اہل گلگت و بلتستان کو کن جنات سے ڈرنے کی ضرورت ہے؟

اہل گلگت و بلتستان کو کن جنات سے ڈرنے کی ضرورت ہے؟

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پچھلے دو دنوں سے گلگت بلتستان کے پرنٹ اور سوشل میڈیا میں جنات کی آمد اور انکی سرگرمیوں کی تفاصیل شائع ہو رہی ہیں. لوگ مزے لے لے کر اس خبر کو دوسروں تک پہنچا رہے ہیں اور دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں. مجھےشک ہے کہ اس خبر کو پھیلانے کے پیچھے بابا جان اور انکے ساتھیوں کے حق میں سوشل میڈیا پر آواز بلند کرنے والوں کی آواز دبانا اور لوگوں کی توجہ اس اہم مسلے سے ہٹانے کی سازش ہے. یہ ایک ترکیب لگتی ہے، جس میں جانے یہ انجانے میں بہت سارے لوگ شامل ہورہے ہیں. مجھے یقین ہے کہ اہل دانش جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب اتنے بھی سادہ نہیں رہے کہ انہیں جن بھوت سے ڈرا کر لوگ  اپنے مذموم اہداف حاصل کرسکیں ۔

یہ مذہبی علماء اور علاقے کے دانشمند لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی جھوٹی باتوں کو مسترد کریں، لوگوں کو تاریکی و جہالت کی طرف لے جانے کی بجائے روشنی کی طرف لے آئیں ۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کئی دہائیوں تک علم کی روشنی سے دور رکھا گیا مگر علم کی روشنی کو وہ لوگ روک نہیں سکے ۔ دنیا سیاروں کو تسخیر کرنے میں مگن ہے اور ہمیں جن بھوت اور دیو مالاوں کی کہانیوں میں الجھایا جا رہا ہے۔ معاشرے میں ایسے تمام سوچ کے حامل لوگوں کو راہ دکھانے کی ضرورت ہے ۔

ایم ایم قیزل

ایم ایم قیزل

ایسی تمام بے تکی باتیں نہ تو اس دور میں کسی کے دلوں میں خوف پیدا کر سکتی ہیں اور نہ کوئی ان باتوں کو قبول کر سکتا ہے ۔ ہمارے نزیک  وہ انسان ، وہ ادارے  اور وہ عقیدے جہاں سے شر، ظلم ،برائی اور جہالت پیدا ہو وہ جن بھوت اور شیطان ہیں اس کے علاوہ یہ کوئی غیر مرئی مخلوق نہہں۔ جنات ،بھوت، سایہ، آسیب، چھلاوا، چڑیل، دیو وغیرہ باتوں میں آنا ایک نفسیاتی بیماری کے سوا کچھ نہیں ۔

اگر ہم نظریہ جن بھوت کا سائنسی تجزیہ کریں تو  ایک فرانسیسی ماہر طب ایلیگزینڈر جیکویس کے مطابق  جنات  کا کوئی وجود نہیں بلکہ اسے اس نے  خطائے حس کا نام دیا ہے.  مطلب یہ کہ جب  انسان کی کوئی ایک یا تمام حسیں کسی بھی بیرونی یا اندرونی وجہ سے  خطا یا غلطیاں کرتی ہیں یا  اپنا کام ،  فعل درست نہیں ادا کرپاتیں۔ تو تب  بنا کسی بیرونی محرک کے  دماغ میں اس محرک (مثلا آواز یا بو  ڈھول ، گیت ،گانا ، وغیرہ) کا احساس اجاگر ہوجاتا ہے، جیسے غیرموجود کو دیکھنا ، کسی کے بولے بغیر ہی آواز و گفتار کو سننا ، کسی بو کے نہ ہونے کے باوجود اس بو کو سونگھناوغیرہ وغیرہ۔ یہ سب دماغ و اعصاب میں مختلف اقسام کے نقص defect  کی بنا پر ہوتا ہے اور اس کو نفسیات میں ایک شدید ذہنی کیفیت یا مرض کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔

سائنس کے نزدیک یہ انسانی  وہم ہے مثال کے طور پر بادل میں محبوب کی شکل نظر آنا۔ یا بادل پر گھوڈا سوار کا نظر آنا ۔۔  چاند پراہم مذہبی شخصیات کی شکلیں نمودار ہونا اور حد تو یہ ہے کہ بعض  لوگوں کو بے نظیر بھٹو صاحبہ  اور اپنے اپنے پسندیدہ سیاسی رہنمنا بھی ںظر آتے ہیں روٹی اور آلو وغیرہ پر مقدس ناموں کا نظر آنا۔ اسی طرح  یہی ذہنی وہم مرضی کے بھوت پریت تراش  کر اپنے ہی ذہن کو پیش کرتا ہے۔  اور معاشرے کے کئی طبقے اسے مذہب کی آڑ میں تشریحات کرنا شروع کرتے ہیں یا کوئی قدرتی معجزہ یا امتحان سمجھ کر  نذر و نیاز کرتے ہیں ۔

پس ماندہ معاشروں میں جن بھوت کی کہنانیاں تو عام ہی ہیں مگر تاریخ میں ایسی من گھڑت کہانیاں حکومت وقت یا باشاہوں نے سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے بھی  بنائی ہیں۔ اور آج جو ویت نام کے غیر مسلم جن گلگت پہنچنے کی خبر کو میڈیا میں پھیلایا گیا ہے اس کے پیچھے بھی مجھے کسی خاص محرک اور مقصد کا احساس ہو رہا ہے ۔ خیر ویت نام کے غیر مسلم مبینہ جنات سے ہمیں اتنا خوف و خطر نہیں جتنا ان انسان نما جنوں سے ہیں جو ظلم اور بربریت کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں، بلکہ لوگوں کی توجہ اصل مسائل اور اصل خبروں سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں.

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments