چٹورکھنڈ کے رہائشی اٹھارہ سالہ نوجوان کو قتل کردیا تھا، پولیس کے سامنے “دوستوں” کا اعتراف

چٹورکھنڈ(نما ئندہ خصوصی) خودکشی یا قتل ،ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ نے چٹورکھنڈ میں گزشتہ روز ہونے والے دلخراش واقعے کا بھانڈہ پھوڑ دیا،18سالہ نوجوان کو قتل کے بعد دریا میں پھینک دیا گیا،رپورٹ میں انکشاف،پولیس کی چھترول کے بعد گرفتار تینوں ملزمان نے واردات اعتراف کرلیا،ملزمان کے خلاف 302/34ت پ کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی۔

واقعات کے مطابقاتوار اور سموار کی درمیانی رات چٹورکھنڈ سے تعلق رکھنے والا نوجوان مسمی عارف ولد محمد صفا کو دوستوں نے بلا کے اپنے ساتھ لے گئے،صبح تک نوجوان واپس نہ آیا تو نوجوان کے والد نے تھانے میں اطلاع کردی،اسی اثناء میں چٹورکھنڈ کے سامنے دریا سے متوفی کی نعش برآمد ہوئی جسے پوسٹمارٹم کی غرض سے سول ہسپتال چٹورکھنڈ منتقل کیا گیا،اس دوران چٹورکھنڈ پولیس نے متوفی کے قریبی دوستوں کو شک کی بناء پر حراست میں لیا تھا جنہوں نے واقعے کو حا دثہ قرار دیا تھا لیکن پوسٹمارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ متوفی کو قتل کرنے کے بعد لاش دریا برد کی گئی ہے،جس پر پولیس نے ملزمان سے مزید پوچھ گچھ کی تو ملزمان نے قتل کا اعتراف کردیا۔

پولیس نے ملزمان سلیم ولد امین ساکن چٹورکھنڈ نواز ولد محمد امین ساکن دائین اور آصف ولد سورم خان ساکن چٹورکھنڈ کے خلاف تعزیرات پاکستان کے دفعہ 302کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments