بدعنوانی کیس میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو چترال کے چار افسرا ن گرفتار، ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

بدعنوانی کیس میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو چترال کے چار افسرا ن گرفتار، ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(نامہ نگار) بدعنوانی کے الزام میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو (کمیونیکیشن اینڈ ورکس) کے چار افسران گرفتار۔ ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر بونی کے پولیس کے حوالے کیے گئے۔ ایس ایچ او تھانہ بونی انسپکٹر عتیق الرحمان کے مطابق ٹھیکدار سبحان الدین کے شکایت پر ایگزیکٹیو انجنئر نجم الاسلام، سب ڈویژنل آفیسر بونی ریاض ولی شاہ، سب ڈویژنل آفیسر چترال مقبول اعظم اور سب انجنئیر محمد نواب کے حلاف عدالتی احاطے میں جوڈیشل لاک اپ کی تعمیر میں ناقص اور غیر معیاری میٹریل کے استعمال پر مقدمہ درج نمبر 48 مورحہ 12 مارچ کو درج ہوا تھا۔

مقدمہ کے اندراج پر ان افسران نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کروالی (BBA) تاہم منگل کے روز اس میعاد حتم ہونے پر یہ ملزمان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد حسین کے عدالت میں پیش ہوئے جس پر فاضل سیشن جج نے ان کی ضمانتیں منسوح کرکے بونی پولیس کو ان کی گرفتاری کا حکم دیا۔

handcuffان ملزمان کو بدھ کے روز ایڈیشنل سیشن جج کے عدالت میں پیش کیا گیا جن کی ہدایت پر ان کو ڈیوٹی آن مجسٹریٹ ، سول جج، علاقہ قاضی محمد اسحاق خان کی عدالت میں پیش کیا گیا کیونکہ سول جج بونی رحمت اللہ محسود چھٹی پر تھے۔ 

اس موقع پر عدالتی احاطے میں کثیر تعداد میں ٹھیکدار برادری، محتلف سول محکموں کے افسران بھی ان ملزمان کے ساتھ بطور معاون عدالت پہنچ گئے۔ سول جج محمد اسحاق خان نے ان کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر بونی پولیس کے حوالہ کیے۔ ان کو اگلے روز دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ان ملزمان کو جب چترال عدالتی احاطے میں لائے گئے تو کثیر تعداد میں ان کے حامی ٹھیکدار برادری بھی موجود تھی۔ محکمہ تعلیم کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حاجی نثار محمد خان بھی ان کے سفارش کیلئے جج کے کمرے میں پہنچ گئے۔ 

ان ملزمان کو عدالت میں پیشی کے دوران کسی کو بھی کیمرے کی استعمال کی اجازت نہیں تھی اور کچھ ادارے اس معاملے بھی صحافیوں سے تعاون نہیں کر رہے تھے. 

عدالت کے کمرے سے جن ان ملزمان کو باہر نکالا جانے لگا تو عدالت کے ایک مقامی اہلکار نے با آواز بلند سب لوگوں کے عدالت کے احاطے سے باہر نکلنے کا حکم سنایا کہ یہ عدالتی حکم ہے تم لوگ سب باہر نکل جاؤ تاکہ ان ملزمان کو شرمندگی نہ اٹھانا پڑے اور جب ان کو باہر نکالا گیا تو ان ملزمان کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ باہر نکال کر ایک ٹھیکدار کے نجی گاڑی میں بٹھائے گئے جس کی ڈرائیونگ بھی وہ ٹھیکدار خود کر رہے تھے۔ 

اس دوران چترال اور بونی پولیس خاموش تماشائی بنتے رہے اور ان کی جرئات نہیں ہوئی کہ ان ملزمان کو پولیس کی گاڑی میں بٹھائے جس طرح دوسرے غریب لوگوں کو بٹھاتے ہیں۔ 

چترال کے عوام نے اس بات پر نہایت تشویش اور حیرانگی کی اظہار کیا کہ یکم اپریل کو ان چار افسران کو گرفتار کیا گیا مگر کسی مقامی و غیر مقامی صحافی نے ان کی کوئی خبر نہیں لگائی ۔ اور جب ان کو عدالتی احاطے میں لایا گیا تو بعض صحافیو ں کو دیکھا گیا کہ محکمے کے لوگ اور ٹھیکدار برادری ان کو ایک کونے میں لے جاکر ان کا مٹھی گرم کرنے لگے تاکہ وہ یہ خبر نہ لگائے۔ 

بتایا جا رہا ہے کہ ان ملزمان کے حامیوں نے بھر پور انداز میں اپنا کردار ادا کیا اور صحافی براداری کو خریدا۔ بعض صحافیوں کو با اثر افراد کے فون بھی آتے رہے تاکہ کسی قسم کی کوریج نہ کرے۔ صحافیوں کو معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان سمجھا جاتا ہے جب وہ بھی کرپٹ عناصر کے ہاتھوں بک جائے تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہو۔

دریں اثناء تحفظ حقوق بونی کے اہلکاروں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے کرپٹ عناصر کے گرفتاری پر خوشی کا اظہار کیا اور عدلیہ کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے اب بڑے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا ہوا ہ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے حلاف مکمل تحیقیات کی جائے کہ انہوں کس کس منصوبے میں غبن کیا ہے۔ اور محکمے کے اہلکاروں کی اثاثے بھی چیک کیا جائے کہ انہوں نے کتنے اثاثے بنائے ہیں۔

اس سلسلے میں جب پولیس اسٹیشن بونی سے جب ایف آئی آر کی نقل اور دیگر معلومات لینے کی کو شش کی تو انہوں نے معلومات دینے سے انکار کیا۔ جس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان افسران نے بونی پولیس کو بھی خوش کیا ہے۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔