’’پریم پتر‘‘

’’پریم پتر‘‘

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

hayatیہ میرا خط ہے تمہارے نام۔۔۔۔تم میری زندگی ہو۔۔۔۔میں ایک پریمی ایک پاگل ہوں۔۔۔۔میں محبت ،خلوص اور پیار کی راہوں میں دنداناتا پھرتا رہا ہون۔۔۔۔میں نے زندگی کی70بہاریں دیکھی۔۔۔۔میں نے جب ہوش سنبھالا تو بڑھے ،بوڑھے،چھوٹے بڑھے ادھر اُدھر پھررہے ہوتے ۔ان کی افسردہ نگاہیں آسمان کی طرف کبھی نہیں اُٹھتیں اگر اٹھتی توان سے حسرت ٹپکتی ۔ان کے سر جھکے ہوئے ہوتے۔۔۔۔جب ہم سکول جاتے بچے بنے تو سکول میں اساتذہ اسی طرح افسردہ رہتے۔فضا میں ایک مایوسی چھائی رہتی۔سورج نکلتا مگر دھوپ دھند الود ہوتی۔۔۔۔چاند نکلتا مگر ہم تک پہنچتے پہنچتے چاندنی کا حسن پھیکا پڑتا۔۔۔ہم اس مخمصے کو سمجھنے سے قاصر تھے۔۔۔۔پھر ایک شور اُٹھا ساری دنیا بیدار ہوگئی کچھ ہمدرد تھے باقی تماشا دیکھنے لگے لوگ ہجوم میں سڑکوں پہ نکلتے۔۔۔ایک بزرگ آگے آگے ہوتا۔۔۔نعرہ لگاتا۔۔۔۔لے کے رہیں گے ۔۔۔۔ہجوم یک زبان ہوکر کہتا۔۔۔۔’’پاکستان‘‘۔۔۔۔بن کے رہے گا۔۔۔۔’’پاکستان‘‘ہم سکول تک جاتے پھر بستہ کمروں میں پھینک کر اس ہجوم میں شامل ہوتے۔۔۔۔ہم ہنستے،مسکراتے،اچھلتے کودتے مگر ہاتھ بلند کرکے نہایت زو رسے’’پاکستانِ ‘‘کہتے۔ہم نہ ’’پاکستان‘‘کا مطلب سمجھتے اور نہ ’’بن کے رہے گا‘‘اور نہ لے کے رہیں گے‘‘کا مطلب سمجھتے۔۔۔۔ایک دن ہمارے بڑھے ،بوڑھے،ماؤں اور سب گھروالوں ،محلے والوں اور اساتذہ کی حالت غیر ہوگئی۔سب پاگلوں کی طرح ادھرُ دھر پھرنے لگے تھے۔ان کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ ’’سر ‘‘جو ابھی تک اوپر اُٹھ نہیں رہے تھے۔اُٹھے ہوئے تھے۔ہمیں بتایاگیا۔۔۔پاکستان حاصل کیا گیا۔۔۔۔پاکستان بنا۔۔۔ہمیں مٹھائی کھانے کا شوق تھا۔ہمیں مٹھائی کھلائی گئیں۔۔۔۔میرے پیارے بچو!میں70سال کا بڈھا تمہیں’’پریم خط ‘‘لکھے بیٹھا۔۔۔مگر پریم کہانی سنا ڈالی بچو۔۔۔۔ہم بڑھے ہوتے رہے۔ہم باخبرر ہوتے گئے۔ہمیں پڑھایا جانے لگا ہم نے موٹی موٹی کتابیں پڑھی،تیاری کی امتحان دیا۔ہمیں بتایا گیا کہ ہم نے’’تعلیم‘‘مکمل کی۔پھر ہم نوکر ہوگئے۔دسیوں انگلیاں انگھوٹے لگاکر قسمیں کھائی کہ ہم’’پاکستان‘‘کی خدمت کریں گے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے انجام دیں گے۔ہم اللہ کو حاضر ناظر جان کر ملک وقوم کے بہتر مفاد میں کام کریں گے۔پھر ہم ایک پرتعیش کمرے میں گھُسے ،چمکتی کرسی پر براجمان ہوئے۔۔۔۔ہماری میز فائیلوں سے بھرنے لگی ہم مگر دفترمیں آنے والے دوستوں ،رشتہ داروں ،ملاقاتوں کو مدلل تقاریر سنانے لگے،ہماری ان لمبی تقریروں میں دیانت،محنت،سیاست پاکستان کی تقدیر پر روشنی ڈالی جاتی۔۔۔فائلیں اسی طرح پڑی رہتیں۔ہمارے دفتر میں جو بھی آتا وہ اپنا بھول کے دوسروں پر اعتراض کرتا۔۔۔۔وکیل ڈاکٹرکو بُرا کہتا۔۔۔پولیس استاد کو بے کار کہتا ۔۔۔۔صنعتکار ٹھکیدار کو تنقید کا نشانہ بناتا۔۔۔سیاسی لیڈر عوام کو بے شعور کہتا۔۔۔۔ہم سب کے ہاں میں ہاں ملاتے۔۔۔میری فائلیں دھری کی دھری رہ گئیں۔بند پڑی رہیں۔۔۔۔ایک دن میرے کلرک نے میرے پنشن کے کاغذات پر میرے دستخط کرائے۔۔مجھے صرف اتنا محسوس ہوا کہ عمر عزیز کے ساٹھ سال پورے ہوئے۔۔۔یہ میں نے کھبی نہیں سوچا کہ میں نے40سال کی نوکری میں پاکستان کی کتنی خدمت کی۔۔۔۔اب میں گھر بیٹھا بڈھا ہوں۔۔۔۔ میرے بچو!اب جب لڑکھڑاتے اس مٹی پہ قدم رکھتا ہوں تو اُن نعروں سے میرے کان بجتے ہیں۔وہ سریلی آواز یں میرے کانوں میں اس طرح گھومتی ہیں اور میری روح میں سرایت کرجاتی ہیں۔۔۔۔اب میں ان کا معنٰی سمجھ لیا ہوں شاید سمجھدار ہوگیا ہوں۔۔۔کیونکہ مجھے میرے ماضی سے محبت ہوگئی ہے۔۔میں اُن الفاظ،ان جذبات اور چہروں میں گم ہوجاتا ہوں میرے اندر وہ نعرہ چیخ مارتا ہے۔۔۔۔لے کے رہیں گے پاکستان‘‘مگر اب پاکستان مجھ سے کوئی چھین تو نہیں سکتا۔میرے پیارے بچو!میں تم کو پاکستان سے پیار کرنے کا خط لکھ رہا ہوں۔میں ایک پریمی ہوں پریم کی نصیحت کررہا ہوں۔۔۔۔میرے عظیم بچو!تمہارے اباواجداد کے بدن سے گردوغبار ابھی دھلے نہیں تھے کہ وہ اس خاک میں سوگئے۔۔۔انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا۔۔۔۔انھوں نے’’خواب نگر‘‘کا خواب دیکھا تھا۔’’خواب نگر‘‘ابھی اب وتاب دیکھایا نہیں تھا کہ وہ ’’خواب نگر‘‘چھوڑ گئے۔ان کا خلوص ہمارے سینوں میں بیدار نہیں ہوا۔۔۔بچواگر میں سرکھپا کر،ہڈیاں چٹخا کر اس خواب نگر کو سجانے کی کوشش کرتا تو آج مجھے افسوس نہ ہوتا۔ہم تقریر کرتے رہے۔مگر اس ’’خواب نگر‘‘کو سجانے کی حسرت کم کم لوگوں کو رہی۔وہ بھی صرف ’’حسرتِ تعمیر ‘‘ہی رہی جو وہ دلوں میں لئے ہوئے چلے گئے۔۔۔۔بچو!میری گذری ہوئی عمر کون مجھے واپس لوٹادے جو میں اس مٹی کو چومنے میں سرف کردوں۔۔۔۔میرے بچو! اس مٹی سے پیار کرو،یہ پیار کے قابل ہے۔اس کی محبت کے گیت گاؤ،اس کی خدمت میں دن رات ایک کردو اگر ’’محبت ‘‘کروگے تو تم پر ’’پریم ‘‘کے تقاضے واضح ہوتے جائینگے۔بچو!اگر تم عظیم ہوجاؤگے تو یہ عظیم لوگوں کی سرزمین کہلائیگی اللہ اس کی حفاظت کریں۔

ایک بوڑھا پریمی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔