انصار امام حسین علیہ السلام کی خصوصیات

انصار امام حسین علیہ السلام کی خصوصیات

48 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد عسکری ممتاز

شاہ است حسین پادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سر داد نداد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا اللہ ہست حسین

ٓآغاز سخن

انصار امام حسین (ع) کی ذوات گرامی کسی تعارف کے محتاج نہیں خاص کر خود امام عالی مقام اسی لئے اشعار خواجہ پر اکتفا کرتے ہوے موضوع اصلی کی طرف آتا ہوں انصار حسینی یعنی امام علیہ السلام کے وہ دوست وحباب اور ان کے خاندان کے وہ افراد جن میں انکے بھا ٰ ئی، بیٹے، بھتیجے بھی شامل ہیں اور جنہوں نے سر زمین کر بلا میں دس محرم لحرام ۶۱ھ کو اپنی قیمتی جانیں امام حسین ؑ پر قربان کر دیں اور اسطرح انصار حسینی ؑ نے عظیم شان شھادت کی عظیم منزل پائی ۔

امام حسین (ع) اور انکے ساتھیوں کی شھادت عظمی کے بعد انکے ماننے والوں ، چاہنے والوں اور دوستوں کو ایسا حوصلہ ملا کہ طول تاریخ میں جہاں جہاں جب بھی کلمہ توحید اور کلمہ حق کے خلاف کسی بھی طا غوت نے اگر ذرا سا سر اٹھایا تو وہاں وہاں حسینیوں نے ان کے ایوانوں میں لرزہ طاری کردیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے اور حدیث رسول گرامی اسلام کے مطابق رہتی دنیا تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

انصار حسین ۔ کی خصوصیات کے بارے میں گوکہ بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکاہے اور یہ سلسلہ جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔کیونکہ انہی قربانیوں کا صدقہ ہے کہ مسلمانوں کی زبان پر کلمہ توحید جاری ہے مسجدوں کی مناروں سے اذاں کی صدائیں آتی ہیں اور درود سلام کی صدائیں بلند ہے وگرنہ ،نہ زمانے میں اسلام نام کی کوئی چیز ہوتی نہ مسلمان ہوتے نہ صدائے اذان بلند ہوتی۔بقول جوہر

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلاکے بعد

columnزیر نظر مقالہ ’’انصار حسینیؑ کی خصوصیات ‘‘کے عنوان کے تحت لکھا جا راہاہے لھذا دیکھنا یہ ہے کہ ہم اگر کربلا میں ہوتے تو کیا انصار حسینی میں شامل ہو سکتے تھے یا نہیں؟ یا یہ کہ ہمیں انصار حسینیؑ جیسا بننے کے لئے کن کن خصو صیات کو اپنے اندر پیداکر نے کی ضرورت ہوگئی؟ مو ضوع تحریرکے ضمن میں یہ دو اساسی اور اہم سوال ہیں جس کا جواب ہم اس مختصرتحریر میں اپنی بضاعت علمی کے مطابق پیش کر نے کی کو شش کریں گے انشاء اللہ۔

بندے کو اپنی کم علمی کا پورا پورا احساس ہے مگر اس امید کے ساتھ اس میدان میں قدم رکھ رہا ہوں کہ کم از کم حسینیؑ مشن کو تحریر کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے والوں کی فہرست میں اس بندہ نا چیز کا نام بھی شامل ہو جائے ، اور پھر خلوص کا عنصرشامل حال رہے تو خود امام حسین ؑ کا عظیم مشن لو گوں کو الہام عطا کر تا ہے باالخصوص خود امام عالی مقام سے متوسل ہونا کہ جہاں سے کوئی ہاتھ خالی نہیں لوٹتا اس مختصر مقدمہ کے بعد ہم اصل بحث کی طرف آ تے ہوئے خود امام عالی مقام کے انصار کی چند خصو صیات بیان کریں گے تا کہ مقا لہ کے عنوان کے ضمن میں پیدا ہونے وا لے سوا لات کا جواب مل سکے۔

حسینی انصار اور انکا انتخاب :

الامان! شدید گرمی کا زما نا ہے لو چل رہی ہے زمین تپ رہی ہے بقول انیس:

( بھن جا تا تھا جو گر تا تھا دانازمین پر) آفتاب کی آتشین کر نیں جسمو ں پر گرم سلا خیں بنی ہوئی ہیں چلچلا تی دھوپ ہے اور ایک لق و دق صحرا میں چند سر فروش جان ہتھیلیوں پر رکھ کر اترئے ہیںیہ گنتی کے لوگ ہیں مشہور قول کے مطابق جن میں ۳۲ سوار اور ۴۰ پیادہ ہیں یہ بہتر( ۷۲) افراد نہایت مستقل مزاج ہیں مظبوط جگر کے مالک ہیں۔(۱۔جلاء العیون علامہ مجلسی)

دنیا میں آج تک کسی رہبر کو اصول اور عقیدے کے ایسے پکے اور مظبوط سپا ہی میسر نہیں ہوئے حضرت موسی ؑ نے جب بنی اسرائیل کو مقابلہ کے لئے کہا تو ان لوگو ں نے نہایت گستا خی سے کہا آپ اورآپ کا خدا اس مھم کو سر کر لے ( ۲۔ سورہ مائدہ ایت۲۵)

رسول اسلامؐ کے ساتھ جہاں مقداد ،سلمان ، ابوذر وحضرت امیرالمومنینؑ جیسے جانثار صحا بی تھے وہیں وہ افراد بھی تھے جن کی تصویر جگہ جگہ پر قرآن نے کھینچی ہے

اور وہ باتیں موضوع بحث سے خارج ہے ۔(۳۔سورہ آ ل عمر ان ایت۴۴و۲۵۲ و سورہ توبہ ایت ۲۴) ٓٓ

اور سورہ منا فقین میں ان لو گوں کی صفات بیان ہوئی ہیں جو لوگ رسولؐ کے پہلو سے پہلو ملاکر بیٹھتے تھے اور دشمن کی تلوار وں کی آنچ سے دور بھاگتے تھے اور دشمن سے ساز باز کر لیتے تھے ،تاریخ نے ان کے شکت خوردہ قدموں کے نشانات اپنے صفحات میں محفو ظ کر لیے ہیں وہ سکون کے اوقات میں امیدیں دلا تے تھے کہ وقت آنے پر انکی ایمانی قوت اور خلوص وفا کے جو ہر کھلیں گے لیکن دل کی گہرائیوں میں یہ ارادہ چھپائے رکھتے تھے کہ نعوذ باللہ اگر رسول جنگ میں شھید ہو گئے تو وہ الٹے پاؤں اپنے آبا ئی دین کی طرف پلٹ جائیں گے ان کا سارا جوش وخروش مادی مفاد کے گرد گومتا تھا رسولؐ جنگ کی حالت میں ہوتے ساتھیوں کو پکار تے لیکن یہ لوگ بھاگ کھڑے ہو تے اور پہاڑوں پر پناہ لیتے تھے یہ لوگ دنیا پرستی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے یہ میرے نہیں یہ صریح قرآک کے الفاض ہیں۔

لیکن امام حسین ؑ کے ساتھ جو بچے جوان اوبوڑھے تھے وہ سب لوگ ایک مقصد کو سامنے رکھے ہوئے تھے امام حسین ؑ نے اپنے سا تھیوں کے انتخاب میں انتہائی اہتمام سے کام لیا تھا مختلف قبیلوں ، مختلف شہروں سے مختلف صلاحیتوں کے افراد کا انتخاب ایک خاص مصلحت پر مبنی تھا۔حکو مت وقت عالموں ، فقیہوں ،ادیبوں ،عبادت گذاروں ، بہادروں مزدوروں اور کسا نوں کو در باری مقاصد کیلئے ایک خاص سانچے میں ڈالنا چا ہتی تھی تاکہ یہ لوگ کسی مقصد کیلئے نہ جئیں خود اپنے لیئے انہیں زندگی کا کوئی شعور نہ ہو بلکہ انکی تمام صلا حیتیں اور ساری کوششیں حکو مت کے مفاد کیلئے وقف ہوں جن لوگوں میں اجتماعی اور دینی زندگی کے شعور مردہ ہوچکا تھا جنہیں حقیقی آزادی کی بھوگ تھی ان لوگوں کو حسین ؑ نے چن چن کر اپنے ساتھ لیا خط بھیج کر بلایا مگر جو لوگ زند گی میں کوئی مقصد نہیں رکھتے تھے جو آز مائشوں کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے تھے انہیں الگ کرنے میں اس قدر اہتمام کیا جس قدر ان لو گوں کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کی کوشش کی ،جو کربلا کیلے موزون تھے دنیا نے حسین ؑ کے انتخاب کی کامیا بی دیکھ لی ان وفا داروں نے جو عہد کئے تھے اس پر وہ اس وقت تک قائم رہے جب تک آخری سانس باقی رہی یقیناًیہ لوگ حب دنیا اور دنیا پرستی سے دور تھے وہ مولا کے کلام ’’دنیا ہر برائی کی جڑہے‘‘ کا مفہوم اچھی طرح سمجھ گئے تھے اور واقعی مومن تھے ،حق وباطل کو پہچانتے تھے اور انکو یقین حاصل ہو چکا تھا کہ حق پرستی کا نتیجہ کیا ہو گا اور باطل پرستی (دنیا) کا انجام کیا ہو گا شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ نے اسی چیز کو یو ں بیان کیا ہے:

کافر ہو تو تلوار پہ کر تا ہے بھروسہ

مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔

احساسات انصار حسینی :

انصار حسینی ؑ نے اہلبیت ؑ رسول اللہ سے مخاطب ہوکر کہا ’’ ہماری جانیں آپ پر قربان ہمارا خون آپ پر نثار ہماری روحیں آپ پر فدا ،خدا کی قسم جب تک ہمارے دم میں دم ہے آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچ سکتی،ہم نے تلواروں کیلے اپنی جانیں اور نیزوں کیلے اپنے جسم ہبہ کر دیے ہیں ہم آپ کے سامنے موت کا شرف حاصل کریں گے جس نے آج نیکی کی اور آپ کو موت سے بچالیا اس نے کامیابی حاصل کی ہے۔

مسلم ابن عو سجہؒ نے کہا :’’ میں آپ کا ساتھ اس وقت تک نہیں چھوڑونگا جب تک میرا نیزہ اعدا کے سینے میں نہ ٹوٹ جائے میں انہیں اپنی تلوار سے ماروں گا اور اگر میرے پاس کوئی ہتھیار نہیں رہیگا تو دشمنوں پر پتھر برساؤں گا ، یہاں تک کہ مجھے موت آجائے(ناسخ التواریخ ج۶ ص۲۲۴))

سعد بن عبداللہ نے کہا : خدا کی قسم اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ میں قتل ہو جاؤں گا یا پھر زندہ جلا دیا جاوءں گا . اور یہ سلوک میرے ساتھ ستر مرتبہ دہرایا جائے تب بھی میں آپ کا ساتھ اسوقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک موت کو گلے نہ لگادوں گا . اور جب یہ معلوم ہے کہ ایک بار ہی مرناہے.اور اسکے بعد وہ انعام و اکرام ہے جو کھبی ختم نہیں ہو سکتیں توکس طرح اس سے باز رہ سکتا ہو ں .

پھر زہیر ابن قین نے کہا : خدا کی قسم میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جا ؤں یہاں تک کہ اسی طرح ہزار مرتبہ قتل کیا جاؤں . مگر اللہ میرے اس قتل سے آپ اور جوانان اہلبیت کی جانوں سے اس مصیبت کو دور کرے (ناسخ التواریخ ج ۶ص ۴۲۲)

پھر باقی اصحاب نے بھی اسی طرح کی تقریریں کیں اور سب نے اس عزم کااظہار کیا کہ ہم آپ کو ہرگز نہ چھوڑیں گے اور اپنی جانیں آپ پرنثار کریں گے ہم اپنی گردنوں پیشانیوں اور ہاتھوں سے آ پ کو بچائیں گے اور جب ہم قتل ہو جائیں گے تو ہمارا عہد پورا ہوجا ٰ ے گا (ناسخ التواریخ ج۶ ص۲۲۴)

یہ کلمات اس خطبہ کے جواب میں ہیں جسمیں سیّد شھدا امام حسین ؑ نے شب عاشورا اصحاب کی گردنوں سے اپنی بیعت اٹھا کر ان سب کو چلے جانے کی اجازت دی تھی اور فرمایا تھا. تم سب مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ . ایک حسینی سپاہی محمد حضرمی کو اطلاع ملی کہ ان کا فرزند گرفتا ر ہو گیا ہے .امام حسین ؑ نے فر ما یا میں نے اپنی بیعت تم سے اٹھالی ہے . تم اپنے بیٹے کی رہا ئی کی فکر کرو اور یہاں سے چلے جاؤ محمد نے جواب دیا . اگر میں آپ کو چھوڑ کر چلا جاؤن . تو جنگلی درندے مجھے کھاجائیں ۔

عابس بن شعیب ایک موقہ پر کہتے ہیں . مولا کوئی مخلوق روے زمین پر خوا ہ قریب ہو یا بعید میرے نزدیک آپ سے زیا دہ عزیز اور محبوب نہیں . اور اگرمیرے پاس یہ قدرت ہو تی کہ میں آپ سے ظلم اور قتل کو کسی ایسی چیز سے ٹال سکتا جو میری جان اور میرے خون سے زیادہ عزیز ہوتی . تو میں اسے بھی اس راہ میں صرف کردیتا :

شھادت ہے مطلوب ومقصود مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور گشائی ( علامہ اقبال)

خود اعتمادی :

قرآن نے اسلامی فوج کی تربیت کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا . تم میں سے بیس بہادراور صبر آزما دشمن کے دو سو پر اور تم میں سے دوسو دشمن کے ہزار پر بھاری ہوگا لھذا اسلام تعداد کا قائل نہیں ہے . اگر صداقت اور خود اعتمادی کی روح چند لوگوں میں صحیح معنوں میں بیدار ہو گی ، تو وہ بڑ ی بڑی طاقتوں کو اپنے پختہ ارادے کے سا منے جکا سکتے ہیں . اٹھارہ بنی ھاشم اور باقی اصحاب کی تعداد ہی کیا تھی جس میں ششماہے مجاہد علی اصغرؑ کا بھی شمار تھا . اور یہ لوگ ایک یا دو کے مقابلے میں نہیں آ ئے تھے بلکہ اسلحہ سے لیس فوج کے مقابلے میں آئے تھے جن کی تعداد۳۰ ھزار یا ۰ ۵ ھزار۸۰ ھزاراور بعض کا خیا ل ہے دو لاکھ سے پندرہ لاکھ تک ہے۔

اصول کی سچائی کا اعتقاد انسان میں برق جیسی طاقت پیدا کر تا ہے اور معمو لی گوشت پوست کا انسان فولا دی طاقت کا مالک بن جا تا ہے عا شورا کے چند گھنٹوں پرمشتمل معرکے میں سپاہ حسینی نے کس قدر اہم جنگی خدمات انجام دیں اور کس شجاعت اور بہادری کا ثبوت دیا۔دشمن کو پریشان کر کے رکھ دیا کئی موقعو ں پر دشمن کی ہمت پست کر کے رکھ دیا . ان باتوں کے سمجھنے کیلے شاید ایک کتاب کی ضرو رت ہو . خلاصہ یہ کہ بقول ابو مخنف :حر ابن زیاد ریا حی کے فرزند نے ۷۰ دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار ا وھب ابن عبداللہ نے ۱۲ پیادہ اور ۱۹ سوار کو قتل کیا ، بریر بن خضیرنے ۳۰ سپاہی مسلم ابن عو سہ جہ نے ۵۰ ، مسلم کے بیٹے نے ۴۰ اور حبیب ابن مظاہر نے ۶۲ لوگوں کوقتل کیا ( ۱۔طبری ج۲ ص۲۵۷۔)

قرآن نے جو اسلامی خود اعتمادی عملی کا نمونہ پیش کیا ہے اسکے وہ لوگ اسکے اعلی معیار پر فائض تھے ، یہاں بیس صبر آ زما ۲۰۰پر اور ۱۰۰ ایک ہزار پر نہیں . بلکہ ایک ایک حسینی ؑ سپا ہی ، ہزار ہزار پر غالب آجا تا تھا اور دشمن پر چھا جاتا تھا جب عابس بن شبیب جنگ کے لیے میدان میں آئے تو انہوں نے کہنا شروع کیا . کوئی مرد ہے جو سا منے آئے . فوج یزید کے دل ہل گئے . ربیع بن تمیم نے شامی سپاہی سے کہا جو بھی اسکے سامنے جائے گا پنجہ موت سے نجات نہیں پا سکے گا (طبری،ج۲ص۲۵)

ایک شامی فوجی سردار حجاج نیشامی نے فوج سے کہا تم جانتے ہو کس سے لڑ رہے ہو یہ ملک کے شہسوار ہیں . یہ لوگ اپنی جانو ں کی پروا نہیں کر تے تم میں سے فردا فردا ان سے کو ئی مقابلہ نہ کرے ،یہ تھوڑے ہیں اور تھوڑی دیر زندہ رہیں گے خدا کی قسم جب تک تم سب ملکر ان پر پتھر نہیں بھرساو گے تو یہ تم کو فنا کردیں گے ابن سعد نے کہا بے شک تمہاری بات صحیح ہے (۳) ۳۔سورہ انفا ایت ۶۶ ،۶۵

بقول شاعر :

ہو گو شہ یاران تو بر ابریشم کی طرح نرم

رزم حق باطل ہو تو فولاد ہے مومن

دشمنو ں کو ابدی ہلا کت سے بچا نے کی کو شش

دشمنو ں کو ابدی ہلا کت سے بچا نے کی کو شش امام حسین ؑ اور انکے انصار نے دشمن کو ابدی ہلاکت اور بدنامی سے بچانے اور جنگ کو ٹالنے کی بھر پور اور مخلصانہ کو ششیں کیں اور اس سلسلہ میں کیا اقدامات انجام دیے یہ ایک مکمل بحث ہے مختصر یہ کہ امام کا ذکر کیا کرنا خود انکے انصار کی تقریروں وعظ و نصیحت اورخلوص کا وہ عالم تھا کہ جس کی مثال نہیں ملتی فصاحت وبلا غت .یقین اور اطمینا ن کی حالت سبحان اللہ۔

بریر بن خضیرہمدانی فوج شام سے خطاب کر کے کہتے ہیں ،ائے قوم خدا سے ڈرو یقین جانومحمد ﷺ کی گراں سرمایہ و امانت اھلبیت ؑ تمھارے سامنے ہے محمد ﷺکی عترت انکی بیٹیاں اور انکے حرم ہیں تمہارا انکے بارے میں کیا خیال ہے اورانکے متعلق کیا ارادہ ہے کیا تمہیں انکی یہ خواہش منظور نہیں کہ جہاں سے وہ آ ئے ہیں ،وہیں چلے جائیں ’’ وائے ہو تم پرآئے اہل کوفہ تم کیا اپنے خطوط بھول گئے اپنے عہد کو فراموش کر گئے ‘‘ ہائے تم نے انکو اپنے نبی ﷺ کااھلبیت سمجھ کر دعوت دی اور گمان کیا کہ تم ان کے سامنے اپنی جانیں دے دو گے مگر وہ جب آگئے تو تم نے انکو ابن زیاد کے حوالے کردیا اور انہیں آ ب فرات سے بھی روک دیا اور اپنے نبی ﷺکی ذریت سے کتنا برا سلوک کیا خدا تمہیں قیا مت میں سیراب نہ کرے تم بہت ہی بری قوم ہو (۱ناسخ ج۶ ص۲۵۹)

حنظلہ بن سعد امام کے سامنے کھڑے تھے اور جتنے تیر فوج شام کی طرف سے آ تے تھے اپنے سینے پر روکتے تھے . اور فوج سے کہتے تھے اے قوم میں تم پر نوح ،عاد وثمود اور انکے بعد والوں کی طرح عذاب کا خوف کھاتا ہو ں . اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا ارادہ نہیں کر تا اور ائے قوم میں تم پر عذاب آخرت سے خوف زدہ ہوں جس روز کہ تم منہ پھیر کر جہنم کی طرف پلٹو گے اور عذاب الٰھی سے کوئی بچانے والا نہ ہو گا ائے قوم حسین ؑ کو قتل نہ کروورنہ عذاب الہی میں ضرورگرفتار ہو جاؤ گے دیکھو جس نے خدا پر افترا ء کیا وہ گھاٹے میں رہا (ناسخ ج۶ ص۲۷۱)

زہیر بن قین ہتھیار لیے بر آمد ہو ے . فرمایا .آئے اہل کوفہ ہر مسلمان پردوسرے مسلمان کو نصیحت کا حق حاصل ہے اور ہم تم ایک دین پر ہونے کی وجہ سے بھائی بھائی ہیں، جب تک ہم ایک دوسرے پر تلوار نہ چلائیں اور جب تلوار چل گئی تو برادری منقطع ہوگئی ، ہم تم ایک امت سے ہیں . اللہ نے ہمیں اور تمہیں ذریت محمد ﷺکے بارے میں آزما یا ہے کہ یہ دیکھے کہ ہم اور تم کیا رد عمل اختیار کرتے ہیں .ہم تم کو ذریت محمد کی نصرت کی اور ابن زیاد سے دست بردار ہونے کی دعوت دیتے ہیں . اس لئے کہ ابن زیاد اور عمرسعد سے سوائے برائی کے اور کچھ نہ پاو گے . یہ دونوں تمہارے ہاتھ پاوءں باندھ کر درخت خرماکی شاخوں میں تم کو لٹکا ئیں گے . اور تم کو حجر عدی اور انکے ساتھی ہانی ابن عروہ کی طرح قتل کردیں گے . راوی کہتا ہے اس تقریر کا جواب دشمنوں کی طرف سے دشنام کے ساتھ دیا گیا مگر بریرنے تحمل سے جواب دیا بندگان خدا اولاد فاطمہ سمیہ کے بیٹے ابن زیاد کی محبت ونصرت کے بہ نسبت زیادہ حقداد ہیں اگر تم ان کی مدد نہیں کرتے تو کم از کم انکے قتل سے ہی باز رہو (۳ابن اثیرج۴ ص۳۲ )

حر نے کہا کوفیوں تمہاری مائیں تم پرگر یہ کریں تم نے تو اس نیک بندے کو بلا یا اور جب وہ تمہارے پاس آیا تو تم نے انکو چھوڑ دیا تم نے تو یہ کہا تھا کہ تم اپنی جا نیں ان پر قر بان کردو گے پھر تم ان سے دھوکے ساتھ پیش آئے اور ان کے قتل کا ارادہ کر کے انہیں مجبور بنا دیا اور ا نہیں ہر طرف سے گیر لیا تا کہ وہ خدا کے وسیع ملک میں کہیں نہ جا سکیں اب وہ تمہارے ہاتھوں میں گو یا اسیر ہیں ،نہ اپنے نفع کو حاصل کرسکتا ہے نہ ضرر کو ٹال سکتا ہے ،تم ان کو اور ان کے بچوں کو فرات کے آ ب رواں سے روک رکھا ہے جسے یہود نصارا پی رہے ہیں اور عراق کے سور اور کتے اس میں لوٹ رہے ہیں . اور اب وہ لوگ پیاس کے مارے تڑپ رہے ہیں کتنابرا سلوک کیا تم نے ذریت محمد ؐ سے خدا تم کو قیامت میں سیراب نہ کرے (۳ابن اثیرج۴ ص۳۲ )

انصار حسینی ؑ کا رعب و دبدبہۂ:

کسی شخص نے واقعہ کربلا کے بعد کسی شامی سپاہی سے کہا افسوس ہے تم نے فرزند رسول سے جنگ کی انکا خون نا حق بہایا اس پر سپاہی نے جو عذر پیش کیا اگر چہ وہ غلط اور بیجا ہے ، لیکن اس نے انصار حسینی کی دلیری کی جو تصویر کھینچی ہے وہ حرف بہ حرف صحیح ہے اور وہ کہتا ہے تمہیں پھر چبانا نصیب ہو جو ہم نے دیکھا ہے اگر تم بھی وہی دیکھتے تو تم بھی وہی عمل کرتے جو ہم نے کیا ایک گروہ ہم پر ٹوٹ پڑا جو حملہ آور شیروں کی طرح اور تلوا روں کومضبوطی سے پکڑئے ہوئے تھے وہ دائیں بائیں شہسواروں کو قتل کررہا تھا نہ وہ امان کو قبول کرتے تھے ان حالات میں اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی ہم اپنا ہاتھ روک لیتے تو وہ تمام لشکر کو فنا کر دیتے تو پھر ایسے وقت میں ہم کیا کر تے ۔ ۱ ۱۔ابن اثیر ج۴ ص۲۳

انصار کی دشمن کو مباہلہ کی دعوت:

مباہلہ ایک خاص رو حانی مقا بلہ ہے اور یہ اقدام وہی شخص کرسکتا ہے جسے اپنی سچا ئی ،ایمان ، اور خلوص پر پو را پورا یقین ہو اورنصرت الھی پر مکمل اور پختہ بھروسہ ہو اور اس کو یہ بھی یقین کامل ہو کہ خدا میری سچائی اور حقانیت کے سبب فو را دشمن کو سزا دے گاتا کہ حق و با طل پوری طرح واضح اور روشن ہو جائے۔

یزید بن محفل نے بریر سے کہا ائے بریر تمھیں احساس ہوا کہ خدا نے تمھارے ساتھ کیا کیا؟ بریر نے جواب دیا واللہ خدانے میرے ساتھ بھلائی کی ، اور تیرے ساتھ برائی سے پیش آیا یزید نے کہا تم جھوٹ بو لتے ہو ذرا اس وقت کو یاد کرو جب ہم تمہارے ساتھ (نو زان ) میں جا رہے تھے اور تم کہہ رہے تھے کہ فلانی اپنے نفس پر اسراف کرتا ہے . اورابن ابی سفیان تو گمراہ ہے اور امام برحق علی ؑ ہیں بریر نے کہا بے شک میری اب بھی . یہی رائے ہے یزید بن محفل نے کہا میں تم کو گمراہ سمجھتا ہوں بریر نے کہا اچھا کیا تم اس بات پر مبا ہلہ کر سکتے ہو کہ خدا جھو ٹے پر لعنت کرئے اور باطل پرست کو نابود کرے یعنی پھر ہم تم سے مقابلہ کریں وہ اس مقابلہ پر رضامند ہو گیا جب رضا مندی ہو گئی اور دو نوں میدان میں نکل کر مقا بلہ کے لئے آئے دونوں طرف تلوار کی رد و بدل ہوئی . ایک بار یزید بن محفل کا وار خالی گیا اور بریر نے جواب میں ایسی تلوار چلائی جو یزید بن محفل کے خودکو کاٹتی ہو ئی دماغ تک پہنچ گئی . اور بریر کی تلوار زخم سے نکلنے نہ پائی تھی کہ وہ دشمن خدا واصل جہنم ہو گیا مگر مباہلہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔

۲۔ناسخ التواریخ ج۶ ص۲۴۳

ماحصل

یہاں اختصار کے ساتھ انصار حسینی ؑ کی خصو صیات کے چند ایک پہلوؤں پر رو شنی ڈالنے کی کو شش کی گئی ہے ، اور ان عرایض کے تئں عنوان مقالہ کے ضمن میں اٹھائے گئے دو اساسی سوالوں کا جواب ہمیں بہ آ سانی مل جا تا ہے اس کیلے مذکورہ سوالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان خطبوں کو غور سے پڑھنے کہ ضرورت ہے جہاں ان خطبوں کی خوش بیانی قادر الکلامی ، فصاحت وبلاغت ،جوش ایمانی اور استقلال وشجاعت کی وہ کھلی ہوئی نشانیاں ملتی ہیں ساتھ ہی اتمام حجت کے بھی بے مثال مثالیں ملتی ہیں .حقیقتا نازک وقت میں اصول تبلیغ کی رعایت اور اتمام حجت کا لحاظ ان بہادروں کا ہی کام تھا زمان و مکان اور موقع کا خیال مخاطبین کی حیثیت کا لحاظ ،ادائے مطلب کا طرز،اتمام حجت کا طریقہ، استدلال اور بے باکی جیسی چیزیں بھی انکی گفتگو میں عیان نظر آتی ہیں اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک مختصر سی مظلوم ومجبور ہستی اور چاروں طرف سے گری ہوئی جماعت کا ایک تشنہ لب خطیب بریر بن خضیر ایک ایک ظالم اور بے غیرت فوج کو (حدیث ثقلین ) یاد دلا کر اتمام حجت کر رہا ہے اور کس خو بی سے دشمنوں کے نر غہ میں علی ؑ اوراولاد علی ؑ کی حقانیت اور اغیار کی غلطی باطل پرستی کو واضح کررہا ہے ،انتہائی شجاعت اور یقین کی حالت میں بے خطر مبا ہلہ کی دعوت دیتا ہے ،اسی طرح حنظلہ بن سعد ، زہیر بن قین اور حر ابن یذید ریا حی ہر ایک اپنے اپنے انداز میں کوئی نرمی سے کوئی جہنم کا خوف دلا کر کوئی مثالیں دیکر ۔

غرض ہر ایک کی کو شش یہ ہے کہ حسین ؑ کو قتل ہونے سے بچالے ، حسینی مقصد آشکار ہو ،اس طرح اپنے حق کو ادا کرتا ہے اور دو سرے مرحلے میں اپنی جانوں کی پر وانہ وار قربانی دیکر اپنے قول و فعل میں یکجہتی کا بے مثل ثبوت دیتاہے۔

شاید دنیا کی تاریخ میں دنیا والوں نے کسی میدان جنگ میں دشمن کو راہ حق دکھا نے کیلے ایسی تقریریں سنی ہوں اور اس قدر دشمن کو راہ حق پر لانے کی کوشش کی ہو اسکی مثال دنیا میں نہیں ملتی ہا ں اگر آج ہمیں یہ معلوم کرنا ہو کہ کیا ہم بھی کربلا میں ہو تے تو حسینی ؑ انصار میں شمار ہو سکتے تھے یا نہیں تو جواب واضح اور سادہ سا ہے انصار حسینی ؑ کی زندگی کے تمام پہلوں کا ہم بغور مطالعہ کریں اور غور فکر کریں ، یہ دیکھیں وہ کیسے افراد تھے جنہیں حسین ؑ خط لکھ کر شہادت کی دعوت دے رہے تھے اور وہ افراد کیسے تھے؟ جنکو حسین ؑ مختلف طریقوں سے اپنے قافلہ سے جدا کررہے تھے اس بات کا پتہ ہمیں ان لوگوں کے گفتار اورکردار اوراخلاق و افکار سے چلے گا اور ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو ان جانثار ان حسینی ؑ سے ان تمام باتوں میں جن کا ذکر ہو چکا مقایسہ کر نے کے بعد نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ کیا اگر وہ کر بلا میں موجود ہو تا تو انصار حسینی ؑ میں اسکا شمار ہو تا یا نہیں ۔

آج ہمیں انصار حسینی ؑ جیسا ہو نے کیلے ان خصوصیات سے آراستہ ہونے کی ضرو رت ہے تاکہ ہم سب حقیقی معنوں میں پیرو ے انصار حسینی قرار پاسکے اسی لیے آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم ان باتو ں کو فقط اپنی تحریروں تقریروں اور نصیحتوں کی زینت نہ بنائیں بلکہ ان پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے ۔

ایمان تقوا تدبیر وتدبر صحت جسم و جان ،شجا عت ومر دانگی جیسی صفات کی ہمیں آج جتنی زیادہ ضرورت ہے وہ پہلے نہیں تھی امام حسین ؑ نے نانا کے دین کو بچانے کے لئے اتنی بڑی قربانی دی اور امام عالی مقام سے محبت کا عملی اور اصلی ثبوت صرف اور صرف دین پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہے خد ا ہم سب کو صحیح معنوں میں انصار حسینی ؑ کے نقش قدم پر چلنے ان جیسا بننے کی تو فیق عطا فرمائے۔

نکل کر خان قا ہوں سے اداکر رسم شبیری ؑ

کہ رسم خانقاہی ہے فقد اندوہ ودل گیری (اقبال)

فہرست منا بع وما خذ .

۱. قرآن مجید ترجمہ علامہ ذیشان انصاریان قم

۲. حماسہ حسینی ج ۲ مطھری دارالثقافہ اسلامیہ کراچی

۳. سیرۃ پیشوایان مھدی پیشوائی انتشارات امام صادق ؑ قم

۴۔لھوف سید ابن طاووس نشر نوید اسلام قم

۵. تاریخ سیاسی اسلام ج ۳ رسول جعفریان

داستانہا ی صاحب دلان محمدی اشتہاردی انتشارات اسلامی قم ۷.ثمرات الحیات امامی اصفحانی کتاب فروشی قریشی

۸. الکامل فی التاریخ ابن الاثیر موئسسہ تاریخ عربی لبنان

۹ . طبری جریر طبری دارالکتب علمییہ لبنان

۱۰. تاریخ اسلام احمد الذہبی دارالکتب علمییہ لبنان

۱۱. البدایہ والنھایہ ابن کثیر موئسسہ تاریخ عربی لبنان

۱۲. تاریخ نامہ طبری محمد روشن سروش (تہران)

۱۳. آموزہ ہای تربیتی عاشور محمد علی رضائی انتشارات شہید مسلم قم

۱۴. بر گزیدہ ناسخ التواریخ محمد تقی سپہر

مقتل ابومخنف ترجمہ یوسف غروی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔