دسمبر کی آخری چند ساعتیں، اسلام آباد کی ڈھلتی اداس رات، میں ’’خدا اور محبت‘‘

ہمیشہ کی طرح دسمبر کی آخری راتیں مجھ پر گراں گزرتی ہیں لیکن اس دفعہ تو غضب ہوا ان لمبی راتوں میں ابھی میں ہاشم ندیم کے ’’بچپن کے دسمبر‘‘ کی یادوں سے باہر نہیں آ پایا تھا کہ ان کے ایک اور ناول ’’خدا اور محبت‘‘ کے ابتدائی صفحات نے ہی بقول عطا الحق قاسمی میرے بھی تکیے بھگو دئیے۔ وہ محبت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتا کہ لوگ محبت کو آپ بیتی کیوں کہتے ہیں۔ محبت تو جگ بیتی ہے۔ دنیا کا وہ کونسا فرد ہے جو اس تجربے سے نہیں گزرا ہوگا؟ شرط صرف تسلیم کرنے کے سچ یا انکار کرنے کی منافقت کی ہے۔ میں نے محبت اور مذہب کو جس طرح خود پر وارد ہوتا ہوا محسوس کیا، اسے ان صفحات پر بکھیر دیا۔ محبت اور مذہب کی جنگ تو میرے دل نے لڑی اور میری روح نے جھیلی ہے، لیکن جیت مذہب کی ہوئی یا محبت کی۔۔۔۔۔۔ اس کا فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔ مقصد محبت یا مذہب میں سے کسی بھی ایک کی برتری ثابت کرنا کبھی نہیں رہا۔ بس کچھ سوال جواب چاہتے ہیں۔ لیکن مذہب اور محبت کی اس تکرار میں کچھ نئے سوال جنم لیتے نظر آ رہے ہیں۔ سو میری گزارش ہے کہ اس کتاب کو صرف وہی لوگ پڑھیں گے جو زندگی میں نئے سوالوں کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ جواب البتہ فرض نہیں۔

وہ پہلی بارش کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’لندن شہر ایک ملگجے سے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسا لگتا تھا رات بھر بارش ہوتی رہی ہے، ہلکی ہلکی سی پھوار اب بھی میری سیٹ کی ونڈ اسکرین پر ارتعاش بکھیر رہی تھی، یہ بارشیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں، کبھی تو ساری عمر بھی موسلا دھار برستی رہیں تب بھی انسان کا اندر بھگو نیں پاتیں۔۔۔۔۔۔ اور کبھی کسی کے من کو ہر لمحہ جل تھل کیے رکھتی ہیں، لیکن باہر والوں کو اس کی خبر بھی نہیں ہو پاتی۔۔۔۔۔۔ لندن کی یہ پہلی بارش بھی کچھ ایسی ہی تھی جس نے میرے وجود کو تو باہر سے بھگو دیا لیکن میرے اندر کی پیاس اب بھی میرے حلق میں کانٹے چبھو رہی تھی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں کہ میری ذہنی حالت ایسی تھی کہ میں دوسروں کے ناگوار وجود کو بھی جھیلنے کے لیے تیار تھا لیکن خود اپنا سامنا لمحے بھر کو بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یہ انسان بھی کتنا مجبور j

اور لاچار ہے۔ باہر آس پاس لگے سبھی آئینے پھوڑ بھی ڈالے تب بھی اپنے اندر لگے آئینے کا سامنا ہر دم لازمی ہوتا ہے۔

ہاشم ندیم کی پہلی بارش اور میرے آج کی رات میں آپ کو فرق محسوس نہیں ہوگا۔ کیونکہ؎

یہ سال بھی اداس رہا روٹھ کر گیا
تجھ سے ملے بغیر دسمبر گزر گیا

آج دسمبر کی اس اداس رات میں میرے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا میں ایک ہاتھ میں ان کے ناول اور دوسرے میں کافی کا مگ لیے نہ جانے کب سے اپنے روم کی بالکونی میں بیٹھا اسلام آباد کے آکاش میں کس کو ڈھونڈ رہا تھا۔ مجھے نہیں معلوم۔ ہاں ایک حسرت رہی وہ بھی ان کے بقول؎

کاش! کوئی جاکے اسے کہدے
میں اور دسمبر۔۔۔۔۔۔ ختم ہو رہے ہیں

جاتے جاتے صرف اتنا کہنا ہے؎

آخری شام ہے دسمبر کی
کل نیا سال ہے مبارک ہو

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments