گزشتہ دو سال سے گلگت بلتستان میں پولیو کا کوئی کیسز سامنے نہیں آیا ہے، حمزہ سالک

IMG_4975 (800x533)
گلگت( فرمان کریم) اے سی گلگت محمد حمزہ سالک نے کہا ہے کہ محکمہ صحت پولیو کے خاتمے کے لئے عوامی شعور اجاگر نے میں اپنا رول ادا کرے۔ تاکہ آیندہ نسلوں کو ایک مفید معاشرے دے سکے۔ ان خیالات اُنہوں نے محکمہ صحت کی طرف سے پولیو مہم کے متعلق ایک روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے گلگت بلتستان میں پولیو کا کوئی کیسز سامنے نہیں آیا ہے۔ جو کہ خوش آیندہ ہے اور امید ہے کہ محکمہ صحت مستقبل میں بھی پولیو کی خاتمے کے لئے اپنا کرداد ادا کرئیگا۔ ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون کر ئیگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ایچ او ڈاکٹر اسراراحمد نے کہا کہ گزشتہ14سال سے گلگت بلتستان پولیو فری زون قرار دیا گیا تھا۔ مگر2011 اور 2012 میں دو کیسز سامنے آیا ۔ یہ کیسز صوبہ کے پی کے کے علاقے سوات سے گلگت بلتستان میں منتقل ہوا تھا۔ محکمہ صحت نے اس پر قابو پانے میں کامیاب ہوا اور 2013 2014,میں کوئی کیسز سامنے نہیں آیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پہلی بار گلگت بلتستان میں نمونیا سے بچاو کے لئے ٹیکہ متعارف کرایا ہے۔ یہ ٹیکہ پاکستان میں 2012 جبکہ گلگت بلتستان میں 2014 میں متعارف کروایا ہے۔ ہر سال پاکستان میں 8 لاکھ سے زائد بچے نمونیا کا شکار ہوتے ہیں شعور وآگاہی نہ ہونے سے چار لاکھ سے زائد بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔نمونیا سے بچانے کے لئے ایک مخصوص ٹیکہ متعارف کیا ہے امید ہے کہ عوام نمونیا سے بچاو کے لئے محکمہ صحت سے تعاون کرینگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت