دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تہمی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

تحریر : شمس الحق قمر

بیٹھے بیٹھے خیال  آیا کہ ہمارے ملک کے  ایک سابق وزیر اعظم نے چترال کے اپنے  ایک  دورے کے دوران اپنے خطاب میں اپنی زبان دانی کا بڑا چرچا کیا تھا ۔ اُن کی نظر میں اُردو زبان کی جانکاری تہذیب یافتہ ہونے کی علامت تھی۔ سنا ہے کہ وہی وزیراعظم اب نا اہل ہونے کے بعد دوبار ہ چترال کی طرف آنے والے ہیں( یاد رہے کہ ہم نے عدالت سے پہلے ہی اُسے نا اہل قرار دیا تھا ) ۔ اب معلوم نہیں کہ آپ اپنا پلڑا کیسے ہم پر بھاری رکھنے کی کوششس کریں گے ۔ پچھلی بار موصوف  نے جس ہلکے انداز سے ہم لوگوں سے  گفتگو فرمائی اُس پر ہمارے بہت سارے رفقأ برہم ہوگئے۔ اس ناراضگی کے پیچے کئی ایک سوچ کار فرماتھیں ۔ ہم میں سے بہت سوں  نے یہ سوچا کہ خیر ہے جانے دے انسان ہے کبھی کبھار زبان پھسل جاتی ہے ، بعض کا یہ خیال تھا کہ موصوف اپنے آپ کو باقی تمام انسانوں سے افضل سمجھتا ہے اس لئے جو بھی منہ میں آتا ہے بکتا ہے تاہم مسافروں پر کتے کے بھونکے پر فرق نہیں آتا  اور کچھ  سیانوں نے نا اہل بھائی  کے ماتھے پر دیوانہ پن کا لیبل ہی چسپان کر لیا ۔

موصوف کی  اس  بچگانہ حرکت پر میں بھی بڑا سیخ پا ہوا تھا  ایسا لگتا تھا کہ کہیں غلطی سے بھی ملاقات ہو تو جھنجھوڑ کر بلکہ گریبان میں ہاتھ ڈال کر پوچھ لوں  کہ  نمک حرام انسان ! ہم نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرکے تہمیں اپنا لیڈر چنا تھا اور تم ہو کہ ہمیں مال مویشیوں سے بھی بد تر سمجھتے ہو ۔ دوبارہ چترال کا نام بھولے سے بھی اگر لیا نا۔۔۔۔ تو۔۔۔ تو  تمہاری یہ اُردو بولنے والی زبان کاٹ کے رکھدوں گا ۔ کیا تہمارے ماں باپ نے تمہیں تہذیب نہیں سکھائی ہے کہ انسانوں سے کس انداز سے گفتگو کرتے ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ ہم کچھ نہیں سمجھتے ہیں  حالانکہ ہم سمجھتے ہیں کہ تہماری  اس سمجھ میں فتور ہے  ۔تہمیں معلوم ہونا چاہئے  کہ منہ میں ہم بھی زبان رکھتے ہیں لیکن ہم مہذب قوم  ہیں اس لیئے اپنا منہ بند رکھتے ہیں ۔ ورنہ کیا بات کر نہیں آتی ۔  ہم سبق تو سکھا سکتے ہیں لیکن مہمانوں کے ساتھ ایسا سلوک ہمارے کلچر کے اصولوں کے منافی ہے۔

          لیکن اب مجھے احساس ہونے لگا ہے کہ میں غلطی پر تھا کیوں کہ جو انسان اپنی زبان کے درست استعمال پر قادر نہیں وہ ذہنی معذور ہے ، مجبور ہے اور وہ بیمار و لا چار  ہے لہذا بجائے اس کے کہ ہم اُنہیں بے نقط سنائیں ، ہمارا فرض بنتا ہے کہ ایسے مریض کو اخلاقیات کے کسی پروفیسر  سے ایک دو لکچر دلوائے ۔  لیکن مسئلہ یہ ہے کہ  ساٹھ سال کے بعد  ایک ایسے انسان کو سکھانا کہ جس نے پوری زندگی کچھ بھی نہیں سیکھا ہو کہ کیا سیکھنا ہے ،  مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔البتہ اس مرتبہ ہم اُن کی پارٹی کے بڑے مگر مچھوں سے  گزارش کرتے ہیں  کہ اب کی بار چترال آنے سے قبل اُن کی زبان کو لگام دیا جائے ۔ انہیں بتا یا جائے کہ جو طرز گفتگو وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ اپناتا ہے وہ چترال میں استعمال نہ کرے۔

یاد رہے کہ  چترال  اور گلگت میں مہمان کی حیثیت سے  وارد  ہونے والا  کوئی بھی نامعقول انسان  اپنا دامن( چاہے جتنا بھی غلیظ کیوں نہ ہو ) میزبانوں کی محبتوں کی موتیوں سے لبالب بھر کے واپس ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ وہ یہاں کے باسیوں کے خلوص کو کس کسوٹی پرکھتا ہے ۔

ہرایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا؟

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments