کیا اس قوم کو پیسوں کی ضرورت ہے؟

کیا اس قوم کو پیسوں کی ضرورت ہے؟

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

hayatہمارے ایک عظیم استاد جس نے غلامی بھی دیکھا تھا۔آزادی کے لئے جدوجہد بھی دیکھا تھا۔آزادی کے متوالوں کا جوش وولولہ بھی دیکھا تھا۔ان کا خلوص ،ان کا ایثار و قربانی بھی دیکھا تھا۔پھر انہی جدوجہد میں ان کی کامیابی اور جذبہ تعمیر بھی ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔وہ کہا کرتا تھا۔۔۔بچو!اس قوم کو پیسوں کی نہیں تربیت کی ضرورت ہے ہم پرائمری کے بچے اس زمانے میں نہ پیسے کا مفہوم سمجھتے نہ تربیت کا۔۔۔استاد کلاس روم چھوڑ کر چلاجاتا۔ہم شرارتوں میں جُت جاتے مگر کلاس روم کے درودیوار استاد کی حسرتوں سے دھواں دھواں ہوجاتے۔۔۔۔ہم جب زندگی کی جنگ لڑنے میدان عمل میں اُترے تب دونوں کا مفہوم سمجھ گئے۔ہم نے دیکھا کہ محکمے بنے ہیں۔دفتروں کے دفتر لگے ہیں۔گاڑیاں ہیں پروٹوکول ہے شایان شان زندگی ہے۔سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں کام ادھورے ہیں مٹریل ناقص ہے۔تعمیر میں دور اندیشی اور سنجیدگی نہیں دریائیں ہیں ۔پیسے ہیں ٹیکنالوجی ہے بجلی گھر نہیں۔بیابان بنجر پڑے ہیں۔چینل نہیں آپاشی نہیں۔آباد کاری نہیں،محکمہ ہے،ایوان ہیں نمائندے ہیں ،عدالتیں ہیں لیکن سب ان سے مطمئن نہیں۔اب بات سمجھ آگئی۔عدالت میں جانے والا دیانت کا رونا روتا ہے۔مگر اپنی دیانت کو نہیں کوستا۔ہر ایک اپنا فرض بھول کر دوسرے کو تنقید بنارہا ہے۔تب بات سمجھ آگئی یہ قوم یہ عظیم قوم اس وقت اگرخلوص اور دیانت کا لبادہ اوڑھ لے۔یہ قوم یہ عظیم قوم محنت کو شعار بنائے۔۔۔یہ قوم یہ عظیم قوم اس مٹی سے محبت کی قسمیں کھائے۔۔۔یہ قوم یہ عظیم قوم سر نہ جھکانے ک عہد کرلے تو اس کے عظیم بننے میں کونسی روکاوٹ حائل ہوگی۔کہتے ہیں چین کے دارالحکومت میں درخت لگانے کا فیصلہ ہوا ۔طے ہوا کہ شہر میں جابجا پودے لگائے جائیں۔چینی قوم نے ایک مہینے کے اندر جنگل سے بڑے بڑے درخت اکھاڑ کے لائی اور شہر میں لگادی دوسرے سال شہر درختوں کے سایے میں تھا۔جاپانی قوم صبح 9بجے تک پاگل ہوتی ہے اپنے کاموں اور ڈیوٹیوں پہ نکلتی ہے تو راستے میں اورکوئی چیز اس کو نظر نہیں آتی۔ہیلو ہائی ،خیرت حال،مصافحہ،معانقہ،ادھر ادھر دیکھنا بالکل نہیں۔۔۔سب اپنی دھن میں مست ہیں اپنی منزلوں کی طرف روان دواں ہیں۔کسی یہودی انجینئر سے ملکی سیاست کا حال پوچھو جواب دیگا،یار مجھے سیاست سے کیا کام میں انجینئر ہوں میری زندگی کا مقصد عظیم اسرائیل ہے۔دوستو!اب اس عظیم استاد کی باتیں سمجھ آرہی ہیں۔ہمیں پیسے کی نہیں تربیت کی ضرورت ہے۔۔۔۔ہم استاد ہیں کوئی ہمیں سمجھائے کہ یارکلاس روم میں جان دے دو۔باہر آکر ٹیوشن پڑھانے سے کیا ہوگا۔آپ کی تنخواہ آپ کے لئے کافی ہے۔ہم ڈاکٹر ہیں کوئی ہمیں بتائے۔۔۔سر ہسپتال میں جان کھپاؤ کلنک کھولنے سے کیا ہوگا۔آپ کی تنخواہ کافی ہے۔انجینئر ہیں کوئی سمجھائے یار1000سال سو چ کر تعمیر کرو۔اس قوم کو زندہ رہنا ہے۔اس سرزمین کو قائم رہنا ہے۔ٹھیکدار کو بتاؤ اس کاشانے کی تعمیر کرنی ہے۔سیاست دان کی منزل پر خلوص خدمت ہو اللہ سب کو دیکھ رہا ہے۔عظیم استاد کی بات یاد آتی ہے۔ہماری قوم کا ایک کام ہے کہ جو حکومت اقتدار میں آئے تو اس سے تنخواہوں ،مراعات،سہولیات اور ترقیوں کے مطالبے ہونگے۔ہم خود نہیں سوچتے ہیں کہ ہم اپنے فرائض سے کتنے آگاہ ہیں ہماری محنت ،ہماری غیرت،ہمارا جذبہ ،ہمارا خلوص ،ہماری ایک دوسرے سے محبت ،ہمارا بڑھوں کا احترام ہمارا وقت کی پابندی کدھر گئی۔ہمارے اوپر ایک نگراں اعلیٰ بیٹھا ہوا ہے جس نے اس سرزمین کو ہمیں انعام میں دیا ہے۔ہم یقیناًعظیم ہیں اگر ہماری تربیت ہوجائے۔میرے عظیم استاد نے سچ کہا تھا۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔