نگران حکومت کے وزیر

نگران حکومت کے وزیر

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ذوالفقار علی غازی

caretakerبہت چھان پٹکھ کر نگران وزرا کا انتخاب کیا گیا ہے، ایک مرتبہ نہیں بلکہ ہزار مرتبہ سوچ کر کابینہ کے لئے ہم ہی میں سے چھ لوگوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔اب ہم استوری بھی ہیں ، چلاسی بھی، بلتی بھی اور پنیالی بھی، ہم ہی ہنزہ کے ہیں اور ہم ہی نگر کے، ہم ہی ہیں جو داریل اور تنگیر کے ہیں، ہم ہی غذر کے ہیں اور ہم ہی گلگت کے۔بات سمجھنے کی ہے اگر کوئی سمجھے تو ورنہ ہم امپھری اور لالی محلے کے ہی رہیں گے۔ اس پر بھی اعتراض اور کہنا کہ نظرانداز ہوے؟ بھائی وزارت ہے گندم نہیں کہ کوئی کوٹہ مقرر کرے ؟سمجھ سے بالاتر بات ہوتی جا رہی ہے، گندم کا کوٹہ لینے والے عوام کو کوٹہ کی بیماری سے نکل کر اگے بڑھنا ہوگا ، تعصب اور تنگ نظری کا چشمہ پہنے سے ساری دنیا الٹی نظر آنے لگتی ہے۔ اور دنیا کو سیدھا دیکھنے کے لئے الٹا لٹکنا پڑتا ہے۔ الٹا لٹکنے سے بہتر ہے کہ وہ چشمہ ہی اتار دیا جاے۔ کتنے وزیر منتخب ہوے ہیں؟ صرف چھ، اب بتائے کہ گلگت ۔ بلتستان کی آبادی کتنی ہے؟ کسی کو نہیں معلوم اس کا علم تو اس ادارے کو بھی نہیں جس کا کام ہی آبادی کا حساب رکھنا ہے، پر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔ چونکہ نظام ہی اندزوں پر چل رہا ہے لہذا ہمیں بھی اسی طریقے سے کام لینا ہوگا۔ باقی ملک میں ادارے اس لئے بناے جاتے ہیں کہ صاحب اقتدار لوگ اپنے لوگوں کو کھپا سکیں۔کبھی کبھار جب کوئی اپنا مہیا نہ ہو تو کسی عام شہری کو بوجہ نوکری دے کر کسی حد تک بے روزگاری کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔اب کام سے کسی کو کیا لینا دینا، کون حساب رکھے کہ آبادی کس حساب سے بڑھ رہی ہے؟ اس متعلقہ ادارے کے ایک( فارن )افیسر کو یہ بھی نہیں معلوم کہ گلگت آفس میں کتنے لوگ کام کر رہے ہیں ۔ اب ان حالات میں امور مملکت چونکہ اندازں کی بنیاد پر ہی چلائی جا رہی ہیں ۔ لہذا اندازوں کے مطابق گلگت۔بلتستان کی کل آبادی تقریباً 15لاکھ نفوس پرمشتعمل ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ اس آبادی کا اندازہ کس نے کس بنیاد پر لگایا ہے۔ بہر حال سنا ہے اس لئے لکھ رہے ہیں ۔ اب پندرہ لاکھ میں سے صرف چھ کو چنناّ یقین جانئے بہت مشکل کام تھا۔ اکیلے وزیراعلیٰ کے لئے یہ ممکن نہیں تھا لہذا کسی حد تک باوثوق ذرایعے کے مطابق اسلام آباد سے گلگت۔بلتستان کے معملات دیکھنے والی ایک دفتر نے معاونت کی ورنہ مدت کے ختم ہونے تک بھی وزرا کا انتخاب ممکن نہیں تھا۔ اب اندازوں کے مطابق ، آپ اندازہ لگائے کہ کس طرح سے سلکشن ہوئی ہو گی؟

کچھ لوگ نہ جانے کیوں اس بات پر برہم ہیں کہ اخبار میں اشتہار نہیں دیا گیا؟ ان سے عرض ہے کہ حکومت کو وزیر چاہئے تھے نہ کہ محکمہ خوراک کے لئے چوکیدار۔ چپڑاسی، چوکیدار، مالی، خانسامہ، دایا، خاکروب جب لگانے ہوتے ہیں توخالی اسامی کو مشتہر اس لئے کیا جاتا ہے کہ ہم سب درخواست داخل کر سکیں، آخر کو پچانوے فیصد آبادی انڈر میٹرک ہے۔باقی نوکریوں کے لیے بھی اشتہار اخبارات میں آتے رہتے ہیں کیونکہ ان تمام نوکریوں کے لئے تعلیمی اسناد کی ضرورت ہوتی ہے لہذا لوگوں سے اسناد جمع کرانے کے واسطے اشتہار دیے جاتے ہیں۔ اپ کا فرمانا سو فیصدی صحیح ہے جب کہ چوکیدار لگنا ہو تو بھی اثرورسوخ کے ساتھ کسی حد تک رشوت کی بھی ضرورت ہوتی ہے، تو کیا وزیر ایسے ہی لگتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تو وہ دے سکتے ہیں جو وزیر لگے ہیں ۔ بہر حال لابینگ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جناب شیر جہان میر نے پوری کوشش کی ہے جبھی تو متقی اور پرہیزگار لوگوں پر مشتعمل ایک پاک و صاف نگران کابینہ بنی ہے جو لوگ مکاتب فکر اور علاقائی نمایندگی کو لے کر شور کر رہے ہیں وہ دراصل کابینہ کو سیاسی لوگوں کی امیزش کے ذریعے ناپاک کرنا چاہتے ہیں۔

یقین جانئے سابق نالایق حکومت نے اداروں کا وہ برا حال کر رکھا ہے کہ ہر ادرے کا چلنا محال ہوگیا ہے، سبھی اداروں کے ٹائیرز میں رشوت، اقرباپروری اور نہ جانے کتنے اور قسموں کی کیلیں ٹھوک کر گئے ہیں ۔لہذا نئی کابینہ میں صرف ایسے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو کیلیں نکالنے کے ساتھ ساتھ پنکچر لگا کر ہوا بھی بھرنے کے قابل ہیں بلے بجلی ہو نہ ہو۔ کچھ حضرات بہت مضطرب ہیں کہ ایک جماعت کے سابق امیر کو بھی کا بینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ کیوں بھائی ایسا کھاں لکھا ہے کہ کوئی سابق امیر کابینہ کا ممبر نہیں بن سکتا؟ جسے جماعت چلاتے رہے ویسے وہ وزارت بھی چلاینگے۔ایسے ہی لوگ پنکچر لگانے میں ماہربھی ہوتے ہیں، ہوا بھرنے میں تو ان کا کوئی ثانی ہی نہیں ایک جرنیل صاحب میں انہیں نے اتنا بھرا کہ صاحب امیر بنتے بنتے صدر بن بیٹھے۔

ویسے ایک بات ڈسٹرب کر رہی ہے اگر یہ پاک صاف، متقی ، پرہیزگاروں پر مشتعمل کابینہ پرفام نہیں کر پائی تو؟ اس کابینہ کی ذمداریوں میں صاف شفاف الیکشن کرانا تو ہے ہی، اس کے علاوہ جب تک کہ نئی حکومت نہیں بنتی صوبے کے صوبائی امور بھی چلانے ہیں۔ یاد رہے یہی وہ تین مہنے ہیں جن میں وزرا کی کارکردگی علاقے کی مذہبی، لسانی، علاقائی اور نسلی تعصبات کے حوالے سے صوبے کی مستقبل کا تعین کرییں گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔