ان خیالات کااظہار وخی زبان اور ثقافت کی ترویج سے وابستہ افراد اور اداروں کے سربراہان نے ایک خصوصی گفتگو کے دوران کیا ۔ اشکومن وخی ویلفیر تنظیم کے عہدیدار محمد کریم نے کہا کہ وخی زبان کو کمتر سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ وخی ایک بین الاقوامی زبان ہے اور چار ممالک میں بولی جاتی ہے، جبکہ افغانستان میں وخی بولنے والوں کو آئین اور قومی ترانے میں شامل کیاگیا ہے ۔ اسے نظر انداز کر نے کی سازش کرنے والے علاقے کے خیرخواہ نہیں ہیں۔ 

گوجال یوتھ الاینس کے احمد علی نے وخی زبان کو نظر انداز کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوے کہا کہ بروشسکی ، شنا، بلتی اور کھوار کے ساتھ ساتھ وخی بولنے بھی گلگت بلتستان اور پاکستان کے باسی ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ثمینہ بیگ اور مرزا علی کو قومی ہیرو کہنے والے اُن کی  مادری زبان کو نظر انداز کر کے قومی زبانوں کی فہرست سے باہر رکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ دوغلے پن اور تعصب کی انتہا ہے ۔ احمد علی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وخی زبان کے بارے میں بھی ایک بریفنگ کا انتظام کیا جائے اور وخی زبان کے ماہرین کو ملکی اور بین الاقوامی سطح سے بلا کر ان کی رائے کو سنا جائے۔ 

وادی بروغل (چترال ) سے تعلق رکھنے والے طالب علم مختار بیگ ںے مطالبہ کیا ہے کہ وخی زبان کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ہے کی موجودہ عالمی تناظر اور گلگت بلتستان کی وسطی ایشائی ممالک اور چین کے ساتھ روابط میں مضبوطی قائم کرنے کے لئے وخی کو بطور سیڑھی استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ چین، افغانستان ، تاجکستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں وخی بولنے والے صدیوں سے آباد ہیں اور یہ ثقافت، زبان اور روایات کے  مضبوط دھاگوں سے آپس میں جڑے ہوے ہیں۔ 

یاد رہے کہ پچھلے دنوں اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات، نشریات اور قومی ورثے کی اہم میٹنگ ہوئی تھی جس میں پاکستان بھر سے چھوٹے بڑے زبانوں کے ماہرین کو مدعو کیا گیا تھا۔ گلگت بلتستان سے قراقرم یونیورسٹی کے بعض فیکلٹی ممبران نے اس میٹنگ میں شرکت کی اور بلتی، بروشسکی اور شنا زبان کے بارے میں اراکین کو بریفنگ دی ۔ تاہم  اس دوران گلگت بلتستان کی ایک اہم زبان وخی کو یکسر نظر انداز کیا گیا جس سے لوگوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔

 اپنی مدد آپ کے تحت گلگت بلتستان میں آباد وخی لسانی گروہ کے افراد نے اپنی زبان کی ترقی کے لئے شاندار کارنامے سرانجام دیے ہیں، جنہیں دوسرے ممالک میں آباد وخی بولنے والے افراد بھی مانتے ہیں۔ تاہم گلگت بلتستان کی سطح پر اس زبان کو پزیرائی اہمیت نہیں دی جارہی ہے اور قراقرم یونیورسٹی نے بھی اس زبان کو نظر انداز کر کے علمی اورفکری خیانت کا ارتکاب کیا ہے۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔