میرے بچپن کی معصومیت مجھے لوٹا دو 

میرے بچپن کی معصومیت مجھے لوٹا دو 

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ranaآج سے آٹھ سال قبل گلگت شہر کے وسط میں میرا آفس ہوا کرتا تھا ، دوپہر کے وقت کھانے کیلئے میں دیگر دوستوں کے ساتھ قریبی ہوٹل جایا کرتا تھا ، جہاں کئی نو عمر بچے اپنے گھروں کا چولہا جلانے کیلئے ویٹر کی مزدوری کرتے تھے ، گاہکوں کی بدمزاجی اور مالک کی ڈانٹ کھا کھا کر ان بچوں کے چہروں سے معصومیت ختم ہو گئی تھی اور وہ بھی حالات کی ستم ظریفی کے عادی بن کر مشقت کرنے پر مجبور تھے،ان بچوں کے ساتھ روزانہ ملاقات ہوتی رہی ایسے میں ان کے حالات جاننے اور انکے اندر پیدا ہونے والی منفی حرکات اور ان کی ستم ظریفی کا بھی اندازہ ہو گیا، ایک دن معمول کے مطابق ہم کچھ دوست کھانے کیلئے ہوٹل میں داخل ہو رہے تھے کہ اسی اثناء کھانا ٹھنڈا پیش کرنے کا الزام لگا کر ایک شخص نے ایک ویٹر بچے کو زوردار تھپڑ رسید کیا جس کی وجہ سے اسکے گال سرخ ہو گئے،میرے ذہن میں ایک لمحے کیلئے یہ خیال پیدا ہوا کہ جا کر اس شخص کو بھی چھپیڑ ماروں لیکن میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس چھوٹے سے بچے نے اس شخص کو ایسی واہیات اور گندی گالیاں دینا شروع کردی کہ انہیں سن کر شاید اس شخص کی پشتیں بھی کانپ رہی ہونگی ، یہ انہیں دنوں کی بات ہے ایک سماجی کارکن میرے پاس آیا اور کہا کہ ان بچوں کیلئے تعلیم کا بندوبست کرنا چاہیے اور انہوں نے اگلے ہی دن اپنے آفس کا ایک کمرہ اس کام کیلئے مختص کر دیا اور سیکنڈ ٹائم میں خود ان بچوں کو رضاکارانہ طور پر پڑھانے لگا ، مختلف جگہوں مثلا ہوٹلوں، ورکشاپوں ، اڈوں اور اخبار بیچنے والے درجنوں بچوں نے اس سینٹر میں داخلہ لیا ، شروع کے کئی ہفتے انہیں صرف اخلاقی تربیت دی جاتی رہی ساتھ ساتھ مختلف تعلیمی طریقوں کو اپنا کر انہیں تعلیم کی طرف راغب کرتے رہے، انکے کھانے پینے اور صفائی کا خاص انتظام کیا گیاتھا وہ اپنے کام سے چھٹی کے بعد سینٹر آتے اور زیور تعلیم سے آراستہ ہونے لگے لیکن فنڈز کی کمی اور بچوں کے گھروں کی پریشانیوں کا صد با ب کئے بغیر ان بچوں کی مشقت ختم نہیں ہو سکتی تھی ، کچھ مہینے چلنے کے بعدیہ سنٹر بھی بند ہو گیا ، اور یوں ایک بار پھر یہ بچے کسی گندگی کے ڈھیر سے کاغذ چننے، کسی ہوٹل کے مالک کی ڈانٹ کھانے اور کسی ورکشاپ میں گریز لگے کپڑے اور اپنے نازک ہاتھوں میں اوزار لینے پر مجبور ہوگئے۔

بچوں کی مشقت کے خاتمے اور انکے تحفظ کیلئے مملکت خدادا د میں کئی قوانین بنائے گئے ہیں لیکن جب ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں ایسے کئی بچے نظر آتے ہیں جو بھوک افلاس اور تنگ دستی کی وجہ سے مشقت کرنے پر مجبور ہیں ، یہ ریاست کی اولین زمہ داری ہیکہ وہ ایسے بچوں کی کفالت اور تعلیم کا بندوبست کرے لیکن بد قسمتی سے ہمارے یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، اشرافیہ دولت کے نشے میں مست اپنی دنیا میں گم ہیں اور کیوں نہ ہوں انکے بچے بڑے بڑے تعلیمی اداروں ، تفریحی مقامات کی سیر اور زندگی کی تمام آسائشوں سے لیس ہیں تو بھلا وہ کیوں کسی مجبور و بے کس بچے کی آہ کو سن سکتے ہیں ، اس ماں کا کلیجہ پھٹ جاتا ہوگا جب اسکا ننھا سا بچہ اپنے مشقت بھرے ہاتھوں سے اپنی روز کی کمائی اسکے ہاتھ میں دیتا ہوگا، وہ راتوں کو جاگ جاگ کر حالات کی ستم ظریفی پر آنسو بہاتی ہونگی لیکن اس کی آہ بکا سوائے اللہ کے کوئی نہیں سن سکتا، وہ بھی اپنے معصوم سے بچے کو دیگر بچوں کی طرح سکول پیچنا چاہتی ہو لیکن پھر وہی حالات اسے مجبور کرتے ہونگے۔ ہم ایک بے حس قوم کی طرح ان بچوں کی تکالیف سے بے فکر نفسا نفسی میں مشغول ہیں ، سڑک کے کنارے کوڑا چننے والے بچوں کو ہم ایسے نظر انداز کرتے ہیں جیسے اسکا کوئی وجود ہی نہ ہو اور واقعی بھی وہ بیچارہ دھرتی پر بوجھ ہی تو ہے، اسکی بھی خواہش ہے کہ وہ صاف ستھرے کپڑے پہنے، دوسرے بچوں کی طرح وہ بھی سکول جا ئے اور پڑھ لکھ کر ایک باعزت شہری بن سکے ، لیکن حالات ایسے ہیں کہ وہ گورنمنٹ سکول کے بھی اخراجات برداشت نہیں کر سکتا، اور یوں وہ بچہ سڑکوں ، فٹ پاتھوں ، ہوٹلوں ، ورکشاپوں، بس اڈوں کے دھکے اور ہمارے منفی رویوں کے نشتر کی تاب نہ لاتے ہوئے بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے، ایک ایسا معاشرہ جس نے اس بچے کو اسکی نوعمری میں کچھ بھی نہ دیا ہو وہ کیسے بھول سکتا ہے احساس محرومی اور انتقامی سوچ اکے ذہن میں پروان چڑھتی ہے اور یوں وہ اس معاشرے کیلئے ایک ناسور بن جاتا ہے ، انتقام لینے کی غرض سے ایسے منفی اقدامات مثلا چوری چکاری، بھتہ وصولی اور قتل و غارت گری پر اتر آتا ہے ، پھر ایک دن وہ کسی بڑے جرم میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی باقی ماندہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوگا۔ ایسے بہت سارے بچے آج جوانی میں یا تو منشیات کے عادی بن چکے ہیں یا پھر بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں ، نہ صرف یہ بچے خراب ہوئے ہیں بلکہ یہ اب معاشرے کے دیگر نوجوانوں کو بھی بے راہ روی کا شکار کر رہے ہیں ۔

فلاحی ادارے بڑے بڑے نعرے تو لگاتے ہیں لیکن بچوں کی مشقت ختم کرنے کیلئے آج پورے صوبے میں ایک بھی پروگرام نہیں چل رہا، بچوں کی مشقت کے عالمی دن کے موقع پر اپنی واہ واہ کرانے کیلئے بڑے بڑے بینرز آویزاں کئے جاتے ہیں لیکن کوئی بھی ایسے بچوں کی رہنمائی کیلئے تیار نہیں ہے۔

گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے آج تک چائلڈ لیبر یعنی کہ بچوں کی مشقت کو ختم کرنے اورانکے تحفظ کیلئے کوئی قرارداد پاس نہیں کی ، چائلڈ پروٹیکشن بل کی منظوری اور اسپر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے، صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسے پروگرامز چلائے جن سے ان بچوں کی کفالت بھی ہو سکے ، فیملی سپورٹ بھی مل سکے اور تعلیم و تربیت بھی تاکہ یہ بچے بھی معاشرے کے باعزت شہری بن سکیں ، اور مشقت کے دوران ، دھکوں ، گالیوں ، بے راہ روی اور دیگر برائیوں سے بچ سکیں ۔ یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے اگر آج ہم نے اس کا سد باب نہیں کیا تو مستقبل میں معاشرے کو ہم ایک مہذب قوم دینے کے بجائے ،چور ،ڈاکو ، منشیات فروش اور دہشت گرد دینے کے مرتکب ہونگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔