گلگت بلتستان میں جان لیوا بیماریاں۔۔۔۔۔

تحریر: محمد ایوب

گلگت بلتستان کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں ہوتا ہے یہاں کی آبادی تقریباً  بیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے اس خطے میں رہنے والے لوگ محنتی وفادار اور مہمان نوازی کے حوالے سے پوری دنیا میں ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔ دنیا بھر سے سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔

لیکن پچھلے چند برسوں سے یہاں تیزی کے ساتھ دل کے امراض، معدے کی بیماری، کینسر اور دیگر جان لیوا بیماریاں پھیل رہی ہیں اور کئی لوگ ان بیماریوں کا شکار ہونے کے بعد موت کے منہ میں چلے گئے اور اس وقت بھی کئی لوگ ان بیماریوں کے باعث ملک کے مختلف ہسپتالوں میں موت اور زندگی کی لڑائی لڑرہے ہیں۔ دعا ہے اللہ تعالی ان کو جلد صحتیاب کریں۔

پاکستان کی ایک بہت بڑے نجی ہسپتال کے مطابق اگر وہاں مہنے میں ایک سو معدے سے متعلق بیماریاں رجسٹرڈ ہوتی ہیں تو ان میں سے 75 فیصد گلگت بلتستان کے مریض ہوتے ہیں اور ان میں تقریباً  35 مریضوں کا تعلق غذر سے بتایا جاتا ہے۔

اگر ہم دل کی بیماریوں لا ذکر کریں تو ہر دوسرے دن کئی نہ کئی سے خبر آجاتی ہے کہ فلاح بندے کو ہارٹ اٹیک ہوگیا اور ہر بندے کو دل کی بیماریوں کی شکایت رہتی ہے ہم ضیابیطیس اور بلڈ پریشر کی بات کریں تو کوئی گھر ایسا نہیں ہوگا جہاں بلڈ پریشر کا مریض نہ ہو قارئین ان سب بیماریوں کا ایک ہی وجہ ہے وہ ہے غیر معیاری اور ناقص خوراک ان میں سر فہرست بڑی مرغی کا گوشت ہے ڈاکٹروں کے مطابق ثابت مرغی کا وزن دو کلو سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے ذبح کرنے کے بعد مرغی کا وزن ڈیڑھ کلو سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے اگر ہم اس سے زیادہ وزن والی مرغی کا گوشت اپنا گھر لے کر جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہم بیماری لیکر جاتے ہیں۔

دوسرے نمبر پر گھی اور کوکنگ آئل ہیں، اس وقت گلگت بلتستان کی مارکیٹ میں گھی اور کوکنگ آئل کے نام پر لوگوں زہر دیا جارہا ہے۔ روز نام تبدیل کر کر کے وہی غلاظت کھلایا جاتا ہے لیکن لوگوں کو اس کا شعور نہیں ہے بہت کم لوگ ہونگے جو یہ جانتے ہیں کونسا گھی آئل اچھا ہے جو تقریبناً  صحت کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیا جاتا ہے لوگوں کو ہمیشہ وہ گھی آئل استعمال کرنا چاہئے جس پر ISO سرٹیفائڈ لکھا ہوں وہ گھی آئل گلگت کی مارکیٹ میں بہت کم نظر آتا ہے۔

ان کے علاوہ بھینس کا گوشت بھی ہمارے علاقے میں بڑے شوق سے کھایا جاتا اب اس بات کا بھی علم ہونا چاہئے کہ گوشت والی بھینس کتنی بڑی ہونی چاہئے کیا دودھ والی بھینس کا گوشت استعمال کیا جاسکتا ہے یہ سب ایک طرف مگر بہت سارے لوگوں کو ان سب کا شعور ہونے کے بعد بھی وہ صرف اس لئے اس غلاظت کا استعمال کرتے ہیں کہ وہ سستا مل جاتا ہے ان کو کون سمجھائے گا کہ وہ اپنے پچاس روپے بچانے کے چکر میں اپنے لاکھوں کا اور اپنی جان کا ضائع کردیتے ہیں۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے لوگ مارکیٹ میں جاتے ہی  تو مہنگا سے مہنگا جوتا اور سوٹ خرید لیتے ہیں لیکں ایک کلو گاجر یا سبزی خریدتے ہوئے ان پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے وہ چار ہزار کا جوتا لیتے ہوئے بکل بھی کسی قسم کا بحث نہیں کرتے مگر وہ سبزی والے سے دس روپوں کے لئے لڑتے نظر آئنگے ہم اپنے باغات سے سیب انگور ناشپاتی مارکیٹ میں مٹی کے دام بیچتے ہیں اور ان پیسوں سے اپنے بچوں کے لئے غیر معیاری پاپڑاور میٹھایاں خریدتے ہیں، جو مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

ہمیں اس رویے کو ترک کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے خوراک کے معیار کو بہتر بناکر اپنے نسلوں کو محفوظ بنانا ہوگا یں ہر ایک بندے کو یہ شعور اپنا قومی فریضہ سمجھ کر لوگوں میں عام کرنا ہوگا ہمیں اپنے بچوں کو معیاری خوراک کے ساتھ پھلوں کو ان کے خوراک کا باقاعدہ حصہ بنانا ہوگا اگر ہم مہنگے جوتے نہیں پہنتے کوئی بات نہیں اگر ہم مہنگا سوٹ نہیں پہنتے کوئی مسلہ نہیں اگر ہم اہنے بچوں کو مہنگا اور صحت مند خوراک نہیں کھلاتے تو وہ بہت بڑا مسلہ ہے کاش جس طریقے سے ہماری خواتین میں مہنگے زیورات مہنگے کپڑے پہنے کا جو روایت قائم ہوا ہے اسی طرح اپنے کچن میں اچھے اور معیاری آئل اور اشیائے خوردونوش رکھنے کا فیشن آجاتا یہ سب ایک طرف یہاں حکومت اور انتظامیہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان ناقص اور غلاظت کو مارکیٹ میں آنے سے روک دے مہدی شاہ کی طر حکمرانی سے لاکھ اختلافات ہی سہی اس کی حکومت نے گلگت بلستان میں بڑی مرغی کے گوشت پر مکمل پابندی عائد کی تھی لیکن بد قسمیتی سے آج پھر مارکیٹ میں نک رہی ہے ضلع غذر میں ناقص اور غیر معیاری گھی آئل کے خلاف انتظامیہ کی طرف سے کریک ڈاون کو سراہتے ہیں اور امید کرتے ہیں انتظامیہ ان مافیا کی دباو میں آئے بغیر اس غلاظت کا خاتمہ کریگی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments