بچوں، خواتین اور مریضوں کو اذیت ناک تکلیف سے نجات دلانے کے لئے لواری ٹنل کے دیر سائیڈ پر ویٹنگ روم تعمیر کیا جائے۔عوامی حلقے چترال

بچوں، خواتین اور مریضوں کو اذیت ناک تکلیف سے نجات دلانے کے لئے لواری ٹنل کے دیر سائیڈ پر ویٹنگ روم تعمیر کیا جائے۔عوامی حلقے چترال

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) چترال کے عوامی حلقوں نے لواری ٹاپ میں دیر سائیڈ پر ویٹنگ روم کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسم سرما میں لواری ٹاپ روڈ کی بندش کے بعد مسافروں کو کئی کئی گھنٹوں تک ٹنل سے گزرنے کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے جس کے دوران خواتین اور بچوں کو ناقابل بیان تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ چترال کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موسم سرما کے دوران جب چترال آنے والی گاڑیوں کی قطارلواری ٹنل کے سامنے انتظار میں بعض اوقات چھ گھنٹوں سے ذیادہ انتظار کرتے ہیں اوریہ طویل عرصہ ان کو گاڑی میں گزارنا پڑتا ہے جس کے دوران بچوں، خواتین اور مریضوں کو اذیت ناک تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے ۔ چترال کمیونٹی ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کے چیئرمین محمد وزیر خان ،مغفرت شاہ اور دوسروں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھ لاکھ کی آبادی کو درپیش اس مسئلے کو حل کرنے کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی جہاں چھ سے لے کر دس گھنٹے تک انتظار کے دوران قضائے حاجت کو رفع کرنے کے لئے بھی سہولت کے نہ ہونے سے جو مسائل پید ا ہوسکتے ہیں، اس کا تصور ہر کوئی کرسکتا ہے ۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چھ لاکھ کی آبادی کو درپیش اس سنگین مسئلے کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی جو کہ محض ایک ویٹنگ روم کی تعمیر سے حل ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایک این جی او نے چترال سائیڈ پر چند کمروں اور ٹائیلٹ پر مشتمل ایک انتظار گاہ تعمیر کرکے چترال سے باہر جانے والے مسافروں کا مسئلہ حل کردیا ہے لیکن چترال آنے والے مسافروں کا مسئلہ برقرار ہے جسے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ لواری ٹنل کے دیر سائیڈ پر ویٹنگ روم تعمیر کیا جائے جبکہ موسم سرما کی آمد اور لواری ٹاپ روڈ کی بندش میں صرف دو ماہ کا وقت رہ گیا ہے جس کے بعد ٹنل سے سفر کا سلسلہ شروع ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔