پرویز رشید کا بیان اور ہمارے عوام

پرویز رشید کا بیان اور ہمارے عوام

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کل تک ہمارے خطے میں ایک طبقہ اس بات پر خوش تھا کہ ہم بھی کسی نظریاتی ملک کا حصہ ہیں. ہمارا خطہ بھی صوبائی حیثیت رکھتاہے ۔لیکن خطے کی آئینی حیثیت کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے حالیہ بیان نے گلگت بلتستان کے باسیوں کو غمگین کر دیا ہے.  جس کے باعث خطے کے کچھ حصوں میں شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔

Sher Ali Anjum مجھے یاد ہے جب 2009پیکج کا اعلان ہوا تھا تو اُس وقت کچھ مقامی قوم پرست رہنماوں نے اُس پیکج کے خلاف مزاحمت کیا تو خطے کے کچھ حصوں میں عوام نے ان قوم پرستوں کیلئے بدعائیں کی تھی کیونکہ اُس وقت عوام سمجھتے تھے کہ یہ لوگ خطے میں بسنے والے بیس لاکھ عوام کو سرزمین بے آئین کا باشندہ کہہ کر قوم اور ملک سے غداری کر رہے ہیں۔آج جب سرکاری سطح پر بھی اس بات کا اعلان ہوا توبھی خطے کے دوسرے علاقوں کی نسبت بلتستان کے عوام میں ذیادہ بے چینی دکھائی دے رہی ہے. کیونکہ بلتستان کے عوام آج بھی خطے کو مملکت پاکستان کا نظریاتی حصہ سمجھتے ہیں. اسی طرح دیامر میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے. وہاں ایک طبقہ عجیب قسم کی دلیل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بات تو بلکل درست ہے کیونکہ گلگت بلتستان آزاد کشمیر کا حصہ ہے اور کشمیر کے حوالے پاکستان کا موقف بلکل واضح ہے وغیر وغیرہ۔لیکن یہ ہنزہ ،نگر ،استور، غذر اور گلگت والے بھی عجیب لوگ ہیں جو پرویز رشید کا شکریہ ادا کر رہے ہیں کہ انہوں نے آئین پاکستان سے وفاداری کرتے ہوئے عوام کو تاریخی حقائق اگاہ کیا۔

یہاں مجھے خوش ہونا چاہئے یا بحیثیت بلتی اس بیان کی مذمت کرنا چاہئے کچھ سمجھ نہیں آرہا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ جو بھی ہوا اچھا ہوا. ہماری آنکھیں کھل گئیں. جو لوگ کل تک الحاق کے حوالے سے جھوٹ بول کر عوام کو دھوکہ دے رہے تھے انکی بھی آنکھیں کھل گئی،اسی طرح اس بار بھی یہی لوگ عوام سے صوبے کے نام پر ووٹ مانگنے کی تیاریاں کر رہے تھے. وہ راستہ بھی بند ہوگیا ۔

دوسری طرف پاکستانی میڈیا بھی اس حوالے سے کچھ حرکت میں آئی کہ آخر ماجرا کیا ہے، کسی نے کسی کی دشمنی میں آئین اور قانون کو پڑھے بغیر وزیر موصوف سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تو کسی نے کسی کی محبت میں اس مسلے پر آئین اور قانون کا سہارا لیتے ہوئے بات کو مزید واضح کر دیا کہ گلگت بلتستان میں ایک صدارتی حکم نامے کے تحت نظام رائج ہے۔ اسی طرح مذہبی پارٹیاں بھی کہاں پیچھے ہٹنے والے تھے انہوں نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پرویز رشید سے گلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا. کیونکہ انکے مطابق جو ہمیں مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ،کہ یہ بیان پاکستان کے ساتھ غداری اور ناقابل معافی جرم ہے .

لیکن سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے کوئی بات آئین اور قانون سے ہٹ کر نہیں کی. لہذا اس طرح کے غیرسنجیدہ بیانات محض عوام میں پذیرائی حاصل کرنے کا شوشہ ہے۔اگر کوئی گلگت بلتستان کے عوام سے مخلص ہے تو اُنہیں چاہئے کہ پاکستان سرکار سے مطالبہ کرے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں آئینی ترمیم کے ذریعے دفاعی ،جعرفیائی اور تجارتی حوالے سے اہم ترین اس خطے کو آئین کے دائرہ کار میں لانے کیلئے عملی جہدجہد کریں. صرف اُن کے بیان پر اعتراض کرنے سے گلگت بلتستان کا مسلہ حل ہونے والا نہیں ہے اور نہ ہی اخباری بیانات سے گلگت بلتستان صوبہ بن سکتا ہے۔اگر ہم موجودہ نظام کی بات کریں جسے ہمارے مراعات یافتہ طبقہ صوبائی حیثیت سمجھتے ہیں،اس نظام سے خطے کے عوام کو کیا فائدہ ہوا کچھ بھی تو نہیں، بس وزیروں کے دن بدل گئے.

جو لوگ کل تک این سی پی گاڑیوں میں گھومتے تھے آج مرسیڈیز رکھتے ہیں اورجو کل تک پنڈی اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے کالونیوں میں مقیم تھے آج پوش علاقوں میں بنگلے خرید لئے ، تو محترم قارئین گزشتہ پانچ سال کے ثمرات دیکھ کرہمیں اگلے پانچ سال کیلئے نمائندہ منتخب کرنا ہے۔ آج اگر پرویز رشید نے آئین پاکستان کی پاسداری کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تو کوئی بڑی خبر نہیں کیونکہ جس نظام کے تحت ہمارے سیاست دان کام کرتے ہیں وہ بھی اس بات سے بخوبی اگاہ ہے کہ گلگت بلتستان آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں البتہ یہاں کے عوام کی وفاداریاں ضرور اس ملک کے ساتھ ہیں جس کے سبب آج یہاں پاکستان کی جڑیں مضبوط ہوتی جارہی ہے۔

لیکن اس وفاداری کا بھی کچھ ثمر ملنا چاہے کیونکہ وفادری کے رشتے کے سبب لالک جان شہید نے کرگل کے محاذ پر ملک کی حفاظت کیلئے جان فداکردیا ،وفادریوں کے ہی سبب این ایل آئی کے جوان جنکا کا عزم ،جوش اور ولولہ دیکھ کر دشمن تو کیا پہاڑ بھی لرزتے ہیں،ہر کڑے وقت میں صف اول میں کھڑا ہوکر دشمن کے سامنے پاکستان کی حفاظت کیلئے دیوار بن جاتے ہیں ۔جی ہاں اسی وفارداری نے تو ساچن کے مقام پر پاکستان کا پرچم لہرایا جارہا ہے ،کے ٹو آپکے نام ہے، دیوسائی کی بلندیاں آپ کیلئے نغمے گاتے ہیں ،سُوست سے لیکر خنجراب اور شندور میں آپ ہی کا چرچا ہے، اس وفا داری کو میں سلام پیش کرتا ہوں جو کچھ نہ ملنے کے باجود وفا کی راہ میں اتنا پُرعزم ہے جس دیکھ کر کے ٹو کی بلندیاں رشک کرتی ہیں سیاچن کے برفیلے پہاڑ گھمنڈ کرتے ہیں۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے حیثیت کو سمجھیں اوراس خطے کو شناخت دیں ورنہ یہاں کے عوام بھی حق رکھتے ہیں کہ مستقبل کیلئے لائحہ عمل طے کریں۔کیونکہ خوش فہمی میں رکھنا ہمارے مسائل کا حال نہیں اس خطے کے عوام کو مکمل پاکستانی ہونے کا یا مکمل گلگت بلتستانی ہونے کا حق ہے۔لہذا ارباب اختیار کو چاہئے کہ گلگت بلتستان کومکمل آئینی حقوق یا مسلہ کشمیر کی حل تک آذاد کشمیر کی طرز کا عبوری نظام حکومت دے کر ستاسٹھ سالہ محرومیوں کا ازالہ کریں۔اللہ باشندگان گلگت بلتستان کو سچ بولنے اور سمجھنے اور اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔