چترال یونیورسٹی میں کانفرنس

چترال یونیورسٹی کے قیام کو ایک سال مکمل ہونے سے پہلے تین بڑے کام ہوئے علم نباتات کے حوالے سے کانفرنس منعقد ہوئی،یونیورسٹی کے گیارہ شعبوں کے تحقیقی مجلّوں کو ISSN میں رجسٹریشن مل گئی،یونیورسٹی کا ماسٹر پلان تیار ہوایہ کام عموماََ پہلے 5سالوں میں ہوتے ہیں یونیورسٹی میں انٹرنیشنل بوٹانیکل کانفرنس اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور اور پاکستان بوٹانیکل سوسائٹی کے اشتراک سے منعقد ہوئی، معاونین میں بینک آف خیبر ، سرحد رورل سپورٹ پروگرام اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام شامل تھے کانفرنس میں جن ماہرین نے مقالے پیش کئے اُن میں امریکہ اور چین کے پروفیسر بھی تھے پاکستان کی یونیورسٹیوں کے نامور سکالر بھی تھے ایسے ماہرین بھی تھے جنہوں نے چترال کی نباتات پر تحقیق کر کے اپنے مقالے بین الاقوامی جرائد میں شائع کئے تھے ایسے سکالر بھی تھے جنہوں نے چترال میں بناتات کی نئی انواع

( Species) دریافت کر کے بناتات کے علم کی عالمی ڈائر یکٹری میں اضافہ کیا تھا ماہرین کی رائے کے مطابق علم نباتات کے حوالے سے چترال کوخصوصی اہمیت حاصل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس خطے میں نباتات کی بے شمار انواع پائی جاتی ہیں دوسرے علاقوں میں ایک ہی نوع کے پودے دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں چترال میں نباتات کی انواع نے پوری دنیا کے ماہرین کی توجہ اس علاقے کی طرف مائل کی ہوئی ہے یونیورسٹی آف سوات کے ڈاکٹر حیدر علی نے اپنی تحقیق کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کراچی یونیورسٹی کے مجموعہ نباتات ( Herbarium)کے لئے 10ہزار انواع کی نباتات کے نمونے چترال کے پہاڑی سبزہ زاروں سے جمع کئے ان میں سے 1500انواع کی سائنسی چیک لسٹ تیار کی گئی ہے ان میں سے 61انواع ایسی ہیں جو چترال کے سوا کسی اور خطے میں نہیں پائی جاتیں دو انواع ایسی ہیں جن کو نباتاتی سائنس کی دنیا میں نئی دریافت کا درجہ حاصل ہوا ایک کو دریافت کرنے والے سائنسدان کے نام پر Hedysarum Aliiکا نام دیا گیا ہے دوسرے کو اس کے مسکن Habitatکے نام پر Hedysarum Shahjinaleuseکا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ چترال کے شمال میں تحصیل تورکھو کی مشہور چراگاہ شاہ جنالی میں اُگتا ہے اس تحقیق کے نتیجے میں پاکستان کے نباتاتی علم کا ذخیرہ وسیع ہوا ہے ا س میں 35نئے ریکارڈ شامل ہوئے ہیں جو چترال کی نباتاتی دولت کا ثبوت ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ چترال دنیا کے ایسے خطے میں واقع ہے جس کو فائیٹو جیو گرافک ریجنز کے حساب سے ایرانو تورانین ریجن ( Irano Toranian Phytogcographic region) کا خصوصی نام دیا گیا ہے پشاور یونیورسٹی کے ڈاکٹر سراج الدین نے عالمی حدت، موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی تنزل کے حوالے سے دلچسپ اعداد و شمار پیش کئے انہوں نے کہا کہ نباتات کا تعلق موسم، مٹی اور پانی کے معیار کے ساتھ ہے 2018ء میں دنیا کے اندر روزانہ 35لاکھ ٹن کوڑا کرکٹ جمع ہوتا ہے اور دو لاکھ 70ہزار ٹن پلاسٹک ہر روز سمندروں میں پھینکا جاتا ہے گذشتہ 30سالوں میں دنیا کے 30 فیصد چشمے خشک ہوچکے ہیں پہاڑوں کا 40فیصد برفانی ذخیرہ (گلیشئر) پگھل کر ختم ہوچکا ہے اور یہ صورت حال نباتات کے مستقبل کے لئے خطرہ ہے مجھے نیپال کے ایک شاعر کی نظم یاد آئی شاعر کہتا ہے کہ ابن آدم ! تو نے روپیہ کمانے کیلئے جنگلوں کو تباہ کیا، باغوں کو ویران کیا، سمندروں کو آلودہ اور برف زاروں کو برباد کیا اگر یہ سب کچھ نہیں رہا تو مجھے بتاؤ تمہاری آنے والی نسلیں کیا کھائیں گی کیا روپیہ کھا کر زندہ رہ سکیں گی؟ کانفرنس کا مقصد چترال اور ملحقہ علاقوں میں پائی جانیوالی نباتات کو کمپیوٹر کے ڈیٹا بیس Data Baseمیں ڈالنا تھا اور دستاویزی حیثیت دیکر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا میں متعارف کرانا تھا کانفرنس کے کئی ٹیکنیکل سیشن بھی منعقد ہوئے جن میں امریکہ ، چین اور پاکستان کے ماہرین نے نباتات کی دستاویز بندی اور ڈیجیٹلائزیشن میں 22 نوجوان محققین اور نئے ماہرین کی تربیت کرکے ان کو سرٹیفیکیٹ دیئے کانفرنس کی 12نشستوں کے44مقالہ نگاروں میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور، یونیورسٹی آف سوات ، یونیورسٹی آف ملاکنڈ ، شہید بے نظیربھٹو یونیورسٹی اپر دیر ، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد ،یونیورسٹی آف پشاور اور سندھ یونیورسٹی جام شورو کے محققین شامل تھے امریکہ کی اوتاہ سٹیٹ یونیورسٹی لوگن سے انٹر ماونٹین ہر بیریم کی ڈائریکٹر اور دنیا کی مشہور ماہر نباتات پروفیسر ڈاکٹر میری ایلزبتھ بارک وارتھ اور چائینیز اکیڈمی آف سائنسز میں نارتھ ویسٹ انسٹیٹیوٹ آف پلیٹو بیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر شینگ فائچی نے کانفرنس میں دنیا بھر کی نباتاتی تحقیق کے حوالے سے اہم انکشافات کئے اور نوجوان محققین کی تربیت کے لئے سہولت کار کے فرائض انجام دیئے کانفرنس میں پروفیسر عبد الرشید ، ڈاکٹر سراج الدین ، ڈاکٹر حیدر علی، ڈاکٹر طور جان ، پروفیسر ظہور الحق ، پروفیسر ڈاکٹر رابعہ اسماء میمن ، ڈاکٹر پلوشہ ، ڈاکٹر محمد لائق ، ڈاکٹر محمد شعیب امجد ،پروفیسر امین الرحمن ، ڈاکٹر سمیرا شاہ،

ڈاکٹر رحمان اللہ ، ڈاکٹر زاہد افضل ، ڈاکٹر تاج یوسف خان ، ڈاکٹر اجمل اقبال ، ڈاکٹر فضل ہادی، ڈاکٹر سیدمکرم شاہ، ڈاکٹر اسراراحمد ، ڈاکٹر حرا وہاب ، ڈاکٹر امین اللہ جان ، ڈاکٹر آصف رضا کی شرکت نوجوان سکالروں کے لئے باعث تقویت بنی چترال یونیورسٹی کے شعبہ نباتات کے سربراہ ڈاکٹر اشفاق حمید کیساتھ ڈاکٹر حفیظ اللہ، ڈاکٹر محمد رومان اور ان کے رفقاء نے دن رات محنت کرکے کانفرنس کو کامیاب بنایا یونیورسٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری اور ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ارشاد سو ڈھیر نے باہر سے آنے والے ملکی اور غیر ملکی مندبین کا خیر مقدم کر کے چترال یونیورسٹی اور اس میں ہونے والی علمی و تحقیقی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی آخری دن یونیورسٹی کا فاؤنڈیشن ڈے چراغان ، آتش بازی اور مشاعر ے کے ساتھ منایا گیا اس موقع پر ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ اورسینئر قانون دان عبد الولی خان عابد نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر انتظامیہ کی سعی کو سراہا علامہ اقبال نے سچ کہا ہے ؂

افکار تازہ سے ہے جہاں نو کی نمود

کہ سنگ و خشٹ سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments