آٹے کا سراغ

آٹے کا سراغ

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بعض اوقات  عجیب واقعات رونما ہوتے ہیں۔ عجیب کا ترجمہ انگریزی میں فنی بنتا ہے اور خبر واقعی فنی ہے بلکہ یہ مجھے  فنی سے زیادہ   ایمیزنگ لگتی ہے۔ یعنی حیران کن ۔۔واقعی حیران ہونے والی بات ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ خبر  ہکا بکا کر دینے والی ہے ۔خبر پڑھنے کے بعد اگر آپ حیران نہیں  ہوئےہونگے تو مجھے یقین ہے کہ آپ سوچنے ضرور لگے ہونگے ۔۔

Hidayat Ullahتو آئیں خبر پہ ایک نظر ڈالتے ہیں اور حیران اور ہکا بکا  رہنے کے بجائے اس خبر کی اہمیت اور اس کے  پس منظر اور پیش منظر پہ غور کریں کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں  جن کے باعث اس معاشرے میں غریب عوام  سکھ کے سانس  اور اپنے منہ کے نوالےسے محروم  ہو جاتے ہیں ۔  قارئین کو یاد ہوگا کہ  گذشتہ مہنوں میں  جی بی  کی نام نہاد صوبائی حکومت نے بھٹو دور سے جاری  گندم سبسڈی کو  ختم کر کے اپنے عیاشی  کے سامان مہیا کرنے کی کوشش اور طاقت  کا مظاہرہ کرنا چاہا تھا لیکن  عوام  نے  صرف بارہ دنوں کی جہد و جہد سے ان کٹھ پتلی حکمرانوں کو منہ کے بل گرا کر سبسڈی کو بحال  کرا دیا تھا۔ میں جس خبر کا تذ کرہ  کرنے جا رہا ہوں اس کا تعلق بھی  گندم  سے ہی ہے  اور خبر یہ ہے کہ  سیلاب متاثرین کے  790 عدد  آٹے کے  تھیلے  2011 میں  کٹھ پتلی حکمرانوں کی ملی بگھت سے کسی فلور مل میں رکھوا دئے گئے تھے۔۔خبر میں اس بات کا تذکرہ بھی ہے کہ یہ تھیلے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کےلئے تھے۔۔۔اس بات کا انکشاف ضلع غذر کے ڈپٹی کمشنر نے کیا ہے  اور موصوف نے اپنی کوشش اور لگن سے  486 عدد آٹے کے تھیلوں  کی لاگت  مبلغ  دو لاکھ  اکانوے ہزار چھ سو  روپے کی وصولی ممکن بنا دی ہے ۔اور بقیہ  تھیلوں  کی لاگت کی وصولی کے لئے تحقیقات شروع کر دی ہے اور  اس بات کا مصمم ارادہ  ظاہر کیا ہے کہ جو سرکاری ملازم اس میں ملوث پائےجائینگے ان کے خلاف قانونی کاروائی  کر کے ان کو کیفر کردارتک پہنچایا جائیگا۔   ۔۔۔بلاشبہ ڈپٹی کمشنر ضلع غذر کا  یہ ایک شاندار کارنامہ ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔۔ٴاس خبر کے  انکشاف کے بعد کئی سوال ذہن میں جنم لیتے ہیں  کیا  ہمارے  ارباب  بست وکشاد  اس طرف توجہ دینا گوارا کرینگے ۔

2011 سے 2014 تک چار سال کا عرصہ ہوتا ہے  اور اسی دوران کئی ڈپٹی کمشنر ضلع غذر میں تعنیات رہے کبھی کسی کو یہ خیال کیوں نہیں آیا?۔۔۔یہ تھیلے  سیلاب متاثرین کے لئے تھے لازمی امر ہے   کہ  ضلع غذر کی انتظامیہ کے پاس ان متاثرین کی فہرست بھی موجود ہوگی جن کو متاثرین ظاہر کیا گیا۔ آٹا کے تھیلوں کو متاثرین میں تقسیم کے بجائے فلور ملز میں بطورامانت رکھنے کی کیا وجوہات تھیں? ۔۔۔جب ان سوالوں کا جواب ڈھونڈا جائیگا  تو  یقینا” اصل صورت حال خود بخود واضح ہو جائیگی ۔۔ بد قسمتی یہ ہے کہ  جی بی کی اسمبلی  جس میں ہر ضلع کے ٹھکیداروں کی نمائیندگی ہے ان کو ٹھیکوں کے لین دین سے فرصت کہاں جو ان کی توجہ اس طرف  ہو حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ  جی بی کا گورنر  جن کا تعلق بھی ضلع غذرسے ہے  لیکن  ان کا بھی چار سال تک اس سکینڈل اورگپلے  کے بارے چپ سادھ لینا  نہ صرف  حیران کن ہے بلکہ تعجب بھی ۔ اس خبر کی گہرائی کی طرف  جائیں تو بات  صاف اور شفاف نظر آتی ہے کہ حکومت کے کارندوں نے آٹے کو فلور مل میں امانت کے نام پر ذخیرہ کر کے ایک طرف وہ ذخیرہ اندوزی کے مرتکب ہوئے  ہیں تو دوسری طرف انہوں  نے  سیلاب متاثرین کے حق پہ ڈاکہ ڈالنے  اور غریبوں کے منہ سے نوالہ چھینے  کے فعل کا  بھی ارتکاب کیا ہے ۔۔امید ہے کہ رائے منظور حسین ڈپٹی کمشنر ضلع غذر نے جس جان فشانی اور ایماندرای  سے  اس خرد برد کا سراغ لگایا ہے  اسی جذبے سے آٹا سکینڈل  کے ان نوسر بازوں اور فراڈیوں  کےکرتو توں  کو آشکارا اور بے نقاب  کر کے آٹا سکینڈل کیس میں ملوث افراد  کی  ملی بگھت  کا بھانڈا  پھوڑ دینگے  اور ان کے  کڑا  احتساب اور قانون کے  شکنجے  میں  لانے کے لئے  اپنی صلاحتوں کو بروئے کار لائینگے   تاکہ آئندہ  کسی کو جراعت نہ ہو کہ اس طرح کے ہتھکنڈے آزمائیں  جس سے  غریب اور  بے سہارا سیلاب متاثرین بروقت امداد اور منہ کا نوالہ  چھن جائے  سے محروم  ہو جاتے ہیں ۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments