لواری ٹنل کی تعمیر توسیع اور لواری کی بندش

لواری ٹنل کی تعمیر توسیع اور لواری کی بندش

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عنایت اللہ اسیر

ٍ کیا لواری ٹنل کوبروقت کسی مناسب ترتیب سے چترال آنے جانے والوں کیلئے کھولا جائے گا ۔ یا پھر گذشتہ سال کی طرح چترال کے باشندوں کو تین سے چاردن تک اس سہولت سے استفادہ کرنے کی اجازت نہ ہو گی جس سے بیمار ، زخمی، جنازے اورپیشی انٹرویوزکیلئے آنے جانے والے مسافر انتہائی ازیت ناک صورت حال سے دوچار ہوئے اور ان دنوں لواری ٹاپ پر پڑھنے والی برف جم کر انتہائی خطرناک ہو جاتی ھے اور مکمل بند ہونے تک کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتا ھے ۔

Lawariان تمام حقیقی مشکلات ، خطرناک اور لازمی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے چترال کے عوامی نمائندوں ، سیاسی قائدین ،ضلعی انتظامیہ ، چترال اسکواٹس ، سمبو اور NHA کے زمہ داروں کا مشترکہ مشاورتی اجلاس کا انعقاد کرکے بر وقت ایسے ترتیب کے متفقہ فیصلہ کی اشد ضرورت ہے جو بعد میں جلد بازی میں ظلط فیصلوں پر منتج ہو کر انتہائی مشکلات اور ازیت کا سبب بنتا ھے لہذا چند قابل عمل تجاویز پیش خدمت ہیں ۔

(۱) لواری ٹنل پر کام میں رکاوٹ ڈالے بغیر صرف نماز مغرب سے لیکر صبح سات بجے تک ٹنل کے اندر سے ملبہ ہٹا کر روزانہ ٹریفک کیلئے کھلا رکھا جائے اور دونوں طرف کے ٹریفک کو دیر اور چترال سے شام سے دو گھنٹے پہلے ٹنل کی طرف روانہ کرایا جائے ۔اس ترتیب سے توسیع کے کام میں رکاوٹ بھی نہیںآئے گی اوردونوں طرف سے گاڑیوں کا رش بھی کم رہے گا ۔

(۲) چونکہ درہ خیبر ، نوا پاس اور دیگر کئی مقامات سے افغانستان اور پاکستا ن کے درمیان پیدل اور گاڑیوں میں آمدورفت بے غیر پاسپورٹ کے مسلسل جاری ہے لہذا ارند وسے براستہ نواپاس و براستہ درہ خیبر ہر قسم کی ٹریفک کو حسب ثابق بحال کیا جائے اب کو اسدآباد میں گورنر بھی چترال کا سابقہ باشندہ موجود ہے اور صبح ۸ بجے سے دوپہر ۲ بجے تک ارندو سے نکلنے والا ہر گاڑی ۴ سے ۶ گھنٹوں میں افغانستان کے علاقے سے پاکستان میں داخل ہونگے ۔ایک افسوس ناک واقعہ جو کہ محمند ایجنسی میں پیش آیا باقی یہ راستہ پر آمن رہاہے ۔کئی سال چترال کے باشندے براستہ افغانستان سردیوں میں آتے جاتے رہے کوئی نا خوش گوار واقعہ یا جانی نقصان کبھی پیش نہیں آیا اب تو حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں چونکہ دیر سائیڈ سے لواری ٹنل تک کی چڑھائی 200 سے 300 من لوڈ ٹرک لے جا سکتے ہیں لہذا دریا ئے چترال کے ساتھ ساتھ براستہ افغانستان ہی 500سے 1000 من اٹھا کر ٹرک پشاور سے چترال جا سکیں گے۔لہذا اس راستے کی اہمیت اور شرعی حثیت کو نظر انداز کرنا کسی طرح سے منا سب نہ ہوگا ۔

(۳) کم از کم ٹرک اور ترسیل سامان اور اشیا ئے خوردنوش کے سامان کے ٹرک کو اس راستے پر بزریعہ پرمٹ لواری ٹنل کے مکمل ہونے تک چلایا جائے تاکہ تنل پر ٹریفک کا بہتات اور بڑے لوڈ ٹرکوں کی بھر مار سے عام مسافروں کے راستے میں رکاوٹ اور ٹنل کے اندر کچے راستے میں ٹرکوں کا دھواں بھرنے سے محفوظ رہے۔

(۴) چترال انتظامیہ ، عوامی نمائندہ گان NHA ، FWO یا چترال میں کام کرنے والے NGO,s چترال کے سائیڈ کے دمیل پنا کوٹ روڈ کے حصے کی تعمیر اور بہتر طریقے سے انہی سردیوں میں مکمل کریں اور دیر سائیڈ کے انتظامیہ اور دیگر NHA,FWOاور NGO,s دوبنددہ کے باقی ماندہ ٹرک اپیل سڑک کو زخانی کنڈاؤ تک 3 سے ڈھائی فٹ گریڈنگ میں مکمل کریں تاکہ لواری کے توسیع کے کام مکمل ہونے تک چترال آنے والے ٹریفک کو سال بھر با حال رکھا جاسکے جو NHA کے ٹیم کے سروے کے مطابق عین ممکن ہے۔ گلیشرز اور شدید سردی سے محفوظ یہ علاقہ کسی طرح سے بھی خطرناک نہ ہوگا اور اپنے ہی سرزمین سے بے منت ٹریفک کو آسانی سے سال بھر بحال رکھا جا سکے۔

امید ہے کہ ان تجاویز پر بر وقت مشورہ کرکے چترال کے باشندوں کو بے منت آسانی سے آنے جانے کا راستہ دیا جائیگا۔

نوٹ: شام کے بعد صبح سات بجے تک کے ٹریفک کو جاری رکھنے کا مکمل اختیار چترال اسکاوٹس کو دیا جائے اور چترال کے معزز باشندوں کو SAMBO کے کنسلٹنٹس کے سامنے اپنے زخمیوں ، بیماروں اور جنازوں کو اٹھائے منت پر مجبور نہ کیا جائے ۔ قوم کے لیڈر اور حکمران اپنے قوم کے خودی ، عزت نفس ، شخصی آزادی اور وقار کا خیال رکھنے کے زمہ دار ہوتے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔