ڈگری کالج کا واقعہ افسوس ناک ہے اور بے گناہ پرنسپل اور لیکچراروں کی معطلی بلاوجہ ہے۔ آفیسرز ایسوسی ایشن

ڈگری کالج کا واقعہ افسوس ناک ہے اور بے گناہ پرنسپل اور لیکچراروں کی معطلی بلاوجہ ہے۔ آفیسرز ایسوسی ایشن

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(پریس ریلیز) ڈگری کالج کا واقعہ افسوس ناک ہے اور بے گناہ پرنسپل اور لیکچراروں کی معطلی بلاوجہ ہے۔ جن لوگوں نے آگ میں کود کر معصوم اور بے گناہ طلبہ کی لاشیں گرنے سے بچائی ان کو معطل کرنا کوئی دانشمندی نہیں۔ان خیالات کا اظہاآفیسر ایسو سی ایشن گلگت بلتستان کے عہدہ داروں نے اپنی ایک میٹنگ میں کی۔انہوں نے کہا کہ ہماری ایسوسی ایشن نے ہمیشہ انتظامیہ اور حکومت کے مثبت کاموں اور فیصلوں کی کھل کر حمایت کی اور اور اپنے عمل اور کردار سے ثابت کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے آفیسر فرقہ وارانہ لڑائیوں میں ملوث نہیں ہیں۔تاہم اس بات کی پرزورمذمت کرتے ہیں کہ بے گناہ لیکچراروں کو بغیر کسی عذر اور وجہ کے معطلی کرنا ، علاقے میں مزید بدآمنی کی طرف لے جانے کے مترادف ہے۔ ہم محترم چیف سیکرٹری اور دیگر اعلی حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ معطل پرنسپل اور لیکچراروں کوفوری بحال کریں تاکہ کالج میں تعلیمی ماحول کو بہتر طریقے سے بحال کیا جاسکے۔ہم ڈگری کالج میں رونما ہونے والے افسوس ناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور دلی افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔آفیسر ایسوسی ایشن نے کہا کہ کالج کے پرنسپل پروفیسر سر باز خان ، لیکچرر منور حسین، لیکچرر فدا حسین اور لیکچرر امیر جان حقانی کی معطلی کو سراسر نا انصافی اور زیادتی ہے اور متعلقہ حکام سے ان کی معطلی کومنسوخ کرنے/ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ایسو سی ایشن کے عہدیداروں نے کہا کہ پرنسپل اور فیکلٹی ممبرز کو معطل کر کے ان کی عزت نفس مجروح کی گئی ہے اور ہتکِ عزت کی گئی ہے جو مہذب معاشروں میں اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے دوران ڈائریکٹر کالجز ڈاکٹر میر احمد جان ، پرنسپل اور فیکلٹی ممبرز نے کالج کو اپنا گھر جیسا اور طلبا کو اپنی اولاد جان کر اپنی جان کی بازی لگا کر کئی لاشوں کو گرنے سے بچایا جس کے گواہ کالج کے طلبہ و جنرل اسٹاف اورکئی لوگ ہیں۔وزیر اعلی گلگت بلتستان ، گورنر، چیف سیکریٹری اور اعلی حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد معطلی کے احکامات کو واپس لیکر انہیں با عزت طور پر بحال کریں اور تعریفی اسناد سے نوازیں۔اور انہیں اپنے تعلیمی کام کو جاری رکھنے کا موقع دیں۔ جو لوگ معاشرے کو علم کی روشنی عطاء کرتے ہیں ان کو اسطرح رسوا کرنا قطعا دانشمندی نہیں ہے۔ استاد معاشرے کا جھومر ہوتا ہے۔ اس کی قدر ومنزلت معاشرے کے تمام افراد پر فرض ہے۔ ہمیں اپنا یہ فرض باحسن طریقے سے ادا کرنا ہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس واقعہ کی انکوائری کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کمیٹی مکمل طور پر میرٹ اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے اصل ملزمان کی نشاندہی کرے گی۔ او ر کالج اور شہر کے حالات کو خراب کرنے والوں کو کٹہرے پر کھڑا کرکے سزادے گی۔تاکہ آئندہ کسی کو شہر کے حالات خراب کرنے کی ہمت نہ ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔