چرائی تناذعہ، سینگور چترال سے بیدخلی کے خلاف گجر برادری کا احتجاجی دھرنا

چرائی تناذعہ، سینگور چترال سے بیدخلی کے خلاف گجر برادری کا احتجاجی دھرنا

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

796

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے مضافاتی علاقے سینگور سے تعلق رکھنے والے گوجر برادری کے خواتین اور بچوں نے ڈسٹرکٹ کونسل گیٹ کے سامنے دھرنا دیا تھا۔ دھرنا سے حاجی محمد شفاء اور حاجی انذر گل دروش نے احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی مذمت کی کہ گوجر برادری کے لوگ انتظامیہ سینگور سے نکال رہے ہیں۔ اس دوران گوجر برادری کے خواتین اور بچو ں نے مین روڈ بھی بلاک کرکے روڈ پر دھرنا دیا۔انہوں نے حبردار کیا کہ ہم ایسا ہر گز نہیں ہونے دیں گے۔

تاہم سینگور سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن نے بتایا کہ سینگور میں گوجر برادری اور مقامی لوگوں کے درمیاں ایک تحریری معاہدہ ہوا تھا کہ وہ لوگ اپنے بکریوں کو دس سال تک آبادی کے اندر نہیں لائیں گے کیونکہ ان بکریوں کے چرانے سے جنگلات تباہ ہوتے ہیں ، چھوٹے پودے وہ بیچ سے اکھاڑ تے ہیں اور جنگلات کا حتم ہونا سیلاب اور قدرتی آفات کا باعث بنتا ہے۔

اسلئے ان لوگوں کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا کہ دس سال تک بکریاں آبادی کے اوپر پہاڑی سلسلے اور جنگل میں نہیں لائے گے تاکہ جو چھوٹے پودے ہیں وہ بڑے ہوکر جنگل کامیاب ہو۔ مگر ان لوگوں نے معاہدے کی حلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے بکریاں لائے جس کی وجہ سے دوسرے گروپ نے ان کے حلاف انتظامیہ اور عدلیہ سے رجوع کیا اور اس دوران قریبی جنگل سے نہایت بے دریغ کٹائی ہوئی۔

اس سلسلے میں جب ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر عبد الاکرم سے رابطہ کرکے ان کا موقف لیا تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ ان لوگوں نے تحریری معاہدہ وڑا ہے ۔ چترال میں جنگلات کی حفاظت کیلئے پہلے سے ایک دستور عمل موجود ہے جس کے تحت محتلف علاقوں میں ایک محصوص عرصے کیلئے بکریوں پر پابندی لگادی جاتی ہے تاکہ وہاں چھوٹے پودے بڑے ہوکر جنگل محفوظ ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے علاقے اور عوام کے مفاد کے پیش نظر ایک عدالتی فیصلہ کیا اور اس کے حلاف یہ لوگ غیر قانونی طور پر احتجاج کرتے ہیں۔

بعد میں گوجر برادری کے رہنماء ڈپٹی کمشنر سے ملے اور کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا حتم کیا۔

واضح رہے کہ چترال کے اکثر بزرگ شہریوں کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں بکریاں پالے جاتے ہیں وہا ں ایک طرف جنگل حتم ہوتا ہے تو دوسری طرف ان بکریوں کے چلنے پھرنے سے وہاں پھتر بھی ہل جاتے ہیں جو معمولی بارش میں بہت بڑے سیلاب کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے انسانی جان اور مال کو بہت نقصان پہنچتا ہے یہی وجہ ہے کہ چترال کے بزرگوں نے مقامی طور پر ان جنگلات کی حفاظت اور سیلابوں سے بچاؤ کیلئے ایک دوستور عمل تیار کیا ہے جس کے تحت محصوص علاقوں میں ایک حاص عرصے کیلئے بکریوں پر پابندی لگائی جاتی ہیں تاکہ اس علاقے میں چھوٹے پودے بڑے ہوکر جنگل محفوظ ہوسکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔