بے چارے موٹر سائیکل والے

بے چارے موٹر سائیکل والے

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آج شہر گلگت کے تمام راستوں پر درجنوں پولیس اہلکار جدید اسلحے سے لیس چیکنک میں مصروفِ عمل تھے۔ اور ساتھ ہی پولیس کی گاڑیوں میں اہلکار بندوق تھامے بلکل چوکس تھے۔ شاید آج پھر سیکورٹی ہائی الرٹ کا دن تھا۔ خوشی ہوتی ہے جب حکومتی مشینری اسی طرح عوام کی خدمت کے لئے سڑکوں پر نکلتی ہیں۔ صبح سویرے جب موٹر سائیکل پرسوار ہوکر دفتر کا رخ کیا تو ایک دوست کی کال آئی ۔۔ یار میری طبیعت بہت خراب ہے، پلیز مجھے ہسپتال چھوڑ کر پھر دفتر جانا۔۔ دفتر کا وقت ہو گیا تھا لیکن دوستی بھی نبھانی تھی اور رہا صحت خراب ہونے کا سوال تو واپس مڑ ا اور دوست کو لیکر ہسپتال کے لئے روانہ ہوا۔ چند قدم ہی چلے تھے کہ چند سپاہیوں نے ہمیں روکا اور یہ کہہ کر آگے جانے سے منع کیا کہ ہیلمٹ کے بغیر اس سڑک سے جانا منع ہے لہٰذا کوئی متبادل راستہ اختیار کریں۔ خیر کسی متبادل راستہ سے چکر لگا کر جونہی ہم مرکزی شاہراہ ( شاہراہ قائد اعظم) پر پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے ہمیں پھر رکھنے کا اشارہ کیا، ایک نوجوان سپاہی نے موٹر سائیکل کی چابی اٹھائی اور کاغذات چیک کیا پھر شینا زبان میں پوچھ گچھ شروع کی۔ مادری زبان شینا نہ ہونے کی وجہ سے شاید ہم ان کے سوالات کے صحیح جواب نہیں سکے۔ میں نے اردوزبان میں بات کرنے کی گزارش کی تو نوجوان سیخ پا ہوگئے۔ ۔۔ گلگت میں رہتے ہو اور تمہیں ٹھیک شینا نہیں آتی؟؟ کہاں سے آئے ہو؟ شناختی کارڈ دکھاو۔۔ لا ئسنس ہے؟؟ بھائی لائسنس تو نہیں ہے مگر یہ لیجئے شناختی کارڈ۔۔۔ میں نے گزارش کی، بھائی! میرے دوست کی طبیعت خراب ہے، انہیں ہسپتال چھوڑ کر دفتر جانا ہے، میں فلاں دفتر میں کا م کرتا ہوں، یہ میرا کارڈ ہے پلیز ہمیں جانے دیں۔ شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد کہا کہ ۔۔ سر گاڑی میں بیٹھے ہیں ان سے جا کر ملیں۔۔ ان کو ہم نے ادب سے سلام کیا، وردی سے ان کے نام پڑھنے کے بعد نام لیکر ان سے مخاطب ہوا اور خیریتی دریافت کی تو انہوں نے فورا سپاہی کو آواز دی اور موٹر سائیکل کی چابی واپس دینے کو کہا۔ ہم نے سر کا شکریہ ادا کیا اور چل دیے۔

کچھ فاصلے کے بعد رینجر کے اہلکاروں نے روکا۔ بھر جانے دیا۔ آگے پولیس کی ایک ٹیم پھر موجود۔۔ ہم رک گئے، کاغذات چیک کرنے کے بعد ہمیں جانے دیا۔ لیکن ہماری طرح کچھ موٹر سائیکل والے یہاں پر بھی پھنسے تھے ۔ ہم اسhaider logo بار خوش قسمت رہے۔ اب ہمیں شہر سے گزر کر ڈی۔ ایچ۔ کیو ہسپتال جانا تھا۔ جونہی شہر کے بلکل وسط میں پہنچے تو ایک بار پھر پولیس کی بھاری نفری کا سامنا ہوا۔ کچھ اہلکار سڑک کے کنارے بنچ لگا کر موٹر سائیکل سواروں کے کاغذات، شناختی کارڈ اورلائسنس کی جانچ پڑتال کر رہے تھے۔ اگر کسی کے پاس بیک وقت یہ تمام دستاویز موجود نہیں تو آگئی اس کی شامت۔ ہم بھی اپنے مریض دوست کو لیکر وہاں پہنچے اور ایک بار پھر موٹر سائیکل کی چابی نکالی گئی۔ شناختی کارڈ اور کاغذات دکھا دیا لیکن لائسنس نہ ہونے کی وجہ سے پھنس گئے۔ کافی منت سماجت کی لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔ اب وقت کا فی گزر چکا تھا۔ دوست کو ہسپتال پہنچا کر دفتر بھی جانا تھا۔۔ آخر کا ر مریض دوست کو ٹیکسی میں بٹھا کر ہسپتال روانہ کیا۔ واپس آیا تو ایک سپاہی نے پانچ سو روپے کی پرچی تھما دی ۔ پرچی لیکر جب بنچ پر بیٹھے صاحب کے پاس گیا اور ڈسکاونٹ کرنے کو کہا تو محترم آگ بگولا ہوگئے اور غصے سے اپنے ساتھ بیٹھے اہلکار سے کہا کہ ان سے پانچ سو کے بجائے چھ سو روپے وصول کریں۔ اب ہم مکمل طور پر مصیبت میں پھنس چکے تھے۔ نیت صاف تو منزل آسان۔۔ اللہ بھلا کرے ہمارے ایک صحافی دوست کا جو اچانک یہاں نمودار ہوا، انہوں نے ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کی تصویر بنائی ۔ اتنے میں ان کے ایک جاننے والے سپاہی نے ہماری پریشانی دریافت کی اورہم پر رحم کر کے پرانے پرچی کی جگہ تین سو روپے کی ایک نئی پرچی بنادی۔ اسی طرح جرمانے کا آدھا حصہ معاف ہوگیا۔ اب ہم جیب سے پیسے نکالنے ہی والے تھے کہ روپے وصول کرنے والے اہلکار نے پوچھا کہ۔۔ آپ صحافی ہے؟؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو انھوں نے فورا ایک سو روپے کا مزید ڈسکاونٹ دیا۔ پھر تھوڑی سی اصرارکے بعد وہ ایک سو روپے لینے پر راضی ہوگئے۔ دفتر پہنچے توگیارہ بج چکے تھے اور ہم پورے دو گھنٹے لیٹ ہوگئے تھے۔
ہماری طرح نہ جانے کتنے اور غریب موٹر سائیکل سوار ہونگے جو روزانہ اس طرح کے سیکورٹی ہائی الرٹ کا سامنا کرتے ہیں اور دیر سے دفتر پہنچتے ہیں ۔ کیونکہ ہر کوئی کار یا پیراڈو تو نہیں خرید سکتا کہ راستے میں کہیں تلاشی ہو اور نہ ہی پوچھ گچھ۔ چالان اور چیکنگ تو ان غریبوں کی ہوتی ہے جو سوزوکی اور موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں۔ بڑے بڑے این سی پی گاڑیوں کی اتنی چیکنگ نہیں ہوتی جتنی ایک ہنڈا 70 والے کی ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گرد اور تخریب کار صرف موٹر سائیکل اور سوزوکی میں سفر کرتے ہیں؟؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔