ایک سماجی خدمتگار کی کہانی: کوئی ہے جو مددگار کی مدد کرے؟

ایک سماجی خدمتگار کی کہانی: کوئی ہے جو مددگار کی مدد کرے؟

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہم جب بھی اپنے معاشرے کی طرف دیکھتے ہیں ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرے چھا جاتے ہیں کیونکہ یہاں ناانصافی، لوٹ کھسوٹ، ظلم، زیادتی،چوری چکاری،جھوٹ، دھنگا فساد اور بے ایمانی سمیت تمام غیر اخلاقی اور غیر قانونی کاموں کی بہتات ہے ….. فورا ہم اپنی آنکھیں ہٹا لیتے ہیں بلکہ چرا لیتے ہیں اور اپنے آپ کو تسلی دینے لگتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہیں…مگر آنکھیں چرانے کی بجائے ذرا دیر کیلئے غور سے معاشرے کے چہرے کو دیکھیں تو ہمیں کہیں کہیں کچھ ٹمٹماتے جگنو نظر آنے لگتے ہیں، مزید غور کرنے پر یہ دائرے بڑھتے جاتے ہیں اور پھر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بے شمار غیر اخلاقی کاموں کے باوجود ہمارے معاشرے کی بنیاد کیوں نہیں اکھڑ رہی۔ آج ایک ایسے ہی ستارے سے میر ی ملاقات ہو گئی جو احساس سے عاری معاشرے میں حساس دل لیے پھر رہا ہے اور ناامیدی جیسے الفاظ سے تاحال واقف نہیں۔ اس شخص کی عمر 40سال ہے ، گذشتہ تقریبا 25 سال سے سماج کی خدمت کر رہا ہے اور کوئی صلہ نہیں چاہتا۔ سکول لائف میں ایک دن ایک مشفق استاد کاچو عباس نے بوائے سکاوٹس بنانے کا اعلان کیا، سکول کی اسمبلی میں موجود دیگر سینکڑوں بچوں کی طرف یہ بچہ(علی) بھی غور سے استاد کو سن رہا تھا، پھر اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے کا منظر دھندلا گیا، اسے جیسے نیند سی آگئی، وہ کھلی آنکھوں سے ایک خواب دیکھنے لگا، یہ خواب اسے اس کی اردو کی کتاب نے دکھایا تھا جس میں ایک مضمون موجود تھا جو سماجی خدمت کے موضوع پر لکھا گیا تھا، مضمون میں سماجی خدمتگار کو دنیا و مافیا سے بے نیاز ہو کر لوگوں کی خدمت کرتے دکھایا گیا تھا، تھوڑی دیر بعد ساتھ والے بچے نے پہلو بدلا جس کی وجہ سے علی کا خواب ادھورا رہ گیا، اس نے ہڑبڑھا کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا اور یہ دیکھ کر مطمئن ہو گیا کہ اس کی اس کیفیت پر کسی نے غور نہیں کیا ہے۔ کاچو عباس کی تقریر ابھی جاری تھی جس میں بچوں کو بوائے سکاوٹس جوائن کرنے کو کہا جا رہا تھا۔ علی کے دل میں شدید خواہش ابھری کی کاش میں بھی سماجی خدمت گار بن سکوں، اس نے اپنا نام لکھوایا اور استاد کے آگے پیچھے گھومنے پھرنے لگا۔ اس اضطرابی کیفیت میں اس کا مستقبل چھپا ہوا تھا جسے شاید کسی نے محسوس نہیں کیا۔ میٹرک کا امتحان دینے کے بعد علی کا پڑھائی سے دل اچاٹ ہو گیا، وہ اپنے مرحوم باپ کے ساتھ ترکھان کا کام کرنے لگے، مگر اس کا دل یہاں بھی نہیں لگ رہا تھا، اس کی نظریں کسی کی تلاش میں تھیں، یار لوگوں نے سمجھا کہ علی اب جوان ہو گیا ہے اسے شاید کسی سے پیار ہو گیا ہو گا، اس کے دل میں درد نے جگہ بنا لی ہو گی، اس کی شادی کرانا دینی چاہئے مگر یار وں کا یہ اندازہ اس قدر غلط ثابت ہو گیا کہ علی آج بھی غیر شادی شدہ ہے۔ علی کا دل صنف مخالف کے لئے نہیں بلکہ سماج میں موجود بے سہارا لوگوں کیلئے دھڑکنے لگا تھا۔ راہ چلتے کسی بچے کو روتے دیکھا تو ایک منٹ کے لئے رک کے اس کو بہلا لیا، کسی بزرگ کو سڑک پار کرایا، کسی بھائی کا ہاتھ بٹایا، کسی خاتون کے ہاتھ سے پانی سے بھرا مٹکا اٹھا لیا اور دروازے تک پہنچا دیا، بس یہی کچھ کرتے تھے اور روز بروز اپنے کام سے مطمئن ہوتا جا رہا تھا ، ایک بار اس کے اس طرح کے رویے کا کسی نے نوٹس لیا داد دی، علی کا حوصلہ اور بڑھ گیا، پھر شاید کسی شخص کے ذریعے علی کے باپ تک یہ بات پہنچی تو باپ نے بھی شاباشی دی، علی کا حوصلہ اور بڑھ گیا۔ والدہ نے بھی دعا دی، بھائیوں نے بھی غیر محسوس انداز میں حوصلہ بڑھایا پھر کیا تھا کہ سفر تیزی سے طے ہونے لگا…..سکردو کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں داخل ہونے والے بیشتر غریب و نادار مریض اس ’’نوجوان بزرگ‘‘ کو جانتے ہیں۔ آج بھی علی ایک بار صبح اور ایک بار شام کو ہسپتال کا چکر لگاتا ہے، غریب مریضوں کا پتہ چلاتا ہے اور ان کی حد المکان خدمت کرتا ہے۔ میری ان سے ملاقات ہسپتال میں ہی ہوئی تھی جب وہ کسی مریض کی مدد کرنے میں لگا ہوا تھا، سادہ کپڑوں میں ملبوس ، عام سا اور غریبانہ انداز اپنائے ہوئے اس نوجوان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کسی غریب مریض کا رشتہ دار ہے جو مریض کی تکلیف سے بخوبی واقف ہے مگر ہاتھ تنگ ہونے کی وجہ سے کچھ اچھا کرنے سے قاصر ہے۔ ہسپتال میں داخل مریضو ں میں علی کا کوئی رشتہ دار نہیں مگر علی سب کے رشتہ دار ہیں، وہ سب کیلئے پریشان رہتے ہیں۔ یہی کیفیت آج بھی اس کے چہرے پر نمایاں تھی، اسی جذبے نے علی کو سکردو سے اسلام آباد جانے پر بھی مجبور کر دیا جہاں وہ ایدھی ویلفیئرٹرسٹ میں بحیثیت رضا کار کام کرنے لگے ہیں، میں ان کی حرکات کو نوٹ کر رہا تھا ، جب اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے ان سے 5منٹ بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، انہوں نے حامی بھر لی اور میرے ساتھ ہسپتال کے گیٹ تک آیا، اسی دوران میں نے اپنا مدعا بیان کیا کہ مجھے آپ کا انٹرویو کرنا ہے، انہوں نے نہایت عاجزی سے کہا کہ میری ایسی کوئی کارکردگی نہیں، پھر بھی آپ کہتے ہیں تو میں شام کو آپ کے دفتر آونگا، موبائل نمبروں کا تبادلہ کرنے کے بعد میں چلا آیا۔ شام کو ان کو آنے میں تاخیر ہوئی تو میں نے کال ملائی، فون اٹینڈ نہ ہوا تو میرے دل میں خیال آیا کہ وہ اخبارات میں شائع ہونا پسندنہ کرتے ہونگے …..میں اپنے کام میں لگ گیا اور بھول گیا کہ علی کو دوبارہ فون کرنا ہے مگر وہ اچانک آپہنچے۔ ان کے ساتھ جو گفتگو ہوئی اس کا خلاصہ انہی کی زبانی پیش کرتے ہیں۔

Mono zeeسکول لائف میں بوائے سکاوٹس جوائن کرنے کے بعد میری زندگی میں نمایاں تبدیلی آنے لگی، سماجی خدمت کر کے مجھے بڑا طمنان ملتا تھا، گھر سے اور معاشرے سے حوصلہ افزائی ہونے لگی تو قدم اور تیز ہو گئے۔ اساتذہ کا رویہ اور نصاب میں موجود خدمت خلق کے مضامین نے اور جوش دلایا جبکہ علامہ اقبال کی شاعری نے زندگی میں انقلاب پیدا کر دیا۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

پہلے پہل ہسپتال میں دیگر علاقوں سے آنے والے مریضوں کو پرچی دلانے، ان کو جلد ڈاکٹر تک پہنچانے، ٹیسٹ وغیرہ کرانے میں مدد دیتا تھا پھر ڈاکٹروں سے واقفیت ہو گئی، میڈیکل ریپز سے دوستی ہو گئی ، ہسپتال کے دیگر عملے سے جان پہچان ہو گئی تو کام آسان ہو گیا، پھر ان کا رویہ میرے ساتھ انتہائی دوستانہ ہوتا گیا۔ آج بھی سارے ڈاکٹرز اور ہسپتال کا عملہ بھرپور تعاون کرتا ہے، میرے حوالے سے جانے والے مریضوں کے ساتھ خصوصی رویہ رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک ڈاکٹر (ڈاکٹر محمد علی) کی کلینک پر بھی کوئی مریض میرا حوالہ دے تو وہ فیس معاف کرا دیتے ہیں۔ پھر دیگر لوگوں نے بھی تعاون کرنا شروع کردیا، کچھ مخیر حضرات نے بتارکھا ہے کہ جب بھی پیسوں کی ضرورت پڑے ہم سے رابطہ کریں اور میں جب بھی ان کے پاس گیا ہوں انہوں نے دل کھول کر مدد فراہم کی ہے۔ علی نے کہا کہ میرے ذاتی اخرجات میرے گھر والے برداشت کرتے ہیں، ماں نے کبھی نہیں پوچھا کہ یہ سب کیوں کرتے ہو، بھائیوں نے ہمیشہ مدد دی اور حوصلہ افزائی کی، میرے ہمسائے اور اہل محلہ نے ہمیشہ ہمت بڑھائی۔ اس لئے ذاتی طور پر اخراجات کی فکر سے آزاد ہوں، میں نے شادی نہیں کی اس لئے اس فکر سے بھی آزاد ہوں۔ تاہم کئی بار دوست احباب نے شادی کرنے کا مشورہ دیا، مجھے ان کی باتیں عجیب لگتی تھیں کیونکہ میں اپنے بارے میں سوچنے کا قائل ہی نہ تھا،پھر امام علی ؑ کا ایک قول نظر سے گزرا جس میں کہا گیا تھا کہ بندے کو اپنے بارے میں بھی سوچنا چاہئے تبھی میں نے اپنے بارے میں بھی سوچنا شروع کیا، مگر شادی کا خیال پھر بھی نہ آیا ۔ ایک سوال کے جواب میں علی نے کہا ہے کہ اسلام آباد جانے کے بعد نظریات میں واضح تبدیلی آئی، وہاں کے رضا کاروں کو دیکھ کر رشک آتا ہے، ان کا کام بہت اچھا ہے ، وہاں کام کرنے والوں سے تعاون کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اپنے دوستوں کے حوالے سے علی کا کہنا ہے کہ کچھ دوست ایسے ہیں جن کی معاشی پوزیشن اچھی ہے وہ میری مدد کرتے رہتے ہیں، انہی کی وجہ سے یتیموں اور تعلیم سے محروم طبقہ کی مدد کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ علی نے کہا کہ آج ہمارا معاشرہ بے حس ہوتا جا رہا ہے خصوصا بزرگوں کی بڑی تعداد سماجی خدمت سے دور بھاگتی ہے تاہم نوجوان میں یہ جذبہ آج بھی موجود ہے۔ دراصل ہم نے اپنی روایات کو چھوڑ دیا ہے، سچ ہماری روایت تھا مگر ہم نے جھوٹ کو اپنا لیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو اگر کوئی اختیار ملے تو پہلی ترجیح کس کام کو دینگے، ذرا سا سوچنے کے بعد انہوں نے کہا کہ صحت ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہے ، لوگ تعلیم کو پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں مگر میرا ان سے سوال ہے کہ صحت نہ ہو تو تعلیم کا کیا کریں گے؟ جب تک ہم صحت مند معاشرہ تشکیل نہ دینگے دیگر تمام چیزوں کو اہمیت نہیں ملے گی۔ میں نے پوچھا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سکرد و میں آپ کا زیادہ وقت گزرتا ہے لہذا مجھے یہ بتائیے کہ اس ہسپتال کا بڑا مسئلہ کیا ہے؟علی ہنسے مگر یہ ہنسی عجیب تھی، چہرے پر تلخی کی گہری لہریں ابھریں اور چلی گئیں، پھر مسکرا کر کہنے لگے کہ آپ یہ پوچھیں کہ ہسپتال میں کیا مسئلہ نہیں ہے…..ہاہاہا؟ یہ مسائل سے بھرپور ہے، وہ تو اللہ بھلا کرے ڈاکٹر اشرف صاحب کا جنہوں نے ذاتی کوششوں سے کچھ بہتری لائی ہے، ورنہ 5سو روپے کیلئے بھی ایم ایس کو روڈ پر چندہ لینے جانا پڑتا تھا….اب حالت کچھ بہتر ہو گئی ہے، مریضوں کیلئے دیا جانا والا کھانا بند کر دیا گیا تھا اب وہ دوبارہ جاری کر دیا ہے، فیسوں کا مسئلہ جنم لیا تھا جو حل ہو گیا… مگر اب بھی اتنے سارے مسائل ہیں کہ گن گن کے تھک جائیں گے، اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ ہسپتال پر خصوصی توجہ دی جائے۔ میں نے پوچھا، جناب یہ بتائیے کہ مستقبل کیلئے کیا سوچا ہے….جواب آیا کہ مستقبل میں بھی یہی کام کرتے رنا ہے۔ ایک تنظیم کا سوچا تھا کہ باقاعدہ طور پر گرانٹ اور مدد لی جائے تاکہ مریضوں کی اور زیادہ خدمت کر سکوں مگر اس پر عمل درآمد نہیں کرا سکا، اب تو میں نے ایدھی جوائن کر لیا ہے مگر جیسے ہی کوئی مدد ملے سکردو کے لوگوں کی خدمت کیلئے واپس آونگا۔ خدا نے توفیق دی تو یہاں سماجی خدمت کا بہت بڑا ادارہ کھولوں گا، میرے کچھ اور دوست ہیں جو اسی طرح خاموشی سے سماجی خدمت کرتے ہیں، ہم سب نے مل کر یہ پلان بنایا ہے کہ تمام سماجی خدمت گاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے منظم انداز میں کام کرنے کیلئے کچھ کیا جائے گا….کیا کیا جائے گا؟؟؟……یہ تو مجھے نہیں معلوم مگر کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہو گا…..انہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان تک ایک بات پہنچانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ایک سماجی خدمتگار ماسٹر علی محمد شاکر کا تبادلہ سکردو میں کرایا جائے کیونکہ سکردو ہسپتال کو ان جیسے بے لوث خدمتگاروں کی اشد ضرورت ہے۔ 

میری اور علی کی گفتگو دیر تک چلتی رہی …..پھر وہ چلا گیا اور سوچتا رہ گیا کہ ہمارا معاشرے ’’یہ‘‘ ہے یا ’’وہ‘‘ ہے؟؟؟؟

دوستو!میں کسی اور دنیا کی بات نہیں کر رہا، کسی اور مخلوق کی بھی بات نہیں کر رہا، ان کا پورا نام محمد علی ہے، الڈنگ سکردو کا رہائشی ہے اور ان کا پیشہ سماجی خدمت ہے مگر جب ان کے بارے میں جاننے کیلئے سوال کرتے ہوئے پیشے کا پوچھا جاتا ہے تو وہ گھبرا سے جاتے ہیں اور کوئی جواب نہیں دے پاتے……!!!! علی کا سکول کی اسمبلی میں کھلی آنکھوں دیکھا گیا خواب ادھورا رہ گیا تھا جسے پورا کرنے کیلئے انہوں نے بڑی تک و دو کی ہے مگر آج بھی یہ خواب ادھورا ہے چنانچہ ادھورے خواب کی تعبیر بھی ادھوری ہے…… 25 سال بعد بھی علی کھلی آنکھوں سے خواب دیکھ رہا ہے ….. اور اب تو خاموش لبوں پر یہ پکار بھی ہے کہ ….کوئی ہے جو غریبوں کی مدد کرنے کیلئے میری مدد کرے….؟؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔