گلگت بلتستان عبوری کابینہ میں ہنزہ کو نظر انداز کرنا سنگین مذاق ہے

گلگت بلتستان عبوری کابینہ میں ہنزہ کو نظر انداز کرنا سنگین مذاق ہے

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
Wazir Baig speaker GBLA

Wazir Baig speaker GBLA

ہنزہ نگر (بیورو رپورٹ ) گلگت بلتستان عبوری کابینہ میں ہنزہ کو نظر انداز کرنا سنگین مذاق ہے نگران وزیر اعلی شر جہان میر کے بیان کے مطابق اسپیکر کا تعلق بھی اسی علاقے سے اسپیکر کا اس کابینہ سے منسلک کرنا بھی زیا دتی ہے ۔ اسپیکر وزیر بیگ سب سے پہلے ہنزہ کے عوام کا منتخب نمائندہ ہے اور سابق صوبائی حکومت نے اسمبلی میں اسپیکر منتخب کیا تھا اور آئین کے تحت نئے اسپیکر کے انتخاب ہونے تک اسپیکر رہ سکتے ہے مگر اس کے پاس کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی عوام ہنزہ کے لئے کوئی فائدہ ہے اگر ان کے اوپر کوئی اخراجات اتے ہے تواس سے عوام ہنزہ کا کوئی سروکار نہیں ۔تاہم حالیہ موقع پر عبوری کابینہ کی تشکیل میں ہنزہ کو نظر انداز کر کے مسلم لیگ ن کے حکومت نے عوام ہنزہ کے ساتھ شدید زیا دتی کی ہے۔ ا۔ دس ہزار سکوائر کلو میٹر پر پھیلے ہو ئے علاقے کی سرحدیں چین جو کہ پاک چین دوستی کی علامت ہے اور تجارت کے لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل خطہ ہے اور اس راستے سے کاروبار ہونے کی وجہ سے اربوں روپے پاکستان کے خزانے میں اتے ہے مگر اس سے عوام ہنزہ کواب تک کسی قسم کا فائدہ نہیں ہوا ہے۔۔ ان خیالات کا اظہار علاقے سے تعلق رکھنے والے سابق ، ڈسٹرکٹ اوریونین کونسلرز، نے میڈیا کے ساتھ خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کہا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہنزہ سیاحوں کی مسکن ہونے کی وجہ سے سیاحت کی فروگ میں پاکستان کا پہچان ہے جب سیاحت کو فروغ دینے کے لئے حکومت مختلف فیسٹول کے لئے ہنزہ کا انتخاب کرتی ہے تو عوام ہنزہ نے بڑھ چڑ کر حصہ لیا ہے گلگت بلتستان کے آزادی میں ہنزہ کے سپوت صف اول میں ہے جس کی گواہی چنار باغ کے وہ شہداء ہے جو روزانہ کے بنیاد پر گلگت بلتستان کے اسمبلی کے ممبران اسمبلی کے حاطے میں وہ شہداء آبدی نیند سو رہے ہیں۔جب عوام کو جائز حقوق دینے کی باری آتی ہے تو اہلیان ہنزہ کو ہمیشہ دیوار سے لگایا جاتا ہے۔ 70ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل اس خطے کو گلگت بلتستان اسمبلی میں پچھلے 20سالوں سے مختلف حکومتیں عوام ہنزہ کو دھوکے میں رکھتے ہوئے گلگت بلتستان اسمبلی میں ایک ہی سیٹ دیکر عوام ہنزہ کا درینہ مطالبہ کسی بھی سابقہ حکو متیں سننے کے لیے تیار ہی نہیں انھوں نے مزید کہاکہ ہنزہ اور نگر ہمشیہ سے الگ الگ ریاستیں رہ چکی ہے اور پاکستان کے ساتھ الحاق ہوئی عوام ہنزہ نگر نے الگ الگ موقعوں پر کیا ہے نہ صرف الحاق کیا بلکہ پاکستان کے ساتھ چین کی دوستی کرانے میں میرجمال خان میر آف ہنزہ کا اہم کردار رہا ہے پاکستان اور چین کا دوستی ہوئے 100سال بھی نہیں ہوا مگر اسٹٹ آف ہنزہ پچھلے کئی سو سالوں سے تھی۔جب 1974ء میں ریاست ہنزہ کو ذولفقار علی بھٹو نے ریاست کو ختم کیا تو ہنزہ کو کوایڈیشنل ڈسٹرکٹ کا درجہ دیا گیا تھا لیکن بد قسمتی سے اس وقت کے حکمرانوں نے ایک اور ذیادتی کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کو ختم کر دیا گیا۔ زیادتیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے نہ صرف اسمبلی میں سیٹ ے محروم کیا بلکہ سابق صدر پرویز مشرف نے سب ڈویثرن ہنزہ کو الگ ڈسٹرکٹ کا درجہ دیا تھا لیکن سب ڈویثرن نگر کو بھی اس میں شامل کرتے ہوئے زیادتیوں کے سلسلے کو آگے بڑھادیا۔ انھوں نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے ہنزہ کے عوام کے ساتھ ہونے والی مختلف قسم کے ان ناانصافیوں کی وجہ سے عوام ہنزہ میں تحفظات اور بے چیناں جنم لیتی ہے ان کو د ور کرنے میں فی الفور اقدامات کیا جائے بصورت دیگر عوام ہنزہ کو مجبورًاً اپنی جائز حقوق کے حصول کے لئے احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنا پڑے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔