یہ ہستی دانا ہے ، بینا ہے ، توانا ہے

یہ ہستی دانا ہے ، بینا ہے ، توانا ہے

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: نا ہیدہ غالب

کسی دانشو ر کا قو ل ہے ’’اگر انسا ن غر یب پیدا ہو تا ہے اِس کا کو ئی قصو ر نہیں اگر انسا ن غر یب مر تا ہے تو یہ انسا ن کا بہت بڑا قصو ر ہے ۔‘‘ انسا ن کی نفسیات میںیہ شا مل ہے کہ انسا ن کی جیسی تر بیت ہو تی ہے ویسی ہی تر بیت وہ اپنی اولا د کی کر تا ہے۔آج کے دور میں انسا ن کی تر بیت ایک بہت بڑا مسلہ بن کر رہ گیا ہے۔زما نہ رو ز بہ رو ز تبد یل ہو تا جا رہا ہے لیکن تر بیت کا اندا ز وہی رو ایتی ہے۔کیا آ ج کے اِس ما دہ پر ست زما نے میں رو ا یتی تر بیت کا اندا ز قا بل قبو ل ہے؟ مثا ل کے طو ر پر اگر وا لد انجینئر ہے تو وہ یہ خوا ہش رکھتا ہے کہ اُس کی اولا د بھی اُس کی ڈگر پر چلے۔جب کہ ایک ہا تھ کی پا نچ انگلیا ں برا بر نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر بچّے کا سو چنے کا معیا ر اور ذہنی سطح ایک ہوں۔یہ تو مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر بچہّ ڈا کڑ نہیں بن سکتا،ہر بچہّ انجینئر نہیں بن سکتا لیکن پھر بھی ہم اپنے سو چنے کا معیا ر تبد یل نہیں کر تے اور وقت کے دھا ر ے میں ڈوبتے چلے جا تے ہیں اور اپنی اولا د کی تر بیت وہی رو ا یتی انداز سے کر تے ہیں جبکہ یہ بھی ہمیں معلو م ہے کہ گیا وقت کبھی لو ٹ کر نہیں آتا۔

612jBP2VlVLجب ایک بچہ دنیامیں آ تا ہے تو اُس کا ذہن ایک کو ر ے کاغذ کی ما نند ہو تا ہے۔اور اُس کا غذ کو ر نگ دار بنانے کا کا م سب سے پہلے جس انسان کو اللہ تبا ر ک و تعا لیٰ نے سو نپا ہے وہ اُس بچیّ کے و ا لد ین ہیں۔اب یہا ں پر وا لد ین کا کر دا ر انتہا ئی قا بلِ ذکر ہے۔ والدین اپنے بچیّ کو ایک ایک کر کے حر و ف ،پھر الفا ظ اور پھر جملو ں سے آ شنا کر ا دیتے ہیں۔اور یو ں ایک بچہّ بولنے اور سمجھنے کے قا بل ہو تا ہے۔ما ں با پ اپنے بچیّ کو ہر اُس کام کو کر نے سے منع کر تے ہیں جو اُس بچیّ کے لیے نقصا ن دہ ہو ں۔لیکن کہیں کہیں یہی رو کنا ٹو کناایک خا ص عمر میں بچیّ کے لیے بجا ئے فا ئدہ مند ہو نے کے نقصا ن کا با عث بن جا تا ہے یعنی کہ زند گی میں بچو ں کے سا تھ سا تھ وا لدین کو بھی خطر نا ک نتا ئج کا سا منا کر نا پڑ تا ہے۔والدین صر ف یہی سوچتے ہیں کہ کس طر ح سے اپنے بچیّ کو ایک اچھے عہدے پر فا ئز ہو تا ہو ا دیکھ سکے یہ سو چے بغیر ہی کہ آیا اُن کا بچہّ کیا چا ہتا ہے۔کیا وا قعی میں اُن کا بچہّ و ہی چا ہتا ہے جس کی اِس کے ما ں با پ خو ا ہش رکھتے ہیں۔

کا فی دن پہلے ہی کی با ت ہے میں ایک کتا ب کا مطا لعہ کر رہی تھی’’ریچ ڈ یڈ پو ر ڈیڈ ‘‘جو را بر ٹ۔ ٹی ۔کیو سا کی ، کی ایک بہتر ین تصنیف ہے(کتا ب کا تر جمہ ’’ امیر با پ غر یب با پ‘‘ کے نام سے کیا گیا ہے)۔جس میں را بر ٹ نے اپنی آ پ بیتی بیا ن کی ہے کہ وہ زند گی میں کیا بننا چا ہتا تھا اور اُس کے حقیقی با پ اُسے کیا بنا نا چا ہتا تھااُ س کا حقیقی با پ پی ۔ایچ۔ ڈی تھا اور اعلیٰ عہدے پر فا ئز تھا ۔ زند گی کی تما م تر مشکلو ں سے با خو بی و ا قف تھا اور اِس حقیقت سے بھی کہ رو ا یتی تعلیم کے ذریعے سے صر ف تین و قت کی رو ٹی بمشکل حا صل کی جا سکتی ہے جبکہ اُ س کے بیٹے کی سو چ اپنے حقیقی با پ سے با لکل میل نہیں کھا تی وہ با ر با ر اپنے بیٹے سے اِس خو ا ہش کا اظہا ر کر تا ہے’’خو ب محنت کر و ،اچھے گر یڈ حا صل کر و اور تمہیں نو کر ی مل جا ئے گی۔تنخو ا ہ بھی خا صی ہو گی اور دوسر ے فو ا ئد الگ ہو ں گے۔‘‘اگر ایک لمحے کے لیے سو چا جا ئے تو ہما ر ے و ا لد ین بھی اِسی خو ا ہش کا اظہا ر کر تے ہیں او ر با ر با ر و ا لد ین کی یہ رو ا یتی خو ا ہش ہما ر ے کا نوں میں گو نجتی رہتی ہے اور پو ر ی طر ح ہما ر ے دما غ پر غلبہ پا لیتی ہے اور ہم دما غ کی بتی کو جلا نے کی بجا ئے اُ سے گُل کر کے اس اند ھا دھند خو ا ہش کو پو را کر نے کی نا کا م کو شش کر تے ہیں جبکہ ہم اپنے آ پ سے بہت ہی اچھی طر ح وا قف ہو تے ہیں کہ ہما را آ پ ہم سے کس طر ح کا تقا ضا کر تا ہے۔ایک بہت ہی اہم با ت یہ ہے کہ وا لدین کی خو ا ہش اولا دکے ذہنو ں میں جب گھر کر جا ئے تو اُ ن کے سوچنے کی صلا حیتیں ہمیشہ ہمیشہ کے ختم ہو جا تی ہیں۔اور یہ رو ا یتی خو ا ہش پو ر ی نہ ہو نے کی صو ر ت میں ذہنی دبا ؤ کا شکا ر ہو جا تے ہیں اور بعض اوقا ت نو بت یہا ں تک آ جا تی ہے کہ بہت سے زند گی سے ہا ر ما ن جا تے ہیں۔

مصنف نے اپنے دوسر ے با پ کا بھی تذ کر ہ کیا ہے جو آ ٹھو یں جما عت بھی پا س نہیں تھا ۔لیکن اپنی صلا حیتوں کو جا ننے کے بعد اُس نے اپنا آ پ نکھا ر ا اور ہو ا ئی کا امیر تر ین آ د می بن گیا ۔اِس کی سو چ بہت ہی مختلف ہو تی ہے یہ اِس با ت پہ یقین رکھتا ہے کہ بچو ں پر کسی بھی طر ح اپنا فیصلہ نہ تھو پا جا ئے بلکہ بچو ں کی صلا حیتو ں کو جا نچنے کے بعد بچیّ کو وہی تعلیم دی جا ئے جس کی طر ف بچیّ کا رجحا ن ہے۔یو ں را بر ٹ کا دوسر ا با پ را بر ٹ کی تر بیت کر تا ہے اور را بر ٹ زند گی میں نہ صر ف ما ل و زر سے ما لا مال ہو تا ہے بلکہ آ ج ر ا بر ٹ پو ر ی دینا کو کا ر و با ر کے سُنہر ے اُصو لو ں سے رو شنا س کر ا رہا ہے اور اپنی کتا بو ں کے ذر یعے سے رہتی دینا میں لو گو ں کے دِ لو ں پر را ج کر تا ر ہے گا۔

انسان کو اللہ تبا ر ک و تعا لیٰ نے عقل جیسی عظیم نعمت سے نوازاہے۔اور اِس عقل کی بنا پر ناممکن کوممکن بنا سکتا ہے بشر ط کہ انسا ن کو سو چنے کی آزادی دی جا ئے۔ اب سو چنے کا مقا م یہ ہے کہ آیا ہم اپنے بچّو ں کے مستقبل کے سا تھ کیسا سلو ک کر رہے ہیں۔بچیّ کیسی سو چ رکھتے ہیں اور ہم کس طر ح اپنی سو چ اُن پر مسلط کر تے ہیں۔میر ا کہنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وا لدین اپنی اولاد کی تر بیت نہیں کر سکتے بلکہ اولا د کی تر بیت والدین سے بہتر کو ئی نہیں کر سکتا لیکن طر یقہ تر بیت پر غو ر کر نے کی اشد ضر و رت ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔