کاروان امن

کاروان امن

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سوشل میڈیا پر ہمارا ایک محترم سینیر صحافتی دوست سے گلگت بلتستان کی حالات حاضرہ پر گفت شنید کر رہا تھادوران گفتگو کہنے لگے یا ر ماضی میں تم دیامر بلتستان مارچ کی بڑی باتیں کرتے تھے لیکن آج جب عملی طور پر یہ کام سر انجام پائے تو قلم خاموش ہے یہ ذیادتی ہوگی۔میں نے سوچا بات تو سوفیصد درست ہے کیونکہ یہ اُس وقت کی بات تھی جب یہاں کے حالات انسانی خون سے رنگ ریز تھا اور ہم آپس میں بات کرتے ہوئے یہی ارمان کرتے تھے کہ وہ دن ہم کب دیکھیں گے جب دیامر گلگت اور بلتستان کے عوام تمام تر مسلکی اختلافات اور غیر مقامی عناصر کی سازش کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگا لیں ۔اس حوالے سے راقم سمیت کئی اہل قلم نے اپنے انداز میں یکجہتی کی قومی ضرورت کے حوالے مضامین لکھے لیکن ہر گزرتے اوقات کے ساتھ یہاں غیر مقامی عناصر کی دخل اندازی سے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مجھ سمیت میرے سنئیر اہل قلم دوست صاحبان بھی دل برداشتہ ہوگئے کیونکہ حالات حاضرہ دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ کچھ لوگوں نے ٹھان لیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے حقوق کی منزل سے دور رکھنے کیلئے ایک ہی حل مسلکی تصادم ہے جسے جاری رہنا چاہئے۔

my Logo

لیکن ظلم تو ظلم ہی ہوتا ہے جسے ایک دن ختم ہوکر ناکامی کا منہ دیکھنا ہی تھا کیونکہ اس خطے کے باسیوں کی دل سے امن اور بھائی چارگی کی دعا مسلسل جاری تھی اور پرنٹ میڈیا سمیت اہل قلم برادری بھی اس حوالے سے مسلسل قلمی جہاد میں جاری رکھا یوں سمجھ لیں کہ لوہا گرم ہوچکا تھا بس پگھلنے کی دیر تھی ایسے میں اللہ کرنا ایسا ہوا کہ وفاق پاکستان نے اچانک گندم کی سبسڈی ہٹا کر گلگت بلتستان کے عوام کی منہ سے نوالہ چھیننے کی کوشش کی ۔یوں اس دانے نے جو کمالات دکھائے جس کی کوئی مثال نہیں اور اس مسلے نے عوام کو جو قیادت فراہم کیا جسکے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی ایک قیادت میسر ہوگی جنکے فیصلے عوامی اور خطے کی مفاد کیلئے ہوگا۔یقیناًکسی بھی حکمت عملی کیلئے ایک فکر اور اُس فکر کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کرداروں کی ضرورت ہوتی ہے اس کے پیش نظر عوامی ایکشن کمیٹی معرض وجود میں آیا اور اس کمیٹی کو بنانے میں ہماری اطلاعات کے مطابق جوہر میموریل سوسائٹی گلگت نے اہم کردارادا کیا لہذا اس نیک کام کوصحیح وقت پر سرانجام دینے والوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہئے۔اس کے علاوہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے گلگت بلتستان کی تاریخ میں ایک منظم اور پُرامن دھرنے میں شامل ہونے والے عوام کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہئے کیونکہ سرکار کی طرف سے اس دھرنے کی ناکامی کیلئے کئی حربے استعمال کرنے کے باوجود عوام متحد رہے جو کہ گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک اہم ترین باب ہے۔آگے چلتے ہوئے.

ہم بلتستان کی بات کریں تو اس دھرنے کی کامیابی کا اصل کریڈٹ مجلس وحدت المسلمین بلتستان ڈویزن کے مرکزی قائد سید علی رضوی کو جاتا ہے جس نے بلتستان کے عوام کو مہدی شاہ کے محلے میں تمام تر حکومتی دھمکیوں اور سازشوں کے بعد بھی سنبھالے رکھا اور بلتستان میں تینوں مسالک کے عمائدین اور علمائے کرام کو بھی اس قومی ایشو کے حوالے سے کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔ساتھ میں قوم پرست رہنماوں نے بھی آغا صاحب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انکا ساتھ دیا لیکن بلتستان کے عوام کی خوشیاں اُس وقت دیکھے کے لائق تھے جب عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین کے ساتھ عمائدین دیامر نے جذبہ خیرسگالی کے تحت کاروان امن کے نام سے بلتستان میں جاری دھرنے میں شرکت کیا ایک دوسرے کو روائتی چوغے پہنائے جس سے عوام میں ایک نیا جذبہ پیدا ہوگیا کیونکہ یہ بات تو حقیقت تھا کہ ماضی میں دیامر کی سرزمین پر دشمنوں نے بلتستان کے بیٹوں کا خون بہایا جس کے بعد بے اعتمادی کی ایک عجیب فضا قائم ہو گئی تھی لیکن ہم ہمارے محترم سنئیر صحافتی دوست ڈاکٹر زمان خان صاحب کی ذاتی کوششوں کو بھی سراہتے ہیں جنہوں نے راقم کی ایک دلی خواہش اور قومی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے دیامر اور بلتستان کے درمیان ایک پُل کا کردار کرتے ہوئے ماضی کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے عمائدین بلتستان کو دیامر مدعو کرکے چلاس میں ایک یکجہتی جلسے کا انعقاد کرکے مسلکی بنیاد پر سیاست کرنے والوں کو پیغام دیا کہ ہمارے خطے میں کوئی مسلکی اختلاف نہیں ہم کل بھی بھائی تھے آج بھی ہے اور مستقبل میں بھی رہیں گے۔یہ پیغام ایسے موقع پر ایسی جگہ سے دینا پاکستان کے ان تمام نام نہاد مذہبی ٹھکیداروں کیلئے نفرت کی صدا ہے جنکی وجہ سے ماضی میں یہ سارے علاقے اور یہاں کے سادہ لوح عوام استعمال ہوتے رہے۔ابھی تازہ اطلاع کے مطابق کاروان امن کا یہ سفر پورے گلگت بلتستان میں کی سطح پر جاری رہے گا اور ہر قریہ ہر گاوں میں یہ پیغام لیکر جائے گااور عوام کو یہ بتائیں گے کہ گلگت بلتستان میں کوئی مسلکی اختلاف نہیں ہر مسلک کو اپنے عقیدے کے مطابق جینے کا بھرپور حق ہے اور ایک دوسرے کی مقدسات کا احترام اسلامی اور معاشرتی لحاظ ہر انسان کا فرض ہے۔ اللہ کرے یہ پیغام امن ہر گوشہ و کوچہ میں پونچے اور اسی فلسفے کے تحت مستقبل میں بھی قومی جدوجہد کیلئے مزید اتحاد ہوکر حقوق کی جنگ کیلئے تیار رہتے ہوئے عوام کو بھائی چارگی سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔