کالمز

مچھ، اسلام آباد اور کراچی سے آنے والی چیخیں

دہشت گردی کی نئی لہر نے کوئٹہ اور اسلام آباد کی سڑکوں کو بے گناہوں کے خون سے رنگین کیا ہے۔۔ درجنوں گھروں میں ماتم اور انگنت یتیم بچوں کی صدائیں عرش معلی تک پہنچ چکی ہیں مگر آسمانی فیصلہ ابھی تک صادر نہیں ہوا ہے۔۔

بلوچستان میں بہنے والا ہزارہ برادری کے مظلوموں کا خون اب بہت سستا ہوچکا ہے، کئی سالوں سے ان کی نسل کشی جاری ہے اور زندگی کے دروازے ان پر بند ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں نصف درجن کے قریب مزدوروں کو جس بے دردی سے مارا گیا اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی، انسانیت سوزی کے تمام ریکارڈ توڑے جاچکے ہیں۔۔ ان مزدور کا مذہب، قوم اور علاقہ تو صرف بھوک و افلاس تھا، وہ تو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے میں مگن تھے، بیروزگاری اور تنگدستی نے انہیں کان کنی پر مجبور کیا تھا، ان کے بچے اپنے اپنے گھروں میں منتظر تھے کہ ان کے باپ گھر لوٹیں گے تو کھانے پینے کا انتظام ہوگا، زندگی کی آخری لکیر پر سفر کرنے والے ان مزدوروں کی منزل محض پیٹ بھرنا تھا، آشائیشوں، عشرتوں، بنگلوں، کار کوٹھیوں اور اللے تللوں سے کوسوں دور یہ مزدور زندگی کا سستا ترین انداز میں دل بھرتے تھے۔۔۔۔

یہ مزدور کسی کیلئے مسلہ نہ تھے، کسی سے ان کا لینا دینا نہیں تھا اور نہ ہی یہ لوگ کسی کے ایجنٹ تھے اور انہیں اتنی بڑی سزا دی گئی کہ اس کا ازالہ قدرت ہی کر سکتی ہمارے نظام اور قانون میں ان بے بسوں کیلئے کوئی ریلیف نہیں ہے۔۔ نصف درجن مزدوروں کے پیچھے کئی درجن بیوی بچے پسماندہ رہ چکے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ بھوکے ہیں۔۔۔ ان کے بچوں کی تعلیم صحت اور دیکھ بھال کا ذمہ دار کون ہے؟ کوئٹہ واقعہ پر مذمتی بیانات اپنی جگہ پر لیکن عملی طور پر کیا ہو رہا ہے؟ کیا قاتلوں کا سراغ لگایا جاسکا ؟ مظلوموں اور پسماندگان کو دلاسے نہیں قاتل چاہئے۔۔۔ ان کے یتیم بچوں کو اچھی تعلیم اور صحت چاہئے اور ان کے چولہوں کا مستقل انتظام چاہئے۔ کون لے گا پسماندگان کی ذمہ داری ؟ کون کرے گا ان کے نقصان کا ازالہ اور کون رکھے گا ان کے زخموں پر مرہم؟ دل تھام کے ذرا ایک منٹ کیلئے سوچیں اگر یہ واقعہ ان مزدوروں کے ساتھ نہیں ہمارے ساتھ پیش آتا۔۔۔ کسی بااثر خاندان کے ساتھ پیش آتا تو وہ مرحلہ کیسا ہوتا؟ کوئٹہ میں مارے جانے والے بے گناہوں کے پسماندگان کو انصاف دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست کا کردار ماں جیسا ہوتا ہے۔۔

ہمیں معلوم ہے مزدورں پر حملہ ریاست پر حملہ ہے اور حقیقت بھی ہے کہ اس طرح کے واقعات کے ذریعے دشمن ہمارے ملک کو فرقہ وارانہ فسادات میں دھکیلنا چاہتا ہے، ہمیں تقسیم کرنا چاہتا ہے اور بدامنی کے ذریعے ہماری فوج اور اداروں کو اندرونی جنگ میں پھنسانا چاہتا ہے لیکن دشمن کیلئے ایجنٹ کا کردار کون ادا کر رہے ہیں؟ کیا بے گناہ مزدوروں کے ہاتھوں کو رسیوں سے باندھ کر بے رحمی سے مارنے والے اندرونی نہیں ہیں؟ قانون اور نظام کو چاہئے کہ وہ ان کرداروں کا تعاقب کرتے ہوئے پسماندگان، یتیم بچوں کی کفالت؛ صحت و تعلیم اور بہتر زندگی کیلئے کوئی مربوط فارمولہ ترتیب دیں تاکہ ہزارہ برادری کے مزدوروں کی آنے والی نسلیں اتنی بے بسی ، مجبوری اور لاچاری کی حالت میں جان نہ گنوا سکیں بلکہ پڑھے لکھے بن کر ملک کے اداروں میں باعزت طریقے سے زندگی گزار پائیں۔۔۔۔

جہاں مچھ میں موت کا رقص ہوا وہاں اسلام آباد کی سڑکوں سے آنے والی ” اسامہ ” کی چیخیں اب تک سونے نہیں دے رہی جبکہ دوسری جانب کراچی کی سڑکوں پر مارا جانے والا بیگناہ طالب علم سلطان نذیر کی یادیں بھی سماعتوں پر دستک دے رہی ہیں، سلطان نذیر کا قصور کیا تھا ؟ اسے کیوں قتل کیا گیا؟ کیا سندھ حکومت اب تک سلطان نذیر کے پسماندگان کو انصاف دینے میں کامیاب ہوئی ہے؟ ۔۔۔۔مچھ سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے کراچی تک لہو رنگ تصویریں بہت کرب ناک ہیں حکومت کو چاہئے کہ مظلوموں کو انصاف کی فراہمی میں اپنا پورا کردار ادا کرتے ہوئے اپنائیت اور اعتماد کا احساس دلائیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: