آؤجشن شگر منائیں

آؤجشن شگر منائیں

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
تحریر عابد شگری

تحریر عابد شگری

21مارچ 2013 وادی شگر کیساتھ وہ تاریخی مذاق تھا جس دن سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ اور انکے کابینہ اور رفقاء نے بڑی شان و شوکت کیساتھ شگر پولو گراؤنڈ میں جلواء افزوز ہوکر شگر کی عوام کیساتھ ایک سنگین اور تاریخی مذاق کیا تھا۔جہاں وزیر اعلی نے بڑی دبنگ انداز میں سٹیج کر میں سینہ تان کر شگر کی عوام کومخاطب ہوکر آج میں شگر کو ضلع بنا دیا کا اعلان کرکے عوام کو ایک غلط یا خوش فہمی میں مبتلاء کردیا۔شگر کی عوام نے اس خوش فہمی میں اپنے تمام اختلافات کو بھلاکر وزیر اعلیٰ کا ستقبال مشترکہ طور پر اس لئے کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ سچ مچ میں اپنی اختیار یات کا ستعمال جانتے ہیں اور وہ کچھ کرسکتے ہیں عوام کو کیا معلوم تھاکہ اس صوبے کا چیف سیکریٹری وزیر اعلی ٰ سے زیادہ طاقت ورہیں وہ وزیر اعلیٰ کے ماتحت نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ کو اعلانات سے پہلے چیف سیکریٹری کو اعتماد میں لاکر چیف سیکریٹری کی ہدایات پر عملدارآمد ضروری ہے۔سابق چیف سیکریٹری سجاد سلیم ہوتیانہ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے قوائد و ضوابط کو مدنظر رکھے بغیر جلد باز ی میں اعلان کردیا جوکہ قابل عملدارامد نہیں یہی حال شگر ضلع کیساتھ ہوا۔کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ سابق چیف سیکریٹری سجاد سلیم ہوتیانہ کا شگر سے اچھی لگاؤ بھی تھا وہ شگر میں کچھ دن آرام بھی کیا تھا ان کا سابق صوبائی وزیر راجہ اعظم خان سے ذاتی دوستی بھی تھا اس دوران اگر سابق وزیر پلاننگ راجہ اعظم خان انہیں شگر ضلع کیلئے قائل کرنے کیلئے تھوڑی سی بھی کوشش کرتے تو ضلع شگر کا فائل ان کے ٹیبل سے غائب ہوئے بغیر و ہی فوری برآمد ہوکرنوٹیفیکیشن فوری طور جاری ہونا تھا لیکن راجہ صاحب کو شگر ضلع کے بجائے فلور ملز میں دلچسپی زیادہ تھا۔جس کا سابق چیف سیکریٹری نے پابندی کے باؤجود شگر فورٹ میں ایک جنبش قلم سے این او سی جاری کردیا۔خیر شگر کی عوام پورے ایک سال تک شگر ضلع کی نوٹیفیکیشن کی انتظار میں اپنے تمام کاموں کو سکردو کے بجائے شگر ہیڈ کوارٹر میں نمٹانے کیلئے ضلعی دفاتر کا انتظار کرتا رہا۔لیکن ایک سال گزرنے کے بعد لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز اور امید دم توڑ گئے۔لوگوں نے شگر اور کھرمنگ کیساتھ ضلع کے نام کو بد تمیزی سمجھنے لگا ہے۔لوگوں کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ اور ان کے کابینہ کیخلاف ہتک عزت کا کیس دائر کرنے کا بھی اعلان کیا تھا اور سابق مشیر صحت عمران ندیم اور پی پی پی کھرمنگ کے صدر نیاز علی صیام نے کورٹ میں کیس بھی دائر کردی تھی لیکن اس کیس کا کیا بنا اس کا نہ لوگوں کا دلچسپی ہے اور نہ ہی لوگوں کو کچھ علم۔شائد کیس کرنے کے بعد دونوں میں مک مکا بھی ہوگیا ہوگا۔حاجی وزیر فداعلی سابق ممبر ضلع کونسل شگر جس کا شگر کی سیاست میں بہت بڑا اثر رشوخ اور نام ہے جو پی پی پی کا درینہ اور پرانہ رہنماء ہے اور وہ اس تقریب کا سٹیج سیکریٹری تھا جس میں جعلی ضلع شگر کا علان ہوا تھا۔انہیں مسلم لیگ (ن)،ایم ڈبلیو ایم،شیعہ علماء کونسل اور دیگر کئی جماعتوں کی جانب سے شمولیت کیلئے باقاعدہ دعوت مل رہا ہے لیکن انہوں نے کسی جماعت میں شمولیت سے اس لئے منع کیا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر حفیظ الرحمن اور جنرل سیکریٹری اکبر تابان جنہوں نے حاجی صاحب سے ان کی گھر آکر پارٹی میں شمولیت کیلئے دعوت دی تھی اس موقع پر انہوں نے پارٹی میں شمولیت کیلئے شگر ضلع کا شرط رکھا تھا جس پر حفیظ الرحمن نے الیکشن سے پہلے شگر ضلع کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے اور ضلعی دفاتر کو قائم کرنے اور ضلعی آفیسران کو تعینات کرنے کا یقین دلایا تھا۔حاجی صاحب نے انہیں یقین دلایا تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) الیکشن سے پہلے شگر کی عوام کا یہ درینہ مطالبہ پورا کرینگے تو شگر میں متوقع دو اسمبلی ممبر مسلم لیگ (ن) کے جھولی میں ڈالنے کیلئے وہ نہ صرف خود مسلم لیگ (ن) جوائن کرینگے بلکہ اپنے تما م حامیوں کو بھی مسلم لیگ میں شامل کرینگے اور مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کیلئے تن من اور دھن کی قربانی دینگے۔یہ مسلم لیگ (ن) کیلئے ایک اچھا اور سنہرا موقع ہے کہ اگر شگر ضلع کا اعلان کرکے واقعی ضلعی حکام کو شگر میں تعینات کریں تو شگر کی عوام کی واقعی میں اس احسان کا بدلہ دو ممبر اسمبلی کی شکل میں مسلم لیگ (ن) کی جھولی میں ڈال کر چکائیں گے۔مسلم لیگ (ن) کو یہ موقع نہیں گنوانا چاہئے ورنہ شگر کی تاریخ میں پی پی پی طرح مسلم لیگ (ن) بھی ایک گمنام پارٹی کی طور پر یاد رکھی جائیں گے اور شگر کی عوام کبھی ان پارٹیوں سے وفا اور کام کی توقع نہیں رکھیں گے۔اگر مسلم لیگ (ن) کی صوبائی صدر وزیر اعظم پاکستان کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کوئی بات نہیں کہ شگر ضلع کا نوٹیفیکیشن پھر 21 مارچ کو جاری کیا جائے۔ ہم توہے ہی

جشن شگر منانے کیلئے تیار چلو جی جشن شگر منانے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔