گلگت بلتستان کی خواتین حقوق سے محروم 

تحریر:ساجدہ صداقت
سیکرٹری انفارمیشن پیپلز پارٹی خواتین ونگ گلگت بلتستان

تخلیق کائنات کی آبیاری کی ضامن اور اولین درسگاہ کے اعزاز کی حامل عورت جس کے بغیر تصور کائنات کی تکمیل اور معاشرتی انسانی تنظیم سازی کا عمل یکسر نامکمل ہوتا ہے ۔ اس قابل قدر اور اعظم الشان مرتبے کی مالک عورت گلگت بلتستان میں بنیاد ی انسانی حقوق سے محروم اور حکومتی سطح پر احساس محرومی کا شکار ہے کیونکہ اسلامی جمہوری پاکستان کا حصہ گلگت بلتستان جو تقریباً 14 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل ہے جس کا آدھا سے زیادہ حصہ تقریباً 9 لاکھ سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے جو آئین پاکستان و گلگت بلتستان کے تناظر میں ریاست کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے درج ہیں بلاشک و شبہ دنیا میں ہر انسان امن محبت اور خوشحالی کا خواہشمند رہتا ہے ۔ ناانصافی ،بدامنی ،نفرت، اور غربت کو کوئی بھی معاشرے کا فرد پسند نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی حکومت تشکیل دی جاتی ہے وہاں سب سے پہلے اہم اور اولین اہمیت انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ فراہم کرنے کو دیا جاتاہے ۔ تاکہ اجتماعی زندگی میں مختلف فکر و خیال کے حامل افراد مرد عورت زندگی کو بہتر انداز میں بسر کررہے ہوتے ہیں کیونکہ جس معاشرے میں نیک ،تربیت یافتہ مخلص اور وفادار لوگ بھی ملیں گے اورانسانی شکل میں درندے ،شیر ، چیتے اور انسانی جان لہو اور انسانی حقوق پر داکہ ڈالنے والے سانپ اور بچھو بھی نظر ائیں گے معاشرے میں نادار ،کمزور ،فقیر اور مفلس طبقے بھی ہوتے ہیں اور طاقت ور ،مالدار طبقے بھی موجود ہوتے ہیں 1947 میں وطن عزیز وجود میں آیا تو ایک متفقہ آئین بنانے کی سعی کی گئی مگر آپس کی چپقلش متفقہ آئین سازی میں مسلسل رکاوٹ بنی رہی اس کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو (شہید) نے عوام کے خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے 1973 میں ایک مضبوط آئین فراہم کیا جو پاکستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا ضامن ہے ۔ بنیادی انسانی حقوق کی تفصیل پاکستان کے آئین کے آرئیکل 8 سے 28 درج ہیں جو بلا امتیاز مرد عورت کو یکساں حقوق فراہم کرتاہے آئین کے آرٹیکل 8 میں درج ہے کہ مملکت کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو شہریوں کے بنیادی حقوق کے منانی ہو ۔ بنیادی حقوق سے متصادم ہر قانون کو کالعدم تصور کیا جائے گا آئین کے اس شق سے نہ صرف بنیادی حقوق کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ بلکہ یہ شق ریاست کی سمت بھی واضح کرتی ہے جن بنیادی حقوق کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے ان کا اگرچہ کا لم ہذا میں طوالت یہ ممکن نہیں جس کی آگہی بھی یہ شہری مرد عورت کا حق ہے مختصر آئینی طورپر تمام بنیادی حقوق کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے شہریوں کے جان ومال اور عزت کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے آرٹیکل 9 ضمانت حق زندگی یا آزادی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا آرٹیکل 10 کے تحت ملزم کو دفاع کا حق ،آرٹیکل 11 غلامی بیگار سے منع، آئین کے آڑٹیکل 14 کے تحت خلوت قابل مرمت ہوگی ۔ آئین آرٹیکل 15 کے مطابق یہ شہری کو ملک میں نقل و حرکت کرنے اور ملک کے کسی بھی حصے میں آباد ہونے کا حق حاصل ہے ۔ آرٹیکل 25 تمام شہری بلا لحاظ رنگ ونسل و جس قانون کی نظر میں برابر ہیں اور مساوی انسانی تحفظ کے حقدار ہیں لیکن افسوس کی بات ہے گلگت بلتستان میں آئین میں درج انسانی بنیادی حقوق کے باوجود جب ہم پاکستان کے تناظر سے خواتین کے حقوق کا جائزہ لیتے ہیں تو کسی بھی صاحب عقل و خرو کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ گلگت بلتستان سمت پوری وطن عزیز میں عملی طورپر آئین پاکستان میں دئیے گئے بنیادی حقوق کا قانون سبھی لوگوں پر یکساں لاگو ہوتا خواتین کو حقوق کی غیر منصفانہ تقسیم اس دھرتی کے صاحبان اقتدار کاطرہ امتیاز بنا ہوا ہے کائنات کی زیور کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر سب اہل منصب روز بروز اہم سے اہم تر ہوتے جارہے ہیں ۔گلگت بلتستان کی 14 لاکھ سے زائد نفوض پر مشتمل آبادی میں سے 9 لاکھ سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن افسوس اس امر پر ہے کہ صوبائی حکومت کا مسلسل ان مذکورہ بالا آئین حقوق کا ضامن قانون کے باوجود گلگت بلتستان کے 10 اضلاع ،استور ،گلگت غذر، دیامر، گانچھے ،سکردو ،کھرمنگ، شگر، ہنزہ نگر، میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھایا ہو۔ خواتین گھر تک محدود ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پورے گلگت بلتستان میں خواتین کے لئے معیاری اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے کوئی مراکز کاقیام عمل میں لایا گیا ہو یا عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ میں کوئی جج کی تقرری کی گئی ہو جو خواتین کے حقوق کے لئے کام کرسکے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں 9 لاکھ سے زائد خواتین کی آبادی کے باوجود صرف 6 ٹیکنوکریٹ کی آسامیاں مختص کرنا حقوق نسواں کو غضب کرنے کی پالیسی پر عمل پیراکے مترادف ہے گلگت بلتستان کی ماتحت عدالتوں میں الگ فیملی جج کی تقرری نہ ہونا سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں میں خواتین کا کوٹے مختص نہ کرنا سراسر زیادتی ہے خصوصاً دیامر میں جرگے کے تحت خواتین کو حق حاکمیت کے لئے ووٹ کے استعمال سے روکنا اور تقریباً اضلاع میں والدین کی جائیداد میں بچی کو محروم رکھنا بچی کے مقابلے میں اعلیٰ تعلیم کے لئے بچے کو ترجہح دینا سمیت گلگت بلتستان کا ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ اور پیشہ وارانہ ڈگری ،میڈیکل ،انجینئر نگ اور وکالت کے لئے خواتین کا کوٹہ نہ رکھنا گلگت بلتستان کو صحت مند اور پڑھی لکھی قوم کی فراہمی سے روکنے کے مترادف ہے حکومت وقت بلند بانگ دعوے ضرور کرتی ہے لیکن عملی طورپر کوئی اقدام نظر نہیں آرہا ہے جو خواتین کے حقوق نسواں کے تحفظ کرے۔ حالانکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک بھر سمیت گلگت بلتستان میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مشن اور ویژن کے تحت گھریلو خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اجراء ہزاروں خواتین کو پیشہ وارانہ سلائی کڑائی سمیت دیگر کورسس کا انعقاد کرایا گیا جو اپنی خاندان کے لئے روزگار اور کفالت بن کر معاشرے میں بہتر انداز میں زندگی گزار رہی ہے مگر گلگت بلتستان میں موجودہ صوبائی حکومت نے ڈھائی سال گزر نے کے باوجود تا حال کوئی عملی طورپر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے کوئی پروگرام متعارف نہیں کرسکی جو آئین پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کے تحت آرٹیکل 8 سے28 میں بیان کیا گیا ہے گلگت بلتستان کی خواتین کو اپنے حقوق کے تحفظ اور بالا دستی کے لئے یکجا ہو کر جدوجہد کرنا ہوگا کیونکہ گلگت بلتستان دو طبقوں میں بٹ گیاہے کہ ایک طبقہ نے ملکی وسائل پر قبضہ جمارکھا ہو اہے جب کہ دوسرا طبقہ دو وقت کی روٹی کا محتاج ہے حالانکہ صرف ہمارا آئین ہی نہیں ہمارا مذہب اسلام بھی انسانی حقوق کا علمبردار ہے ۔حقوق کی ترویج رواداری اور برداشت کی شاندار مثال میثاق مدینہ اور حجتہ الوداع کے موقع پر سرور کائنات محمد ؑ پیش کیا مگر گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے وقت کے حکمران معاشرے کی ضامن اور اولین درسگاہ کے اعزاز کے حامل عورت کو ان کے بنیادی حقوق سے یکسر محروم رکھ کر اپنے سنہ زوری پر فخر محسوس کررہا ہے جو گلگت بلتستان کی خواتین کو اپنے حقوق بہترین معاشرے کے قیام کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ صحت مند ماہ صحت مند معاشرے کی ضامن ہوتی ہے جس کے بغیر کائنات کی اوبیکاری ،معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کی ضامن اور اولین درسگاہ کی فلاح و بہبود نامکمل تصور ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments