تنظیم اساتذہ شگر کے عہدیداروں نے حلف اٹھا لیا

TAAS

شگر(عابد شگری) اساتذہ اپنے پیشے اور استادکی نام کی تقدس اور حرمت کو برقرار رکھیں۔اساتذہ کو اپنی حقوق کے بجائے طلباء اور بچوں کی حقوق پر توجہ دینے کی ضرورت ہیں۔مراعات بہت مل چکی ٹیچر حضرات اب بچوں کی پڑھائی پر توجہ دیں۔اپنے حقوق کی جدوجہد میں طلباء کے حقوق پامال نہ کریں ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر ایجوکیشن بلتستان فیض اللہ لون،تحصیلدار شگر محمد جعفر،ڈی ڈی ایجوکیشن حاجی محمد ابراہیم اور دیگر مقررین نے تنظیم اساتذہ شگر کے نومنتخب صدر ناصر حسین کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔مدرس ناصر حسین نے صدر تنظیم اساتذہ شگر کے حیثیت سے حلف اُٹھالیا۔ اس موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا تقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹر فیض اللہ لون تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر تنظیم اساتذہ شگر ناصر حسین اپنے اپر اعتماد کرنے اور تعائون کرنے پر تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت صدر تنظیم اساتذہ کے وہ اساتذہ سے زیادہ سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی حقوق کی محافظ بنوں گا۔لیکن اگر کسی استاد کی حق تلفی یا اساتذہ کی حق ضائع ہورہا ہو وہاں بھی آواز بلند کرتا رہوں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ شگر کے دس یونین کونسلوں میں موجودپرائمری سکولوں کی نگرانی کیلئے گذشتہ ایک سال سے کوئی اے ڈی آئی تک نہیں ۔تحصیلدار شگر محمد جعفر نے کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ بلتستان کے تمام علاقوں میں سب سے کم تعلیمی شعور اور کم لٹریسی ریٹ شگر میں ہی۔برالدو اور باشہ ویلی کے سکولوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ایک ایک اساتذہ پانچ پانچ کلاسوں اور سینکڑوں طلباء و طالبات کو پڑھانے پر مجبور ہیں جبکہ شگر کے سنٹر کے چار یونین کونسلوں میں اساتذہ کی ہونے کی بائوجود سالانہ امتحان کی رزلٹ مایوس کن ہی۔مہمان خصوصی ڈائریکٹر ایجوکیشن بلتستان فیض اللہ لون نے اپنے خطاب میں کہا انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اس ملک میں پاک فوج کے بعد سب سے زیادہ اثرورسوخ کے حامل محکمہ تعلیم کا محکمہ اور استاد ہے ۔لیکن فوج میں ڈسیپلین کی وجہ سے سب جگہ عزت سے دیکھا اور مثال دی جاتی ہے جبکہ ہمارے اساتذہ میں ڈسیپلین کی شدید فقداں ہے ۔ایک استاد معاشرے کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے لیکن ہمارے اساتذہ کا توجہ بچوں کو پڑھانے سے زیادہ بزنس پر توجہ زیادہ ہے ایسے لوگوں کو استاد کہنا استاد کی نام کی توہین ہے ۔وہ ایک ٹھیکیدار،کاروبار فرد اور دکاندار ہوسکتا ہے لیکن ایسے شخص کو استاد نہیں کہا جاتا۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے آفس کی دروازہ استادوں کی جائز کاموں کیلئے چوبیس گھنٹے کھلا ہے لیکن ٹھیکیداروں اور دکانداروں کیلئے نہیں۔انہوں نے اساتذہ کومتنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اپنے نام اور پیشے کی تقدس اور حرمت کو بحال اور برقرار رکھیں۔اگر کوئی بھی استاد پڑھائی کے علاوہ کہی پر کاروبار یا سائڈ بزنس کرتے ہوئے ہمارے نوٹس میں آئے انہیں نہیں بخشا جائے گا۔انہوں نے تنظیم اساتذہ کے صدور کو تاکید کی کہ وہ اپنے فرائض منصبی کو بھول کر صرف پریشر گروپ نہ بنیں بلکہ اپنے سکولوں میں ڈیوٹی کو یقینی بنائیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments