فرسودہ سیاسی نظام کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا، ممبران نیشنل یوتھ اسمبلی گلگت بلتستان

فرسودہ سیاسی نظام کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا، ممبران نیشنل یوتھ اسمبلی گلگت بلتستان

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ausaf

سکردو ..(نورین شگری ، جونئیر شگری ،رپوٹینگ ٹیم ) خواتین کو اِن کے بنیادی حقوق دینے کیلئے گلگت بلتستان حکومت کو اسمبلی میں قانون سازی کرنی چاہیے۔ حکومت کی جانب سے قانون تو بن جاتے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔ فرسودہ سیاسی نظام کے خاتمے کے لئے تعلیم یافتہ نوجوان نسل کو اگے انا ہوگا۔ تاکہ حقیقی معنوں میں جمہوری نظام کو فروغ دے سکے، ہمارے ممبران گلگت بلتستان میں قیام امن اور صحت کے فروغ کے لئے سفیر بن کر کام کرینگے ۔خواتین کو ترقی میں شامل کیے بغیر خوشحالی ممکن نہیں گلگت بلتستان کی خواتین انتہائی باصلاحیت اور ذہین ہیں ۔ تعلیم کا میدان ہو یا عملی زندگی کا میدان ہماری خواتین نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اسلام نے عورت کی مذہبی، سماجی، معاشی، معاشرتی، قانونی ،آئینی اور سیاسی کردار کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ اس کے حقوق کی حمایت بھی فراہم کی ہے نیشنل یوتھ اسمبلی خواتین کی آزادی اور اِن کی تحفظ کیلئے اِنہیں ہر قسم کیلئے استحصال اور اقتصادی کاروائیوں سے تحفظ دینے کیلئے پُرعزم ہے۔خواتین کو تمام حقوق ملنے چاہیے ۔ نیشنل یوتھ اسمبلی گلگت بلتستان کی نئی کابینہ ماضی کی برعکس نئے آئیڈیاز پر مبنی ہوگا یوتھ اسمبلی کی کوشش ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو بین القوانی سطح پر اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار خواتین ارا کین نیشنل یوتھ اسمبلی انیتا شگری، ڈاکٹر کنیز فاطمہ، مہرین انصاری، فریحہ حیدر، ایڈوکیٹ سحر عباس، عشرت فاطمہ اور سیدہ بتول نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل یو تھ اسمبلی حکومت پاکستا ن کے متعلقہ ادارے سے با ضا بطہ لا ئسنس حا صل کر نے والانو جو انو ں کاپہلا ادارہ ہے جس کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی با ر ہا ئر ایجو کیشن کمیشن آف پاکستا ن نے تمام الحا ق شد ہ یو نیو رسٹیز میں بطو ر پارلیمانی سٹوڈنٹ سو سا ئٹی قا ئم کیا ۔ حکومت پا کستا ن کے زیر انتظام چلنے والی چا لیس سے زائد ضلعی حکو متو ں نے نیشنل یوتھ اسمبلی کی سرکا ری سر پر ستی کے نو ٹیفکشنز جا ری کیے جن میں حکومتی سطح پر سیشنزکے لیے سر کا ری ہالز اور سیکو رٹی کی فراہمی کا تاریخی فیصلہ کیاگیا ۔مر کز ،صو بے ،ڈویثرن ،ضلع ،یو نیو رسٹی اور تحصیل کی سطح پر مو جو د ایک مضبو ط یو تھ نیٹ ورک کے ذریعے ابھی تک تیس ہزار سے زائد نو جو ان نیشنل یو تھ اسمبلی کا حصہ بن چکے ہیں اور گمنا م ہیر وز کی تلاش کا یہ سفر ابھی جا ری ہے ۔ نیشنل یو تھ اسمبلی کی مقبو لیت کا اعتر اف عا لمی سطح پر یو ں ہوا کہ صدر نیشنل یوتھ اسمبلی حنا ن علی عباسی کوکا من ویلتھ انٹر نیشنل سیکریٹریٹ کی طر ف سے دولت مشتر کہ کے 54ممالک کی نو جو ان نسل کے نما ئند ہ اعز از ’’ کا من ویلتھ یو تھ ایو ارڈ ‘‘عطاکیا گیا ۔عالمی شہرت یا فتہ عامر اطلس خا ن ، ہارون طا رق، ابراھیم شا ہد ،حا رث منظو ر ،ملالہ یو سفزئی ،روما سید ین اور دیگر کا نیشنل یو تھ اسمبلی ممبر شپ نیٹ ورک کا حصہ بننا اِس با ت کاثبوت ہے کہ یوتھ اسمبلی ہر طر ح کے ذہنو ں پر دستک دے رہی ہے۔ حکومت خواتین کے حقوق کیلئے قانون ساز کریں۔ معاشرے کی ترقی میں خواتین کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ گلگت بلتستان کی خواتین شعوروآگہی کے حوالے سے کسی سے پیچھے نہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ 1911ء میں مغرب کی ایک عورت نے خواتین کی حقوق کیلئے آواز بلند کی تو غیر مسلم خواتین سے زیادہ مسلمان خواتین نے لبیک کہااور آج ہر سال 8مارچ کو خواتین کا عالمی دن کے طور پر منایا جارہا ہے۔ حقوق کیلئے منظم انداز میں ایک مختص کرکے منانا اچھی روایات ہے تاہم عورت کے حقوق اور اس کے عظمت کو 14سوسال پہلے خود اللہ نے قرآن میں اُس وقت واضح کرکے بتایا کہ بیٹی اللہ کی خاص رحمت ہے جبکہ عرب معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کو تذلیل سمجھتے ہوئے جیتی جگتی بچیوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ عورت کے مقام ومرتبہ اور اس کی عظمت کا عملی مظاہرہ ہمارے پیارے نبی ؐ نے اپنی صاحبزادی اور ازواج مطہرات کے ساتھ مثالی حُسن سلوک اور روزمرّہ معاملات میں مشفقانہ برتاؤ کے ذریعے کیا جو ہمارے لئے نمونہ عمل ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی خواتین انتہائی باصلاحیت اور ذہین ہیں ۔ تعلیم کا میدان ہو یا عملی زندگی کا میدان ہماری خواتین نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے قانون سازی تو بن جاتے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا خواتین کو تمام حقوق ملنے چاہیے ۔آبادی کے لحاظ سے خواتین کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے مگر حقوق برابری کے بنیاد پر نہیں ملتا۔ اُنہوں نے گزشتہ روز سکردو میں رونما ہونے والے واقعات کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو درخواست کی ہے کہ وہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کیلئے اقدامات کریں۔ اس طرح کے واقعات سے طلبہ وطالبات کی تعلیمی سرگرمیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اِن کی تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات پیش آئیں گے۔ اُنہوں نے نیشنل یوتھ اسمبلی کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وہ خواتین کی آزادی اور اِن کی تحفظ کیلئے اِنہیں ہر قسم کیلئے استحصال اور اقتصادی کاروائیوں سے تحفظ دینے کیلئے پُرعزم ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔