ترقی سے محروم چترال کی وادی بروغل

ترقی سے محروم چترال کی وادی بروغل

57 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کی نہایت پسماندہ اور دور افتادہ وادی بروغل چترال سے 260 کلومیٹر دور واقع ہے جبکہ بروغل کا آحری گاؤں جو افغانستان  کے سرحد کے قریب واقع ہے چترال سے 300 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس وادی تک رسائی کے لئے 2013 تک کوئی مستقل سڑ ک نہیں تھا۔ راستہ نہایت کچا اور خراب حالت میں ہے۔ جبکہ چند غیر سرکاری اداروں نے وادی کے شروعات تک کچا راستہ بنایا تھا تاہم اس سے آگے لوگ نہایت تنگ اور حطرناک راستے سے گھوڑے پر سوار ہوکر سفر کرنے پر مجبور تھے جس کے ایک طرف سنگلاح پہاڑی تھے تو دوسری طرف سینکڑوں میٹر نیچے گہرا دریا بہتا ہے جس میں کئی بار لوگ گر کر جاں بحق ہوچکے ہیں۔

بروغل کا راستہ مستوج سے نکل کر بریپ، یارخون لشٹ اور زوپو میں جاکر الگ ہوجاتا ہے۔ اس علاقے میں خواتین بھی مال مویشی پالتے ہیں اور چراتے ہیں۔ وادی بروغل کا موسم نہایت سخت سرد رہتا ہے جو سطح سمندر سے 12200 فٹ کی بلندی پر واقع ہے یہی وجہ ہے کہ اس پوری وادی میں کوئی درخت نہیں اگتا۔ 

SONY DSCاس وادی میں موسم سرما میں شدید برف باری ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ وادی کے راستے چھ ماہ تک بند رہتے ہیں۔

وادی بروغل کی چند خصوصیات ہیں جس کی وجہ سے یہ بہت مشہور ہے یہاں پر محتلف گلیشئر (برفانی تودے) ہیں جن میں چِنتر گلیشر، چتی بوئی، ویدین کھوت، کُرمبار اور دارکھوت مشہور گلیشرز ہیں۔ 

قدرتی جھیلوں میں قرمبراغ، سرخین ، بیبان جوئے، اور خنین جوئے مشہور ہیں۔ 

Peaks یعنی پہاڑی چوٹیوں میں میان کوہ، قرمبار اور خوئی قابل دید ہیں۔ 

دروں یعنی Passes میں دارکوت، سوختر آباد، قرمبار، دروازہ بروغل جبکہ گرم پانی کی قدرتی چشموں میں گرم چشمہ اور گاریل بہت مشہور ہیں۔ 

اس کے علاوہ یہاں 25 قدرتی جھیل ہیں جن کا نیلا پانی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرواتا ہے۔ 

تین بڑے درے تاریحی اہمیت کے حامل ہیں جن میں واخان کوریڈور Corridor جو مغرب کی طرف ہے یاسین پاس جنوب میں واقع ہے جو دارکوت کے ذریعے گلگت بلتستان اور ہنزہ وادی سے جاکر ملتا ہے۔ جنوب مشر ق میں چیلنجی پاس ہے سب سے بڑا درہ (پاس) جو بروغل کو واخان کے زریعے افغانستان سے ملاتا ہے وہ دروازہ پاس ہے جو چترال کو واخان کے زریعے وسطحی ایشاء (سنٹرل ایشیاء ریاستوں ) سے ملاتا ہے ۔

چترال اور تاجکستان کے درمیان صرف بارہ کلومیٹر چوڑی واخان پٹی ہے جو افغانستان کا حصہ ہے۔ اس علاقے میں وخی زبان بولا جاتا ہے ۔ وخی زبان اس کے علاوہ تاجکستان، روس، چین اور بعض وسطی ایشیائی ریاستوں میں بھی یہ زبان بولا جاتا ہے۔ 

اس علاقے میں سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ گھوڑے، یاک اور گدھوں پر سفر کرتے ہیں ۔ اس وادی میں فری سٹائیل پولو، یاک پولو، گدھا پولو، بز کشی، رسہ کشی وغیر بہت شوق سے کھیلا جاتا ہے ۔ وادی کی حاص بات یہ ہے کہ یہاں یاک ہر جگہ کھیلا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں کھیلا جاتا ۔ 

ماضی میں کثیر تعداد میں غیر ملکی سیاح وادی بروغل کا سیر کرتے تھے مگر 9/11 کے بعد یہاں غیر ملکی سیاحوں کی آمد بند ہوئی ہے اور انتظامیہ بھی غیر ملکی سیاحوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کا کاروبار بہت متاثر ہوا ہے اور ان کی معیشت پر نہایت منفی اثرات پڑے ہیں۔ 

ایک مقامی سماجی کارکن عمر رفیع کا کہنا ہے کہ یہ نہایت پر امن علاقہ ہے اور آج تک یہاں دہشت گردی کا کوئی ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیا ہے مگر اس کے باوجود بھی حکومت یہاں غیر ملکی سیاحوں کو آنے سے روکتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہورہے ہیں۔ 

بروغل کے جنوب مغرب میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے چمتار اس گاؤں میں نہ تو کوئی سکول ہے نہ ہسپتال ، نہ سڑک ہے نہ پینے کی پانی ابھی تک پورا علاقہ بجلی اور مواصلاتی سہولیات سے مکمل طور پر محروم ہے۔ 

خواتین گھروں میں دستکاری کرتی رہتی ہے مگر اس سے اتنی کمائی نہیں ہوتی جو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھالے۔

وادی آج بھی پتھر کے زمانے کا منظر پیش کرتا ہے کیونکہ اس علاقے میں 2013 تک کوئی گاڑی نہیں آیا تھا جب پہلی بار ایک سال پہلے یہاں پاک فوج کی گاڑی پہنچائی گئی تو پوری بستی کے لوگ اکھٹے ہوکر اس کی طرف حیرانگی سے دیکھتے رہے۔ 

لوگ وقتاً فوقتاً گھوڑا پولو، گدھا پولو، یاک پولو، بز کشی وغیرہ کھیلتے رہتے ہیں۔ 

چلمر آباد ایک نہایت حوبصورت گاؤں ہے جو تین پہاڑیوں کے پیچھے واقع ہے اور یہاں جانے کیلئے کوئی راستہ نہیں ہے لوگ پیدل جاتے ہیں ۔ یہاں چھوٹے چھوٹے اور کچے مکانات ہیں جس میں کوئی دروازہ، کھڑکی، یا روشندان نہیں ہوتا کیونکہ اس وادی میں لکڑی ملتا ہی نہیں ہے ۔ صرف چھتوں پر ڈالنے کیلئے دور دراز علاقوں سے سفیدے کی  لکڑی منگواتے ہیں اور وہ بھی ان کو اتنا مہنگا پڑتا ہے جس کی قیمت پر ایک ٹن سریا خریدا جاسکتا ہے۔

لوگ صرف اخی زبان بولتے ہیں اور بہت کم لوگ جو یہاں سے باہر جاکر مزدوری کرتے ہیں وہ اردو بول سکتے ہیں۔ 85 سالہ ایک بوڑھی خاتون نے کہا کہ اس نے اپنی زندگی میں آج تک کوئی گاڑی نہیں دیکھی ہے نہ بجلی کا بلب اور نہ ٹی وی دیکھا ہے حتیٰ کہ وہ چترال تک بھی نہیں گئی ہے کیونکہ ماضی میں یہاں کوئی سڑک تھا نہیں اور ابھی سنا ہے کہ وادی کی پہلے گاؤں تک سڑک آیا ہے مگر وہاں تک پیدل جانے کی طاقت وہ نہیں رکھتی۔

چند اور ضعیف العمر خواتین نے کہا کہ وہ اپنے بچپن کے زمانے میں نہ تو بروقت کھانا کھا سکتے تھے نہ ان کو صحیح کپڑے ملتے تھے۔ اس وادی میں زیادہ تر لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔گرمائی گاؤں چلمر میں چند لڑکیاں دیکھی گئی جو کسی اور کی بکریاں چرا رہی تھی ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ سکول کیوں نہیں جاتی تو انہوں نے اپنی مقامی زبان میں بتایا کہ چونکہ اس علاقے میں کوئی سکول ہے ہی نہیں اور وہ نہایت غریب لوگ ہیں ۔ وہ سال بھر گاؤں کے لوگوں کا بھیڑ بکریا ں پالتی ہیں اور ان کو Grazing یعنی چَرانے کیلئے وہ انہیں چراہ گاہ لاتی ہیں جس کے عوض ان کو سال بعد ایک بکرا ملتا ہے۔ 

اکثر سکول جانے کے عمر کے بچے دیکھے گئے جو غیر مقامی سیاحوں کو گھوڑا فراہم کرتے ہوئے ان کے گھوڑے کے آگے آگے پیدل جاتے ہیں اور شام کو اپنے اہل حانہ کیلئے روزی کماتے ہیں۔ 

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وادی میں زیادہ تر لوگ واخان افغانستان، تاجکستان، چین، گلگت اور وسطحی ایشیاء کے دیگر ریاستوں سے ہجرت کرکے آباد ہوئے ہیں۔ 

گھوڑے پر سفر کرنے والے ایک نوجوان نے کہا کہ جب پاکستان بنا تو ہمارے آباء واجدا نے رضاکارانہ طور پر پاکستان کو تسلیم کیا مگر حکومت پاکستان نے آج تک ہمارے لئے کچھ نہیں کیا۔ اگر یہی صورت حال رہی تو ہم پڑوسی ملک افغانستان کو واپس جا ئیں گے کیونکہ میرے باپ دادا بھی افغانستان سے آئے تھے۔ 

اس علاقے میں جب پولو کھیلا جاتا ہے اس میں گلگت بلتستان اور اشکومن سے بھی کھلاڑی حصہ لینے کیلئے آتے ہیں جو یہاں سے چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع ہے۔ 

گھروں کے اندر نہ تو بجلی کا بلب ہے نہ اس میں کوئی دروازہ دیکھا گیا بلکہ مٹی اور پتھروں سے بنے ہوے ان مکانات کے دیوار میں محراب نما چھوٹا سا سوراح بنایا جاتا ہے اور مکان میں داحل ہونے کیلئے جھک کر جانا پڑتا ہے۔ 

اس چھوٹے سے مکان جو بمشکل دو مرلے پر محیط ہوتا ہے اس میں تین ، تین گھرانے رہتے ہیں اس کے اندر کچن، ڈرائیگ روم، بیڈ روم وغیرہ سب کچھ اندر موجود ہوتا ہے۔ چونکہ اس علاقے میں ہر سال موسم سرما میں پانچ سے چھ فٹ برف باری ہوتی ہے اسلئے گھروں میں کھڑکی روشندان نہیں رکھا جاتا ہے تاکہ ٹھنڈی ہوا اندر داحل نہ ہو۔ 

بروغل کے باسیوں کی صحت بھی زیادہ اچھی نہیں ہوتی ہے کیونکہ نہ تو ان کو مناسب خوراک ملتا ہے نہ پھل پھول، اور نہ صحت کی بہتر سہولیات اور آگاہی۔ 

ایک معمر خاتون نے عجیب انکشاف کیا کہ یہاں جب موسم سرما میں کوئی فوت ہوتا تو چونکہ یہاں شدید برف باری کی وجہ سے سارا زمین برف سے ڈھکا رہتا تھا اسلئے ہم اپنے مُردوں کو برف میں کئی ماہ تک رکھتے اور جب گرمیوں میں برف پگھل کر زمین خالی ہوجاتی تو اس وقت ہم اپنے مُردوں کو دفناتےہیں.

زیادہ تر لوگ دیسی طریقے سے اپنا علاج معالجہ کرواتے کیونکہ یہاں کوئی ڈاکٹر تو ہے نہیں۔ 

یہاں کی آبادی بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ دور دور تک کوئی مکان نظر نہیں آتا اور آبادی دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو بروغل کے سامنے والے پہاری پر روسی فوجیوں نے مورچے بنائے تھے جو اس کے سرحد کے باکل قریب واقع ہے۔

اپنے مکان کے سامنے ایک بوڑھی خاتون بیٹھی ہوئی نظر آئی جسے شدید بحار بھی تھا اس سے جب مقامی زبان میں ترجمان کے ذریعے بات چیت ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ میں کئی دنوں سے بیمار ہوں اور یہاں علاج معالجے کی کوئی سہولیت موجود نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں یہاں ترقی ہونے تک میں زندہ رہوں گی بھی یا نہیں۔

اس نے بڑی حیرانگی سے پوچھا کہ یہ لوگ یہاں کیسے پہنچے ہیں جب ان کو بتایا گیا کہ گاڑی میں تو اس نے نہایت معصومانہ سوال کیا کہ گاڑی کے کتنے پیر ہوتے ہیں۔

مقامی لوگ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ لوگ بھی پاکستانی ہیں اور ان کا بھی برابر کا حق ہے لہذا ان کو بھی زندگی کے تمام سہولیات فراہم کی جائے تاکہ یہ لوگ اس وادی سے نقل مکانی کرنے پر مجبور نہ ہو کیونکہ یہ لوگ پاکستان کے نہایت وفادار ہیں اور آج تک انہوں نے اپنے حق کیلئے کوئی احتجاج بھی نہیں کیا ہے ۔

واضح رہے کہ وادی بروغل تاریحی اور جغرافیائی لحاظ سے نہایت اہمیت کے حامل ہے جو افغانستان، تاجکستان، چین اور روس کے سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہاں 2013 تک کوئی سڑک نہیں تھا لوگ اس وادی کو دیکھنے کیلئے تین دن سفر کرکے پہنچ جاتے جو گھوڑے، یاک، گدھے اور پیدل کا سفر تھا ۔ تاہم پچھلے سال پاک فوج نے چترال سکاؤٹس کے پوسٹ تک کچا سڑک بنایا ہے مگر اس سے آگے سرحدی علاقے تک کوئی سڑک نہیں ہے اور لوگ اب بھی پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

اس وادی میں ایک پن چکی ہے اگر بارشیں نہ ہو اور وافر مقدار میں پانی میسر نہ ہو تو پن چکی بھی نہیں چلتی۔ انتہائی دور آفتادہ ہونے کی وجہ سے یہاں کھانے پینے کی چیزیں پہنچانے پر بہت زیادہ کرایہ لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ چترال کے نسبت یہاں دو سو فیصد مہنگائی ہے۔ 

ایک غیر ملکی کوہ پیما جس نے کئی سال پہلے اس راستے سے پید ل سفر کرکے گزرا ہے اس نے اپنے کتاب میں ذکر کیا ہے کہ یہ نہایت پر امن علاقہ ہے اور غیر ملکی سیاحوں کو کسی قسم کا حطرہ نہیں ہے۔

یہاں کے لوگ مال مویشی پالتے ہیں اور زیادہ تر یاک پالتے ہیں جسے مقامی زبان میں خوش گاؤ بھی کہا جاتا ہے اس کا دودھ نہایت گاڑھا ہوتا ہے اور لوگ دودھ سے بنے ہوئے غذ ا شوق سے کھاتے ہیں کیونکہ یہاں کوئی سبزی، پھل وغیرہ دستیاب نہیں ہے.

اگر حکومت اس خوبصورت وادی میں مواصلاتی نظام بہتر کرے اور پہاڑی دروں سے سڑکیں گزارکر غیر ملکی سیاحوں کیلئے آسانیاں پیدا کرے تو اس سے بہت زیادہ ذر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے اور سیاحت کی وجہ سے ا س علاقے کی معیشت پر دور رس مثبت اثرات پڑیں گے جو یقنی طور پر ان لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کریگی اور یہ لوگ بھی ملک کے دوسرے حصوں کی طرح جدید سہولیات سے مستفید ہوں گے۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔