فلاح انسانیت فاونڈیشن کے زیر انتظام سرجیکل کیمپ میں 350 مریضوں کا مفت معائنہ، 30 کا کامیاب آپریشن

فلاح انسانیت فاونڈیشن کے زیر انتظام سرجیکل کیمپ میں 350 مریضوں کا مفت معائنہ، 30 کا کامیاب آپریشن

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال سے 45 کلومیٹر دور تاریحی قصبے دروش میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں فری سرجیکل کیمپ کا اہتمام ہوا
فری سرجیکل کیمپ میں 350 مریضوں کا مفت معائنہ کیا گیا جبکہ 30 مریضوں کا کامیاب آپریشن بھی ہوا۔ وادی عشریت سے تعلق رکھنے والے ایک شحص کا کہنا ہے کہ اس کی گھر والی زچگی کے دوران شدید درد سے سخت تکلیف میں تھی جسے عام طور پر ہم آپریشن کیلئے چترال یا پشاور ہسپتال لے جایا کرتے تھے مگر فری سرجیکل کیمپ کے ڈاکٹر ایوب اور اس کے ٹیم نے ان کا کامیاب آپریشن کیا اور ایک تازہ صحت مند بچے کی ولادت بھی ہوئی اب زچہ بچہ دونوں صحت یاب ہیں۔
فری سرجیکل کیمپ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب کے زیر نگرانی ہورہی ہے جس میں دور دراز سے مریض آکر مفت معائنہ اور آپریشن کرواتے ہیں۔ چند اور مریضوں کے تیمار داروں نے بھی کہا کہ اس فری سرجیکل کیمپ سے ان کو بہت فائدہ ہوا کیونکہ دروش ہسپتال میں کوئی سرجن ڈاکٹر نہیں ہے۔
ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ فلاح انسانئیت فاؤنڈیشن چترال میں اگلے سال سے فری ڈسپنسری بھی کھول رہے ہیں جس میں کوالیفائڈ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف مریضوں کا مفت معائنہ کریں گے۔
دیر، تیمرگرہ، باجوڑ، چترال اور ملاکنڈ کے امیر فلاح انسانیت ابو ہارون نے کہا کہ ان کی تنظیم پروفیسر حافظ سعید کے ہدایت پر ہر سال چترا ل اور دیگر پسماندہ علاقوں میں فری سرجیکل کیمپ کا اہتمام کرتے ہیں جس میں سینکڑوں مریضوں کا مفت معائنہ کیا جاتا ہے۔ امیر اہل حدیث مولوی عمر قریشی کا کہنا ہے کہ ان کا تنظیم چترال میں نہ صرف فری سرجیکل کیمپ کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ ان کی تنظیم کی شعبہ تعلیم، صحت، ایمبولنس وغیرہ بھی عوام کی گراں قد خدمات کررہی ہیں۔
علاقے کے لوگوں نے فری میڈیکل منعقد کرنے پر فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی خدمات کو بے حد سراہا۔عوام نے مطالبہ کیا کہ دروش میں باقاعدگی سے فری میڈیکل اور سرجیکل کیمپ کا اہتمام کیا جائے اور دروش ہسپتال میں مستقل بنیادوں پر سرجن اور سپیشلسٹ ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے۔ تاکہ یہاں کے مریض چترال اور پشاور جانے پر مجبور نہ ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔