تحریک انصاف نے پنجاب میں معدنیات کی دریافت اور کان کنی کا عمل شفاف بنانے کا مطالبہ کردیا

تحریک انصاف نے پنجاب میں معدنیات کی دریافت اور کان کنی کا عمل شفاف بنانے کا مطالبہ کردیا

53 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

chiniot

اسلام آباد ( پریس ریلیز) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سیف اللہ خان نیازی نے وفاقی و پنجاب حکومتوں سے معدنیات کی دریافت اور کان کنی کا عمل شفاف بنانے اور بیش قیمت قدرتی وسائل سے حاصل شدہ آمدن کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے مسلم لیگ نواز کی حکومت چنیوٹ کے مقام پر کاپر اور لوہے کے پہلے سے دریافت شدہ ذخائز کی از سر نو دریافت کی داد سمیٹنے کی بجائے صحیح معنوں میں معدنی وسائل کے استعمال کیلئے مربوط اور جامع حکمت عملی مرتب کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اٹھاوریں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں پر لازم تھا کہ وہ اپنے معروضی حالات کے پیش نظر معدنی پالیسی اور اس سے متعلق قانون سازی مکمل کریں جس میں پنجاب کی حکومت بالکل ناکام ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف ملک کی پہلی معدنی پالیسی شائع کر چکی ہے بلکہ بغیر حکومتی سرمائے کے تصرف کے قیمتی پتھر کاپر اور سونے کے چھوٹے ذخائر دریافت کر چکی ہے جبکہ مسلم لیگ نواز کی صوبائی حکومت نے چنیوٹ میں پہلے سے دریافت شدہ ذخیرہ کی از سر نو دریافت پر تقریباً1ارب روپے خرچ کئے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت معدنیات کی دریافت کان کنی کے لائسنزکے اجراء اور دریافت شدہ معدنی وسائل سے حاصل کردہ آمدن کا بہتر تصرف یقینی بنائے اور اسے عوام کی فلاح و بہبود اور معدنیات کے شعبے کی ترقی پر استعمال کرے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد سے جاری اپنے خصوصی بیان میں کیا۔ ان کاکہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے پاکستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال ملک سمجھتی ہے اور بیرونی قرضوں کے ذریعے ملک چلانے کی بجائے ان وسائل کی ترقی اور صحیح معنوں پر عوام پر ان کے خرچ پر یقینی رکھتی ہے تاہم بدقسمتی سے حکمران طبقہ خصوصاً مسلم لیگ نواز کی حکومت محض سستی شہرت کے حصول اور نجی کاروباری منفعت کی خاطر ان وسائل کے ضیاع کی راہ پر گامزن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی حکومت معدنیات کے حوالے سے مربوط حکمت عملی اور ضروری قانون سازی کی پابند تھی تاہم ابھی تک صوبے میں بیشتر معاملات 2013میں وفاقی حکومت کی جانب سے بنائی گئی پالیسی مستعار لے کر ہی چلائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا خیبرپختونخواہ میں کان کنی کیلئے انتہائی شفاف انداز میں بولیوں کے انعقاد کا طریقہ کار رائج کیا گیا ہے جبکہ پنجاب حکومت اس حوالے سے مربوط نظام وضع کرنے میں تاحال ناکام ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخواہ حکومت کی جانب سے صوبے بھر کے جیو کمیکل سروے تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ اس ضمن میں پنجاب حکومت کے زیادہ تر معاملات ایڈھاک ازم کی نذر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخواہ میں بڑے پیمانے پر کان کنی(Large Scale Mining) کے حاصل شدہ آمدن کے 10فیصد حصے کو کان کنی سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے، اور رائلٹی کے علاوہ 25فیصد حصہ صوبائی حکومت کیلئے رکھا گیا ہے جبکہ پنجاب حکومت کی اس حوالے سے حکمت عملی سے قوم ناآشنا ہے۔ اپنے بیان میں تحریک انصاف کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل نے چھوٹے پیمانے پر کان کنی کیلئے خیبرپختونخواہ میں دستیاب سہولیات کا بھی ذکر کیا اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی سرمایہ اشتہارات اور نمائشی تقریبات کی نذر کرنے کی بجائے صحیح معنوں میں معدنیات کی ترقی پر توجہ دے اور خیبرپختونخواہ کی طرز پر اسے اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔