انسداد پولیو مہم، گلگت بلتستان میں ٢ لاکھ ١٥ ہزار بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

انسداد پولیو مہم، گلگت بلتستان میں ٢ لاکھ ١٥ ہزار بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
IMG_1807
گلگت(فرمان کریم) گلگت بلتستان میں تین روزہ پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا۔ اس مہم میں دو لاکھ پندرہ ہزار سے زاہد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں افتتاحی تقریب منقعد ہوئی ۔ تقریب کے مہماں خصوصی نگراں وزیر صحت بشارت اللہ تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہماں خصوصی نے کہا کہ موثر اور دانشمندی سے پولیو کے بیماری سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں۔ اس مہک بیماری سے بچاؤ کے لئے تما م طبقہ فکر کے لوگ اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہم نے حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ جس کے باعث ہسپتال آباد اور کھیلوں کے میدان ویران ہو رہے ہیں۔محکمہ صحت نہ صرف عوام کی رہنمائی کرے بلکہ بہتر صحت کی سہولیات بھی فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ تاکہ عوام کو اُن کے گھروں کے دہلیز پر صحت کی سہولیت میسر آسکے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹیری صحت رشید علی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پولیو میں سیکورٹی پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت بہتر ہے۔ مستقبل میں پولیو ورکروں کی سیکورٹی کے لئے محکمہ سروسز کو آگاہ کیا ہے۔ اور ورکروں کو مکمل سیکورٹی فراہم کیا جائے۔ اور گلگت بلتستان میں پولیو کی خاتمے کے لئے تما م وسائل بروئے کار لا ئیں گے۔ تقریب میں ڈاکٹر محمد اقبال پروگرام ڈائریکٹر ای پی آئی نے مہمان خصوصی کو بریفنگ دیتے کہا کہ پولیو کے باعث پاکستان کو سفری پابندی کا سامنا ہے۔ اس مہم میں پولیو مہم کے ساتھ ساتھ وٹامن کے قطرے بھی پلائیں گے۔ اس مہم میں 994 موبائل ٹیمں،340 سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں میں سنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ جبکہ 54 ٹرانزٹ یونٹ مختلف چیک پوسٹ پر ورکرز شہر میں داخل ہونے والے بچوں کو پولیو کے قطر ے پالائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سال پولیو مہم کے دو مراحلے مکمل ہو چکے ہیں۔ اور پورے پاکستان میں اس سال 16 کیسز سامنے آچکے ہیں۔ خوش قسمتی سے گلگت بلتستان فری زون قرار دیا گیا ہے۔ تقریب کے آخر میں مہماں خصوصی اور دیگر مہمانوں نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کردیا گیا۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔