عظیم قائد

میر اسلم حسین سحر

کسی بھی قوم ، مذہب یااداروں کے نظم و نسق اور نظام کو بہتر اور ایک اصول کے تحت چلانے کے لئے لازمی ہے کہ کوئی اس کا رہنما و سرپرست ہو۔ بغیر رہنما کوئی بھی قوم یا ادارہ ایک لمحہ کے لئے بھی آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ ہی ترقی کرسکتا ہے۔ تاریخ عالم کو اگر دیکھا جائے تو نظر آتے ہیں کہ اس کرہ ارض پر ایسے بھی لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے تاریخ رقم کردی۔ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے بہت سارے قومی رہنما ایسے ہیں جنہوں نے اپنی قوم کی رہنمائی کی اور تاریخ میں اپنا نام روشن کیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ان تمام لیڈروں میں منفرد اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ وہ ایسا لیڈر تھا جس کے ہر انداز میں اپنوں کو مطمئن اور غیر کو متاثر کیا۔ انہوں نے منتشر قوم کو متحد کیا۔ کمزور طبقے کو توانا بخشا۔ اس کے فن خطابت سچائی پر مبنی تھی۔ انہوں نے کبھی بھی مصلحت یاکسی مشکل سے بچنے کے لئے کسی غیر سے سہارا نہیں لیا۔ اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنی قوم کی رہنمائی کی اور ایک ایسا اصول اپنایا جو ہر ایک کے لئے مثالی ہے۔ تحریک پاکستان کے سلسلے میں انہوں نے جس ولولے ،جرات اور ہمت سے کام لیا وہ تاریخ عالم کا ایک درخشاں باب ہے۔ وہ جہاں جہاں سے گزرے قوم اور عوام نے ان کا جس انداز سے استقبال کیا وہ بھی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ یعنی بقول احمد فراز !
؂رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہے
چلے تو سارا زمانہ ٹھہر کے دیکھتے ہیں

یعنی کہ ہمارے عظیم اور سچا قائد کا ہر انداز عوام کو متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ جہاں جہاں تقریر کرتے تھے لوگوں کا سمندر امٹ آتے۔ ان کے ہر الفاظ کو لاکھوں عوام ماں کی لوری کی طرح انتہائی سکون اور اطمینان سے سنتے۔ قائد اعظم سیاسی میدان میں وہ عظیم سیاستدان تھے جنہوں نے اپنی سیاسی بصیرت سے کسی بھی سیاسی میدان میں سیاسی مخالفین کو مات دئیے بغیر نہیں رہے۔ ان کا جمہوریت پر پختہ ایمان تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ جمہوریت ہی عوام کو خوشحالی، انصاف، تعلیم ، صحت اور یگر بنیادی ضروریات پورا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ آج بھی ان کی تقریر سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ آج بھی خود کھڑے ہو کر اپنے پاکستانیوں سے گفتگوکررہا ہو۔ اللہ نے ان کے ہر الفاظ کو علم کی طاقت سے نوازا تھا۔ ان کے خطاب کے ہر الفاظ میں علم موجود ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ایک سچے عاشق رسولؐ تھے انہوں نے اپنی زندگی میں اسلامی اصولوں کو بھی انتہائی عقیدت مندی کے ساتھ اپنائے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو غریب اور نادار طبقے سے بے پناہ محبت تھی۔ اپنی بکھری ہوئی قوم کو متحد اور کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ان کے رگ رگ میں جذبہ اور ولولہ موجود تھا۔ ان کے خون میں انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے تڑپ موجود تھی۔ انہیں فرقہ واریت اوردیگر قوم کو منتشر کرے والے رویوں سے سخت نفرت تھی۔ وہ پاکستان کی قوم کو نصحت کرچکی ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کو اپنے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے زندگی بسر کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کے مختلف پہلو کا اگر ہم باریک بینی سے مطالعہ کرے تو آج ہم بہترین پاکستانی کی حیثیت سے ملک عزیز کی خدمت کرسکتے ہیں۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنی پوری زندگی ایک اصول کے تحت گزاری بحیثیت وکیل بھی انہوں نے انصاف کے حصول کے لئے بھرپور کردار ادا کیا اور جو جو بھی مقدمے انہوں نے لڑے ایک بہترین اور ممتاز قانوندان کی حیثیت سے انہوں نے اس کیس کی نہ صرف پیروی کی بلکہ قانون کی اصل روح کو اجاگرکرنے کے لئے بھی مثالی کردار ادا کیا۔ قائد اعظم ؒ نے اپنے مخالفین اور دشمنوں کی ہر قسم کی سازشوں کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیا۔ تحریک پاکستان کے راستے میں پیدا ہونے والے ہر سازش کو انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ناکام کیا۔ پاکستان اور قائد اعظم الگ نہیں، قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان ہے اور پاکستان محمد علی جناح ہے اسی لئے ظفر عباس ظفر نے اپنے شعر میں کہا ہے کہ
ظفر اس پاک دھرتی سے یہی آواز آتی ہے
محمدؐاور علیؑ چاہے تو پاکستان بنتا ہے

یقیناًپاکستان کے حصول میں قائد اعظم نے اپنا آرام ، سکون، وقت الغرض سب کچھ قربان کردی ، انہوں نے پاکستان کی آزادی اور اپنے درمیان آنے والی ہر مشکل کو پالیسی اور حکمت عملی کے ساتھ دشمنوں کے ہر وار کا مقابلہ کیا۔ پاکستان کی آزادی میں کسی بھی سازش کو پنپنے نہیں دیا۔ جس حد تک قائد اعظم نے ایمانداری ، اصول اور حوصلے کے ساتھ تحریک آزادی پاکستان کو چلایا اللہ نے ان کی محنت ، خلوص اور جذبے کو فتح اور کامرانی سے ہمکنار کیا۔ آج پاکستان کے کروڑوں عوام بانی پاکستان قائد اعظم کو روزانہ ان الفاظ کے ساتھ نذرانہ عقیت پیش کررہے ہیں:
یوں دی ہمیں آزادی کی دنیا ہوئی حیران
اے قائد اعظم ترا احسان ہے احسان

اس سال پچیس دسمبر کو پوری قوم بانی پاکستان کی ایکسوبیالیس واں یوم پیدائش منا رہا ہے یقیناًقائد اعظم کی یوم ولادت پاکستانی قوم کے لئے باعث مسرت کے ساتھ ساتھ باعث رحمت بھی ہے۔ یہ وہ قائد ہے جس نے اس قوم کو غلامی سے نکال کر آزادی بسرنے کا ماحول فراہم کیا۔ اندھیرے سے نکال کر روشنی کی جانب لائی۔ انہوں نے قوم سے یہ تاکید کی ہے کہ پاکستان حاصل ہوا ہے اب اس کی تعمیر و ترقی کے لئے ہر ایک کو رات دن کام کرنا ہوگا۔ آج یقیناًہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بانی پاکستان کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے رات دن محنت کرے اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرے۔ قائد اعظم نے تمام پاکستان کی نئی نسل کے لئے جو پیغام دیا ہے وہ اس پر ہمارے نوجوانوں کو من و عن عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم لائے طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments