اپنے من میں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی

75 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: نا ہیدہ غالب

ایک با ت بہت مشہو ر ہے ؛ ’’ چر ا غ خو د جل کر دو سر و ں کو رو شنی فر ا ہم کر تاہے تودل جلا نے سے کیا حا صل ، چر ا غ جلا ؤ کہ رو شنی آ جا ئے‘‘کئی دنو ں سے ایک خیا ل ذہن میں گر د ش کر رہا ہے کہ آ خر لفظ ضمیر کے معنی کیا ہیں؟ اور انسا ن کے سا تھ اِس کا کو ن سا گہرا تعلق ہے؟کیا انسا ن کی شخصیت پر اِس کا کو ئی گہر ا اثر ہو تا ہے؟سوچنے کی ضر و ر ت ہے۔

ضمیر کے معنی اگر لغت میں دیکھا جا ئے تو اِ س کے کئی معنی ہیں دل ، بھید ، اندیشہ ، خیا ل وغیر ہ۔یہاں اصل با ت یہ ہے کہ انسا نی ز ند گی میں اِ س کے اصل معنی کیا ہیں؟ کیا آ ج تک کسی نے لفظ ’’ ضمیر ‘‘ کو لغت سے با ہرنکا ل کر جا ننے یا سمجھنے کی کو شش کی ہے؟ شا ید چند ایک کے نز دیک ہا ں اور چند کے نز دیک ناں۔جہا ں تک میں سمجھتی ہو ں میر ے نز دیک ضمیر کے اصل معنی اپنی اندر و نی اصلا ح کے ہیں۔انسا ن کا اپنے با طن کی درستگی کر نا ، اُ سے صحت مند بنا نا ، منفی سو چو ں سے دور ر کھنا ، حق کاسا تھ دینا ، سچ کا سا منا کر نا المختصر اپنے اندر ایک ایسے انسا ن کو جنم دینا جو اپنی تخلیق ہو نے کے مقا صد کو جا ن سکے ،ضمیر کی خصو صیا ت میں آ تی ہیں۔

innerضمیر کے حو الے سے انسا نوں کی مختلف اقسا م سا منے آ تی ہیں۔جیسے ایک انسا ن ایسا ہو تا ہے جسے اپنے ضمیر کی کو ئی خبرہی نہیں ہے ؛ اُس کے سا منے کیا سچ ہے ، کیا جھو ٹ ہے ، ان چیز و ں کی کو ئی اہمیت ہی نہیں ہے۔چا ہے اُس کے سا تھ کو ئی کتنا ہی بُر ا کیو ں نہ کر ے اُسے محسو س ہی نہیں ہو تا اور اپنے حقو ق کے لیے آواز بلند کر نا جا نتا ہی نہیں اور وہ بجا ئے اپنے ضمیر کو جگا نے کی ’’ تو نہیں اور صحیح، ا ور نہیں اور صحیح ‘‘پر یقین رکھتا ہے ۔المختصر یہ گروہ اس با ت پہ اند ھا یقین رکھتے ہیں کہ اپنی دنیا میں مست رہو اور خو شی سے اپنی زندگی جیواور کسی بھی حا ل میں اپنے ضمیر کو جگا نے کی اور للکا رنے کی کو شش نہ کر و۔اور میں سمجھتی ہو ں کہ ایسے انسان یا تو بہت معصو م ہو تے ہیں یا پھر بہت ہی عا قل۔ انسا نو ں کی دو سر ی قسم ایسی ہے جنہیں یہ تو پتہ ہے کہ انسا ن کا ضمیر کیا ہے اور اِس کی آوا ز سننا چا ہیئے یا نہیں ۔لیکن انسا نو ں کی یہ قسم کسی بھی صو ر ت اپنا نقصا ن نہیں چا ہتے اور سچ کو سچ کہنے اور جھو ٹ کو جھو ٹ کہنے سے یا تو ڈر جا تے ہیں یا پھر ا پنے ذا تی مفا د کی خا طر جا ن بو جھ کر سچ اور جھو ٹ سے منہ مو ڑ لیتے ہیں۔ایسے انسا نو ں کے لیے اردو کے پہلے نا و ل نگا ر مو لو ی ڈپٹی نذ یر احمد نے ایک خا ص نا م ’’ ابن الو قت‘‘ استعما ل کیا ہے(ابن الو قت اُ س انسا ن کو کہا جا تا ہے جو مو قع پر ست ہو)لیکن یہ کہا ں کا انصا ف ہے کہ فر دِ وا حد اپنے ذا تی مفا د کی خا طر معا شر ے کا استحصا ل کر تا ہے اور اِس سا ری تحر یک کا خمیا زہ معا شر ے کے ہر فر د کو بہت بڑ ے نقصا ن کی صو ر ت میں بگھتنا پڑ تا ہے۔ شا عر مشر ق کے شعرکا یہ مصرع اس مخصو ص گر وہ کے لیے بہت مو ز و ں لگتا ہے۔

تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیر ا ، نہ من

البتہ انسا نو ں کی اِ س قسم میں ایسے لو گ بھی آتے ہیں جو معا شر ے کی بہبو د کے لیے ابن الو قت بنتے ہیں بھلے انفر ا دی طو ر پر اُن کا کتنا ہی نقصا ن کیو ں نہ ہو،ایسے لو گو ں کو جہا ں تک میر ا خیا ل ہے عقلمند کہیں گے۔کیو ں کہ معا شر ے کے شہر ی ہو نے کی حیثیت سے وہ اوّلین فر یضہ انجا م دے رہے ہو تے ہیں۔اور یہ و ہی لو گ ہیں جن کی و جہ سے معا شرے میں تر قی کی ر ا ہیں کُھل جا تی ہیں اور معا شر ہ کسی بھی بدنظمی کا شکار ہو نے سے بچ جا تا ہے۔کیو نکہ انسا نو ں کا یہ گر وہ اپنے ضمیر کی آ وا ز کو صر ف اور صر ف معا شر ے کی خا طر پسِ پشت ڈا ل دیتا ہے۔لیکن اِس گرو ہ کو وقتی طو رپر بہت کچھ سننا بھی پڑ تا ہے اِس کے با و جو د وہ ہر اُس با ت کو سننے کے لیے تیا ر ہو تے ہیں جس کا تعلق بے شک اُن کی ذات سے ہی کیو ں نہ ہو۔وہ اپنے انفر ا دی جذ با ت پر قا بو رکھتے ہیں کیو نکہ اِس مخصو ص گر و ہ کو یہ علم ہو تا ہے کہ وقتی طو ر پر معا شر ے کے جذبا ت ابتر ہو سکتے ہیں لیکن و قت گزر نے کے سا تھ ساتھ معا شر ے کو یہ احسا س بھی ہوجا تاہے کہ جو ہوا اچھے کے لیے ہو ا۔

انسا نو ں کا تیسر ا گر وہ ایسا ہے جو ہر حا ل میں اپنے ضمیر کی آ وا ز کوبا لا تر رکھتا ہے اور حق کے لیے لڑ نا چا ہتا ہے ۔حا لا نکہ اِ س گر وہ کو اِس کے سنگین نتا ئج کا پہلے سے ہی علم ہو تا ہے کہ انفر ا دی طور پر اس کو کتنے بڑے نقصا ن کاسا منا ہو سکتا ہے ۔ ہا ں البتہ یہا ں یہ با ت بھی و ا ضح کر نا بہت ہی ضر و ر ی ہے کہ فر دِ وا حد جب ضمیر کی جنگ لڑ تاہے تو اُس وقت ایک مخصو س گروہ ایسابھی ہو تا ہے کہ وہ اُس مخصو ص مو قع سے اپنا فا ئد ہ ڈھو نڈتا ہے اور بھر پو ر فا ئد ہ اُٹھا تا ہے۔

اب یہا ں با ت بے شک فر دِ وا حد کی ہے لیکن اس فر دِ و ا حد کا اصل مقصد کسی نہ کسی طر ح سے معا شر ے کی اصلا ح ہے۔بہت مشکل ہو تا ہے کہ کو ئی اِس کٹھن مہنگا ئی کے دور میں اپنا جی جلا کر معا شر ے کی اصلا ح کا سو چنا اور تین وقت کی روزی رو ٹی کو یوں ٹھو کر ما رنا۔ بھلا کو ن ایسا کر سکتا ہے۔ہم انسا ن ہیں اور ہما ر ی سو چ صر ف اور صرف تین وقت کی روز ی رو ٹی پر ہی مر کو ز ہو تی ہے۔کا ش کہ خدا نے پیٹ کا یہ پلندہ انسا ن کو نہ دیا ہو تا تو شا ید انسا ن اِس پیٹ کے بکھیڑ ے سے با ہر نکل کر معا شر ے کی تعمیر و تر قی میں اپنا حصہ ڈالتا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔