محرم الحرام کی آمد

محرم الحرام کی آمد

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : سید وقار حسین رضوی

1436 ہجری قمری کے محرم الحرام کے آستانے پر ہم سب ایک مرتبہ پھر میدان کربلا میں پروردہ آغوش رسالت حسین ابن علی کی قربانی کا مشاہدہ کررہئے ہیں پھر واقعات شہادت دہرائے جارہئے ہیئں ۔

پھر آنکھوں کے سامنے حسین ہیں اور سر زمین کربلا ۔ پھر چشم تصور میں تقدس پاب بیبیاں ہیں اور ان کے سامنے عزیزواقربا کے ٹرپتے ہوئے لاشے ۔ پھر منظر خیال پر خانوادہ رسالت کے چھوٹے چھوٹے معصوم اور پیاسے بچے ہیں اور العطش کی صدا ۔ پھر لوح دل و دماغ پر حسین ( ع) اپنی پوری مظلومیت کے ساتھ جلوہ فگن ہیں ‘ سر زمین کربلا لشکر اعدا سے اٹی ہوئی ہے گھوڑوں کی ٹاپوں سے زمین ہل رہی ہے اور قافلہ حق و صداقت کے سالار کی پیشانی پر نہ تو کسی خوف کے آثار ہیں اور نہ کہس قسم کی گھبراہٹ کا کوئی شائبہ وہ پوری دلجعی اور اطمینان کے ساتھ اپنے عہد کے یزید سے لیکر قیامت تک آنی والی یزیدیت پر ایک کاری ضرب لگانے کےلیے خوب سوچ سمجھ کر اور مکمل بصیرت کے ساتھ اپنے واسال بروئے کارلا رہا ہے سالار حق و صداقت نے

’’ھل من ناصر ینصرنا ‘‘ کی آواز سے شام قیامت تک اس عرصہ ہستی میں قدم رکھنے والے ہر نا ضمیر اور غیرت مند انسان کو اپنی نصرت کےلئے طلب کیا ہے ۔

آج ہم پھر حسین ابن علی ( ع) کی بارگاہ میں 1436 ھ کےمحرم کی آمد پر اپنے اس عہد کی تجدید کے لے حاضر ہو رہئے ہیں جو عہد ہم نے آپنے آقا و مولا سے اُستوار کر رکھا ہے ۔ اور وہ عہد ہے کربلا سے اُٹھتی ہوئی آواز پر لبیک کہنے کا عہد اور اس عہد کا معنی ہے کہ ہم ہر دور کی یزیدیت کے خلاف حسین ابن علی ( ع) کے سپاہی کی حثیت سے میدان عمل میں حاضر رہ کر اپنے آقا و مولا کی نصرت کریں گے اور کھبی بھی یزیدیت کے ساتھ صلح و آشتی کی پالیسی نہیں اپنایئں گے کیونکہ اس کے معنی حسین ( ع) کی نصرت و حمایت سے دستکش ہونا ہے ۔ اور نصرت و حمایت س دستکش ہونے کے معنی میدان کربلا کی طرف پُشت کرکے لشکر عمرابن سعد کے سامنے فرار کی راہ اپنانا ہے جیسے ہم رسول ( ص) کی بارگاہ سے فرار کو پسند نہیں کرتے اسی طرح نواسہ رسول کی بارگاہ سے بھی فرار کو پسند نہیں کرتے ۔۔۔ ہم عہد شکن نہیں بننا چاہتے ۔

ہم اپنا عہد نھبانا چاہتے ہیں ’’ یا حسین یا حسین ‘‘ کی آوازیں مصائب کربلا کے ساتھ ہمارے کانوں میں۔۔۔۔

’’ ہل من ناصر ینصرنا ‘‘

کی آواز پہچا رہی ہیں ہم زبان سے ‘ دل سے اور پھر اُپنے کردارو عمل کی پوری قوتوں کے ساتھ ’’ لبیک ‘‘ کہتے ہیں ۔۔۔

آج اس تجدید عہد کے مرحلے میں ہم گنہگاروں کو مکمل یقین ہے کہ اگر ہم پورے اخلاص عمل سے ’’ لبیک ‘‘ کہنے کے لئے تیار ہیں تو ہمارا آقا بھی ہمیں ُحر بنانے کا خواہاں ہے ۔۔۔

آئیے اس محرم کو اسی جذبے سے منایئں اور کربلا کے تقدس کے امین بن کر تقدیر کو اپنے ہاتھوں سے سنواریں ۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔