تو رشتہء دوام ہے اے ماں تجھے سلام

تو رشتہء دوام ہے اے ماں تجھے سلام

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تیرے ہاتھوں کی کرامت کی تو پھر بات ہی کیا ہے ماں
مجھ کو تو تیرے قدموں کی مٹی بھی شفاء دیتی ہے

اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق 1967ء سے ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک میں ماؤں کی عظمت ، ان کی اہمیت و افادیت، ان کے حقوق کو اجاگر کرنے کیلئے ورلڈ مدرز ڈے منایا جاتا ہے1907ء میں امریکی ریاست فلاڈیفیا میں اینا ایم جاروس نامی سکول ٹیچر نے باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کی رسم کا آغاز کیا۔ ایم جاروس نے اپنی ماں این ماریا ریویس کی یاد میں یہ دن منانے کی تحریک کو قومی سطح پر اجاگر کیا یوں ان کی ماں کی یاد میں باقاعدہ طور پر امریکہ میں اس دن کا آغاز ہوا۔ اس تحریک پر اس وقت کے امریکی صدر وڈ رولسن نے ماؤں کے احترام میں مئی کے دوسرے اتوار کو قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ اپنی ماؤں کو تحائف پیش کرتے اور ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ یوں سال بھر بوڑھے والدین میں سے ماؤں کو اس دن کا انتظار رہتا ہے۔ امریکہ سمیت یورپ بھر میں بوڑھے والدین کو گھروں کی بجائے اولڈ ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس دن اولڈ ہومز میں اپنی ماؤں سے ملاقات کرتے اور ان کو سرخ پھولوں کے تحائف پیش کرتے ہیں۔

Mamtazمغرب اور ہماری روایات میں بہت فرق ہے،ہمارے ہاں نہ تو اب تک اولڈ ہومز کا تصور سہی طرح آیا ہے نہ ہی ہم اپنی ماؤں سے محبت کے لیے کسی مخصوص دن کا انتظار کرتے ہیں،ہاں ہمیں یہ معلوم ہے کہ دنیا کے تمام رشتوں میں ماں کا رشتہ نہ صرف سب سے مقدس اورعظیم ہے بلکہ خلوص محبت اور پیار کا ضامن بھی ہے، بقول شا عر

جہانِ زیست میں الفت کا آسماں ہے ماں
درونِ دل سے مسرت کی ترجماں ہے ماں
کہے خدا بھی یہ موسی سے اب خیال رکھو
متاعِ رحمتِ یزداں تھی جو کہاں ہے ماں
نظامِ دنیا میں جنت کا اک وسیلہ ہے
تمام لوگوں کی بخشش کا امتحاں ہے ماں

”ماں ” محض ایک لفظ نہیں بلکہ محبتوں کا مجموعہ ہے۔ ”ماں ” کا لفظ سنتے ہی ایک ٹھنڈی چھاؤں اور ایک تحفظ کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ ایک عظمت کی دیوی اور سب کچھ قربان کردینے والی ہستی کا تصور ذہن میں آتا ہے۔”ماں ” کے لفظ میں مٹھاس ہے۔ انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی ماں کی ہے۔ ماں خدا کی عطا کردہ نعمتوں میں افضل ترین نعمت ہے۔

تْو رشتہء دوام ہے اے ماں تجھے سلام
یہ دل تمہارے نام ہے اے ماں تجھے سلام
دنیا میں سب حوالوں سے تْو معتبر ہْوئی
اونچا ترا مقام ہے اے ماں تجھے سلام
تیری محبتوں کا کہاں دین دے سکوں
میرا تو صبح و شام ہے اے ماں تجھے سلام
تیرے بغیر دل کو کہیں بھی سکوں نہیں
تو چاہتوں کا جام ہے اے ماں تجھے سلام
کچھ فائزہ کہوں تو مکرر یہی کہوں
اے ماں تجھے سلام ہے ، اے ماں تجھے سلام

قرآن حکیم اور دوسرے تمام الہامی صحیفوں میں ”ماں ” کا تقدس سب کی مشترکہ میراث ہے۔ اس دن کو خاص اہمیت دے کر ماں کی عظمت کو سلام کرنے، اس کی دعائیں اور پیارلینے کے لئے وقف کردیا گیا ہے۔ اسلام نے بھی ماں کی عظمت ، وقار اور احترام کا اعتراف کیا ہے ”ماں کی محبت ”، اس کی اطاعت اور خدمت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔محسن انسانیت آخر الزمان حضرت محمدﷺ کی دختر خاتون جنت فاطمہ الزہرہ ماں کی حیثیت سے ایک زندہ و جاوید کردار ہیں۔ دنیا کی عظیم ترین ہستی ماں ہے اس کا دوسرا نام جنت ہے اور ماں کے بغیر کائنات نامکمل ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ! لوگوں میں حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ انہوں نے عرض کیا : پھر کون ہے؟ فرمایا : پھر تمہارا والد ہے۔

آج کے اس دن ہمیں کوشش یہی کرنی چاہیے کہ اپنی مصروفیت سے کچھ لمحے نکال لیں،اور دنیا کے خوبصورت ترین رشتے ماں کے دربار میں حاضری دیں کچھ وقت اس کے ساتھ گزاریں، جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گی ہے، یہ دن وہ موقع ہوتا ہے جب ہم اپنی ماؤں کے لیے اپنی محبت اور احترام کا اظہارکریں۔ اور اپنی ماؤں کو یہ احساس دلا سکیں کہ وہ ہمارے لیے ہمیشہ اہم تھیں اور رہیں گی اور ہم ان سے ہمیشہ محبت کرتے رہیں گے۔

ربِّ جہان نے ماں کو یہ عظمت کمال دی
اْس کی دعا پہ آئی مصیب بھی ٹال دی
قرآن میں ماں کے پیار کی اْس نے مثال دی
جنت اْٹھا کے ماؤں کے قدموں میں ڈال دی

ایک اور جگہ شاعر فرماتے ہیں،

ماں تیری آغوش میں سونے کی تمنا ہے
برسوں سے ان آنکھوں میں نیند نہیں آئی

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کے ہاں بے حد خوبصورت لڑکے کا جنم ہوا تو بادشاہ کی ملکہ نے پوری ریاست کے کئی ماں اور بچے کو اپنی حویلی میں بلا کر دعوت کی اور ایک انتہائی بد صورت لڑکے کی ماں کو بلایا اور اپنا حسن بھرا لڑکا سامنے کھڑا کر کے پوچھنے لگا کہ ’’ سچ سچ بتاؤ کہ ان میں سے کون خوب صورت زیادہ ہے’’ تو بد صورت لڑکے کی ماں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں اپنی رائے سناؤں یا دنیا کی؟ تو ملکہ نے کہا بے شک تم اپنی رائے بتاؤ تو بدصورت لڑکے کی ماں نے اپنی بد صورت لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے نظر میں دنیا کا سب سے خوبصورت لڑکا یہی ہے۔ تو ملکہ کو بہت غصہ آیا مگر صبر و تحمل سے سوال پوچھا کہ ’’ تم جھوٹ کیوں بول رہی ہو ’’ تو اس خاتون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ’’ ملکہ حضور! آپ کے نظر میں آ پکا بیٹا بہت خوبصورت ویسے ہی میرے نظر میں میرا لڑکا بہت خوبصورت ہے۔

یہ حقیقت کہ ہر ماں کو اسکی اولاد سب زیادہ خوبصورت اور عزیز ہوتی ہے، یہ ایک ماں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اولاد کی بہترین اور سائنسی بنیادوں پر تربیت کرے. تاکہ اسکا بچہ معاشرے کا ایک مفید اور مثبت شہری بن سکے، اسی حوالے سے ہی ایک مشور فلاسفر نے کہا کہ\”آپ مجھے اچھی مائیں دو میں آپکو ایک اچھی قوم دونگا۔شیخ سعدی کا مشہور قول ہے کہ \”جو شخص بچپن میں ادب کرنا نہیں سیکھتا، بڑی عمر میں بھی اس سے بھلائی کی امید نہیں\” لہذاء اولاد کی بہتر تربیت اور ادب زندگی سکھانا والدین کی ذمداری ہے۔

شاعر نے ان اشعار میں ”ماں ” کی عظمت کی عکاسی کرنے کی خوب کوشش کی ہے۔

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں

تب کہی جا کر رضا تھوڑا سکون پاتی ہے ماں

فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گْھل جاتی ہے ماں

نوجواں ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں

روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیے

چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں

ہڈیوں کا رس پلا کر اپنے دل کے چین کو

کتنی ہی راتوں میں خالی پیٹ سو جاتی ہے ماں

جانے کتنی برف سی راتوں میں ایسا بھی ہوا

بچہ تو چھاتی پے ہے گیلے میں سو جاتی ہے ماں

جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول

آنسوں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں

فکر کے شمشان میں آخر چتاؤں کی طرح

جیسے سوکھی لکڑیاں ، اس طرح جل جاتی ہے ماں

اپنے آنچل سے گلابی آنسوں کو پونچھ کر

دیر تک غربت پے اپنی اشک برساتی ہے ماں

سامنے بچوں کے خوش رہتی ہے ہر ایک حال میں

رات کیوں چھپ چھپ کے لیکن اشک برساتی ہے ماں

کب ضرورت ہو میری بچے کو ، اتنا سوچ کر

جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں

مانگتی ہی کچھ نہیں اپنے لیے اللہ سے

اپنے بچوں کے لیے دامن کو پھیلاتی ہے ماں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔