کالمز

ڈاکٹر کی عدم موجودگی اور ایک ماں کی پریشانی (ایک سچی کہانی)

تحریر: ڈاکٹرارشد علی شیدائی

یہ ایک سرکاری ہسپتال تھا، یہاں ایک وقت صرف ایک ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہوتا تھا. ہسپتال کی بڑی عمارت میں ایک عجیب کیفیت تھی. ہر طرف سے مریضوں کے کراہنے کی آوازیں آرہی تھیں. وہاں پر نہ کوئی ڈاکٹر موجود تھا اور نہ کوئی اور ملازم. باہر سے آتے مریض یا تو واپس لوٹ رہے تھے یا پھر انتظار گاہ کی جانب قدم بڑھا رہے تھے. جہاں وہ شدت سے ڈاکٹر کے آنے کا انتظار کر رہے تھے.

 ہمیں اس انتظار گاہ میں بیٹھے کوئی ایک گھنٹہ ہو گیا تھا. جب ہم ہسپتال میں پہنچے تھے تب ایک ملازم وہاں پر موجود تھا. ان سے ڈاکٹر کے بارے میں پوچھا تو پتا لگا کہ ڈاکٹر تو ١٢ سے ٢ بجے تک چھٹی کر لیتے ہیں. یہ خبر سن کر ہم ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور آخر ایک فیصلہ کر کرکے انتظار گاہ کی رہ لی تھی، جہاں پہلے سے کچھ لوگ ڈاکٹر کی انتظار میں مایوس بیٹھے تھے. مریض سسک رہے تھے اور انکی یہ حالت دیکھ کر ہمارے پاؤں تھر تھر کانپنے لگے. انتزاۓ گاہ میں لوگ آتے اور جاتے تھے، ڈاکٹر کی غیر موجودگی کی وجہ سے انکی پریشانی اور بڑھتی جا رہی تھی. باہر سے آئے مریضوں کے علاوہ ہسپتال میں پہلے سے داخل مریض بھی ڈاکٹر کا شدت سے انتظار کر رہے تھے. لوگ وہاں آپس میں چہ میگویاں کر رہے تھے، کہ اچانک ایک آواز زدگوش ہوئی. انتظار گاہ میں خاموشی طاری ہو گئی. لوگ سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کے جانب دیکھنے لگے. آواز قریب ہوتی گئی اور پتا چلا کہ یہ کسی عورت کے رونے کی آواز ہے.

چند لمحے بعد وہ عورت انتظار گاہ میں داخل ہوئی. لوگوں میں تجسس بڑھتا گیا. وہ عورت ابھی تک زارو قطار رو رہی تھی. وہ بہت پریشان اور غمگین تھی. اسکے آنکھوں سے آنسوں رواں تھے. خاتون نے ایک ننھا سا بچہ ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا. آنسووں کے خشک نشان بچے کے چہرے پربھی عیاں تھے. خاتون بہت زیادہ پریشان اورغمگین تھی، وہ کبھی بچے کو پیار کر رہی تھی کبھی انتظار گاہ میں موجود لوگوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی پر کسی سے کچھ نہیں پوچھا اور کبھی ڈاکٹر کے آفس کی جانب امید کی نظروں سے تک رہی تھی. خاتون کسی سے کچھ پوچھے بغیر واپس پلٹی اور ڈاکٹر کے کلینک کے سامنے گئی. ڈاکٹر کی آفس میں غیر موجودگی سے وہ سخت مایوس ہوئی. انتظار گاہ میں موجود لوگ آپس میں اس عورت کے بارے میں باتیں کرنے لگے. لوگوں کی طرح میرے دل میں بھی طرح طرح کے خیالات جنم لینے لگے. مجھے لگا کہ شاید خاتون کو کوئی شدید چوٹ آئی ہوگی اور چوٹ کی شدت برداشت سے باہر ہے جو اس قدر رو رہی ہے. انہیں خیالات میں تھا کہ وہ خاتون واپس انتظار گاہ آئی. انکی پریشانی دیکھ کر میں نے چاہا کہ صاحبہ سے پریشانی کی وجہ دریافت کروں پرہمت نہیں ہوئی. تھوڑی دی بعد خاتون نے خود مجھ سے پوچھا، بھائی ڈاکٹر کہاں گئے ہیں ؟ میں نے کہا کہ ایک ملازم کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر ٢ بجے تک چھٹی کرتے ہیں.

اسی دوران ایک آدمی انتظار گاہ میں داخل ہوا وہ ہسپتال کا کوئی ملازم لگ رہا تھا. میں نے ان سے پوچھا، بھائی ڈاکٹر کب آئے گ؟ اسنے میری طرف حیرت سے دیکھا اور کہنے لگا، جناب ڈاکٹر تو ٤ بجے تک چھٹی کرتا ہے اور ٤ بجے کے بعد دوسرا ڈاکٹرشام کی ڈیوٹی کے لئے آتا ہے. یہ سن کر ہم سب بہت مایوس ہوئے. خاتون حد سے زیادہ پریشان اپنے منھے کو لئے ٹہلنے لگی. ایک عجیب سی بے چینی نے گھیرلیا. عورت کے رونے کی آواز سن کر ساتھ والے کمرے سے ایک بندہ باہر آیا جو ڈاکٹر صاحب کا اسسٹنٹ لگ رہا تھا جو بار بار ڈاکٹر کے کمرے میں جاکر ٹیلی فون اٹینڈ کر رہا تھا. اس نے خاتون کی اس پریشانی کی وجہ سے انہیں کمرے میں بلایا.

 چند منٹ بعد وہ خاتوں واپس آئی اور میرے سامنے میز پر بیٹھ گئی . بچہ خاتون کے گود میں تھا اور باتیں کر سکتا تھا، ہم سے بار بار پوچھ رہا تھا، ڈاکٹر کہاں ہے ؟ میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ابھی آنے والا ہے. خاتون اب بھی پریشان تھی مگر رونا تھم گیا تھا. انکے چہرے پر شدید پریشانی عیاں تھی. میں نے خاتون سے پوچھا بہن کیا مسلہ ہے جواتنی زیادہ پریشان ہو؟ وہ کہنے لگی کہ ابھی گھر پر بچہ اپنے کھلونے سے کھیل رہا تھا اچانک فرش پر پھسلا اور گر گیا. بچہ رونے لگا تو دیکھا ایک دانت سے خون نکل آیا ہے. اب اس بچے کو یہاں لے کرآئی ہوں تاکہ اسکا علاج کر وا سکوں. میں نے تعجب سے پوچھا بس اتنی سی بات تھی اور آپ اتنی زیادہ پریشان ہو گئی. وو کہنے لگی، بچے کا زخم مجھ سے دیکھا نہیں جاتا.میرا لخت جگر ہے یہ، اور میں اس کے لئے ہر تکلیف سہ سکتی ہوں. میں اسی کے واسطے جیتی ہوں. میرا جینا اسی کے لئے اور میرا مرنا بھی اسی کے لئے. اس عمر میں اگر بچے کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں کر سکی تو مجھے عمر اسکا دکھ ستائے گا اور کل کو میں جوابدہ ہوں گی. میرا فرض پورا نہیں ہوگا. اسکا درد میرا درد ہے اور اسکا سکھ میرا سکھ.

میں نے خاتون کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ بہن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں. بچہ ٹھیک ہے دانت سے اگر تھوڑا خون نکل آیا ہے تو ٹھیک ہو جائےگا. اگر دانت نکل بھی جاتا تو دوسرا دانت نکل آئےگا، کیوں کہ یہ دودھ کے دانت ہیں. بچہ خیریت سے ہے آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ مالک ہے.

مسٹر داوود نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہمیں ٤ بجے تک انتظار کرنا ہوگا. میں نے کچھ سوچ کر کہا کہ ہمیں ابھی واپس جانا چاہئے کل صبح پھرآجائیں گے. ہم وہاں سے نکل گئے مگر خاتون اپنے بچے کو لیکر وہی پرڈاکٹر کے انتظار میں ٤ بجے تک بیٹھی رہی. اسکا بچہ اب ہنس رہا تھا اور ٹہل رہا تھا.

نوٹ : سکول کے زمانے کا لکھا ہوا یہ مضمون اپنےقارئین کی بینائیوں کی نذر ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: