کاظمی صاحب کی تاریخی کتاب اور میرا پیش لفظ

کاظمی صاحب کی کتاب ”تاریخ اسماعیلی نزاری قاسم شاہی سلسلہ امامت“ شائع ہوگئی ہے۔ زیر نظر کتاب کے مصنّف جناب سید حسین شاہ کاظمی صاحب کے ساتھ میرے خاندانی مراسم ہیں۔ اس لیے علمی دوستی کے ساتھ ساتھ خاندانی رشتہ داری بھی ہے۔ اس دفعہ میری کراچی آمد کا سن کر وہ میرے پاس سٹاف ہاؤس تشریف لائے اور ایک بھاری بھر کم کتاب میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ میری کئی سالوں کی محنت ِشاقہ ہے۔ اس کی نوک پلک سنوارنی ہے اور اس کا پیش لفظ بھی لکھنا ہے۔ جہاں تک نوک پلک سنوارنے کی بات تھی۔ میں نے حامی بھر لی لیکن پیش لفظ وہ بھی تاریخ کی کسی کتاب پہ اور تاریخ بھی اسماعیلی مسلمانوں کی تو یہ کام کافی مشکل تھا لیکن کاظمی صاحب کے اصرار کے سامنے بے بس ہونا پڑا۔

آٹھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل کاظمی صاحب کی نئی تحقیقی کتاب کا مسودہ ایک عرصے تک میرے زیر مطالعہ رہا۔ جس میں پہلا کام اس کی نوک پلک سنوارنی تھی۔ زبان و بیاں کو دیکھنا تھا۔ میں نے اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے کتاب کے مطالعے کے ساتھ کانٹ چھانٹ کی اور سرخ روشنائی سے زبان کی غلطیوں کی نشاندہی کی۔ اُمید کی جاتی ہے کہ جن جن چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان کی اصلاح کی جائے گی۔ بعد ازاں تبصرے کی نیت سے کتاب کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ شاہ صاحب کی یہ کتاب جو سینکڑوں سالوں پر پھیلے ہوئے تاریخی، جغرافیائی اور دینی و مذہبی حالات و واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ انسان کسی بھی وقت تاریخ کو فراموش نہیں کر سکتا۔ اس لیے مصنّف نے اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے آغازِ اسلام سے لے کر این دم تک کے حقائق کو دیانت داری کے ساتھ تحریر میں لانے کی ایک اچھی کاوش کی ہے۔ غیر جانبدار اور تحقیقی و تاریخی اسناد کی کمی کی وجہ سے ایک مستند تاریخ لکھنا بہت مشکل ہے کیونکہ ہم تمام مسلمانوں کے ساتھ المیہ یہ رہا ہے کہ ہلاکو خان نے قلمی کتابوں کا بڑا ذخیرہ، مسلمانوں کا عظیم سرمایہئ تحقیق دریائے دجلہ میں ڈبویا تھا تاکہ علم اس کی وحشت کاریوں کے مد مقابل نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج علمی تحقیقی میدان میں دُنیا کے مسلمان اب تک مغرب کے دست نگر ہیں۔ جبکہ دوسری وجہ اسماعیلی تاریخ پر خود اسماعیلیوں کی لکھی ہوئی کتابیں کم دستیاب ہیں۔ میرے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہر دور میں اسماعیلی ایک تاریخ ساز قوم کی صورت میں سامنے آئے اور یہ واضح ہے کہ تاریخ ساز کبھی تاریخ نگار نہیں ہوتے۔ اس میدان میں ایک مؤرّخ و محقق کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ وہی بہتر جانتا ہے۔

بہرکیف مذکورہ کتاب اس میدان میں شاہ صاحب کی کئی سالوں کی محنت شاقہ اور مساعیِ جمیلہ کا ثمرہ ہے اور بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ ان تمام مشکلات کے باوجود انہوں نے جس انداز میں قدیم اور عصر حاضر کی تحقیقات کے نتائج کو یکجا کیا ہے اور حوالہ جات کے ساتھ بات کی ہے وہ سراہے جانے کے قابل ہے۔ البتہ حوالہ جات کے حوالے سے شاہ صاحب سے میں نے گزارش کی ہے کہ وہ جدید تحقیق کے مطابق حوالہ جات کو ترتیب دے۔ تاکہ قارئین کتاب کو ایک حوالے کی کتاب کے طور پر پڑھ سکے۔ تاریخ پر اس سے پہلے ایران کے مشہور مؤرّخ ڈاکٹر فرہاد دفتری نے ۰۹۹۱ء؁ کو ایک ضخیم تحقیقی کتاب ”اسماعیلی تاریخ و عقائد“ اور بعد ازاں ”اسماعیلیوں کی مختصر تاریخ“ کے عنوان سے ایک اور کتاب لکھ کر اسماعیلی ادب پر بڑا احسان کیا تھا۔ اس سلسلے کی ایک اور اہم کتاب “Eagle’s Nest” کے نام سے محقّق ویلیم پیٹر نے رقم کی ہے جس میں ایران اور شام میں اسماعیلی دعوت اور خاص کر الموت میں مشہور اسماعیلی داعی حسن صباحؒ کی شخصیت کو حقیقت کے آئینے میں دکھانے کی ایک اچھی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب جو کہ انسٹیٹیوٹ آف اسماعیلی اسٹڈیز لندن (IIS) سے شائع ہوچکی ہے۔

کاظمی صاحب کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد سے بحث شروع کی ہے۔ پھر شیعہ اسلام اور بعد میں شیعہ اسلام کے اندر کیسے فرقے بنتے گئے اور خصوصاً ائمہ علہیم السلام کے ادوار کو خطہ شمال و چترال کے مقامی راجوں کے ادوار سے موازنہ کرنے کی کوشش ہے کہ کس امام کے دور میں کس راجے کی حکومت تھی اور امامت کے ان پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ پھر دعوت کی تبلیغ میں پیروں اور خاندان سادات کی خدمات پر بڑی فیاضی سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ خصوصاً سرزمین شمال و چترال جہاں پر مختلف ادوار میں محدود پیمانے اور محتاط طریقے سے اسماعیلی مسلم طریقہئ فکر (Ismaili Muslim School of Thoght) کی داغ بیل پڑی اور پھر رفتارِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اس کی تبلیغ و اشاعت ہوتی رہی ہے۔

ہم تاریخی واقعات کی صداقت کیسے جانچ سکتے ہیں؟ اس سوال کو سمجھنے کے لیے میرے خیال میں اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم اپنے اندر تنقیدی اور تقابلی نقطہئ نظر پیدا کریں۔ جن حضرات سے ہمیں عقیدت ہے۔ لازمی نہیں کہ ان کی محبت میں تاریخ کو مسخ کر دیں۔ اسی طرح جن حضرات سے ہماری مخالفت ہے۔ ان کی ہر بات کو غلط قرار دیا جائے۔ مثال کے طور پر اسلام کے ابتدائی دور کے خلفاء نے اپنے اپنے دور میں سابق حاکموں کو معزول کرکے نئے حاکم تعینات کئے۔ پھر یہ بھی ہوا کہ ایک حاکم کو معزول کرکے دوبارہ تعینات کر دیا گیا ہو۔ تاریخ کاکام اس قسم کے اقدامات پر بحث کرنے کی بجائے ان سیاسی و سماجی عوامل کو پیش کرنا ہے جو ان فیصلوں پر منتج ہوئے۔ دوسرے کچھ باتوں کا تاریخ کی بجائے صرف ایمان سے تعلق ہے۔ لہٰذا تاریخ کے ذریعے ایمان کو مسخ کرنا درست نہیں۔ مثلاً شق صدر کے واقعے کا تعلق ایمان سے ہے جس میں دو فرشتوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سینہ چیر کر دِل میں سے دو داغ دُور کئے تھے۔ یہ واقعہ تاریخ کے نہیں بلکہ ایمان کے زمرے میں آتا ہے اور یہ قابل بحث و تنازع نہیں۔ آج کل کے مؤرّخ اس واقعے کی جو تاریخ بیان کرتے ہیں وہ صرف عقیدے کی بنیاد پر ہے۔

شاہ صاحب کی زیر تذکرہ کتاب میں بھی ایسے بہت سارے واقعات آپ کو پڑھنے کو ملیں گے جس کا تعلق تاریخ سے زیادہ ایمان سے ہے۔ مثلاً بعض ائمہ علہیم السلام اور پیروں اور داعیوں کے معجزے۔ یہ تمام چیزیں عقیدت کی نمائندگی کرتی ہیں تاریخ کی نہیں۔

دوسری بات یہ کہ صداقت کوئی طے شدہ یا قطعی چیز نہیں بلکہ نسبتی یا اضافتی ہے۔ خداوند تعالیٰ صداقت کا سرچشمہ ہے لیکن اس صداقت کو محسوس کرنے کے ہزاروں طریقے اور متعدد مذاہب موجود ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم تاریخ کے واقعات کو بھی قطعی کی بجائے نسبتی حوالوں سے دیکھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ تاریخ صرف غلط یا درست کی بجائے دونوں ہو سکتی ہے۔ ایک فریق اگر کسی واقعہ میں اپنی پسندیدہ شخصیت کو درست قرار دیتا ہے تو ظاہر ہے اس کی نظر میں مخالف شخصیت غلط ہوتی ہے، کوئی اور فریق اس کے اُلٹ فیصلہ کرے گا۔ مثلاً واقعہ جمل کو ہی لیں جو تاریخ اسلام میں بہت متنازعہ روایات کا حامل ہے۔ ایک طرف حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہؓ ہیں تو دوسری طرف آپؐ کے چچا زاد بھائی، داماد اور وصی حضرت علی علیہ السَّلام ہیں جن کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”علی علیہ السَّلام مجھ سے ہے اور میں علی علیہ السَّلام سے ہوں۔“ واقعہ جمل میں ہماری درست دِلچسپی ان عوامل کا مطالعہ ہونی چاہئے جو اس جنگ پر منتج ہوئے۔

تاریخ کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اپنے ماضی سے سیکھ کر مستقبل کی تعمیر کی جائے۔ اور سب سے اہم بات تاریخ کے مطالعے سے ہی ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ مولانا رومیؒ یاد آگئے۔ ان کی ایک تمثیلی حکایت ہے کہ کسی شخص نے چار مسافروں کو ایک درہم دے دیا۔ ان میں سے ایک ایرانی تھا دوسرا عرب، تیسرا ترک اور چوتھا رومی۔ ایرانی نے کیا ”اس درہم پہ انگور خریدیں گے۔“ عرب نے کہا بالکل نہیں عنب (انگور) خریدیں گے۔“ ترک نے کہا ”جی نہیں ازم (یعنی انگور) خریدیں گے۔“ رومی نے کہا ”ہرگز نہیں اس پر استافیل (یعنی انگور) خریدیں گے۔“ چاروں انگور خریدنا چاہتے تھے مگر الفاظ کے معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے باہم لڑ پڑے اور ایک دوسرے کو مارے پیٹے۔

یہی حال ادیان کا ہے۔ سب خدا کی خوشنودی چاہتے ہیں مگر کسی اور زبان اور دوسرے طریقے سے۔ جب دوسروں کی زبان، بھاشا اور طریقہ سمجھ میں آتا ہے تو ایک دوسرے سے دست و گریباں نہیں ہونا پڑتا بلکہ ایک دوسرے کے لیے دل میں قدر بڑھ جاتی ہے۔ ترقی یافتہ اور علمی عروج پانے والے لوگ اس کو ڈائیورسٹی اور پلوریلزم کہتے ہیں جبکہ قرآن پاک نے اس نوشن کو تنوع یا اختلاف کہا ہے۔ ہمیں قرآن پاک کی اس تعلیم کو زادِ راہ بنانا ہوگا۔

مصنّف کی روشن خیالی اس بات سے بھی عیاں ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب پر تبصرے کے لیے بھی مختلف مکاتب فکر کے اسکالرز کی خدمات لی ہیں۔ تاکہ تمام مکاتب فکر کی نمائندگی ہو۔ جہاں پیش لفظ راقم نے قلمبند کی ہے تو وہاں تبصرے کے لیے معروف اور سکہ بند شیعہ اثناعشری اسکالر جناب ڈاکٹر محسن نقوی اور شیعہ امامی اسماعیلی اسکالر اعتمادی فدا علی ایثار صاحب کا انتخاب یقینا قابلِ تقلید ہے۔ اس سے نہ صرف بین المسالک ہم آہنگی کی راہ ہموار ہوگی بلکہ ہمیں ایک دوسرے کو مثبت انداز میں سمجھنے کا موقع بھی ملے گا۔ مصنّف اپنی اس کاوش پر یقینا مبارک باد کے مستحق ہیں۔

اللہ کرے ایسی کاوشیں ہم مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد گار ثابت ہوں۔

این دُعا از من و از جملہ جہاں آمین باد!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments