راما … زمین پر جنت

سبخان سہیل
صدر پریس کلب استور

کیا زمین پر بھی جنت کا وجود ہے؟

جی ہاں!!

اللہ پاک نے استور میں واقع وادی راما کی شکل میں زمیں پر جنت کا نظرہ دکھایا ہے۔۔۔۔۔۔ زمانے نے دیکھا، دنیا والوں نے دیکھا زمین پر بھی اللہ رب العزت نے ایک جنت بنائی ہے ۔۔۔۔اللہ پاک اپنی حکمت اور اپنی رانائی کو دنیا والوں کو جس طرح دیکھایا ہے وہ دیکھنے کے بعد انسان کی عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔۔۔۔

اگر کسی نے دنیا میں جنت کے نظارے دیکھنے ہیں تو وہ جنت نظیر خطہ استور کا رُخ کر سکتا ہے۔ صرف راما ہی نہیں، بلکہ جنت نظیر خطہ استور کے درجنوں ایسے مقامات ہیں جہاں پر اللہ پاک نے جنت کے نظارے تخلیق کئے ہیں۔

سطح سمندر سے 10 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع راما اپنی قدرتی خوبصورتی سے دنیا کے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔جنت نظیر وادی استور کے ضلعی ہیڈ کواٹر عیدگاہ سے چند منٹوں کی مسافت پر ننگا پربت کے دامن میں واقع ہر طرف سرسبز جنگل، میٹھے پانی کے چشمےاور پہاڑوں سے گرنے والے آبشار ہیں، اور دوسری طرف قدرتی حسن سے مالا مال راما جھیل، سیاحوں کو دل کھول کر خوش آمدید کہتی ہے۔

 راما میں ہر سال حکومت گلگت بلتستان ایک شاندر فیسٹول کا انقاد کرتی ہے۔ اس سال بھی انتائی مناسب موسم میں راما فیسٹول کا انعقاد کیاگیا ۔اس فیسٹول کو انتہائی بہتر اور شاندار انداز میں منعقد کرنے کے لئے کمشنر دیامر استور سید عبدالوحید شاہ، اور استور کی ضلعی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر ولی خان اور اس کی پوری ٹیم ، محکمہ سیاحت گلگت بلتستان ڈاریکٹر سپورٹس اینڈ کلچر حسن علی رانا ، محکمہ سیاحت استور محکمہ پولیس، مونسپل کمیٹی ، ڈسٹرکٹ کونسل، لوکل گورنمنٹ، محکمہ تعمرات، محکمہ برقیات، اور امن کمیٹی استور کے معزز ارکین ، عمائدین عیدگاہ،سمیت ہر فرد نے دن رات کوشش کی، جو انتہائی قابل تعریف اور قابل فخر ہے۔

میں انتہائی فخر اور خوشی سے استوری قوم کی اس بہتر اور اچھی کوشش کی تفصیل تحریرکر رہا ہوں۔ استور کی عوام دوست انتظامیہ اور عوام نے ادروں کے ساتھ مل کر محدود بجٹ میں اتنا شاندر فیسٹول منعقد کیا، جو قابل تحسین ہے۔

میں حکومت گلگت بلتستان محمکہ سیاحت سے خاص کر وزیر اعلی گلگت بلتستان سے اس بات کا پوری استوری قوم۔کی جانب سے پر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ اس میلے کی مزید بہتری کے لئے مناسب بجٹ مختص کیا جائے۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے تشہیر میں ناکامی ہوتی ہے، اور ہزاروں سیاح اس تجربے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

راما فیسٹول کا بجٹ گزشتہ تین سالوں سے اتنا محدود کردیا گیا ہے کہ فیسٹول کے بعد ضلعی انتظامیہ اور دیگر ادروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہوتا ہے ۔ کم از کم بجٹ ایک کروڈ روپے تک ہونا چائے اور اس فیسٹول کا دورانیہ تین دن سے بڑھا کر پانچ دن کیا جائے تو مناسب ہے۔

میں راما فیسٹول پر جب بھی بات کرتا ہوں میرے ذہین میں ایک ایسی طبقے کا خیال ضرور آتا ہے جو ہر دفعہ صرف مٹی کی محبت اور علاقے کی محبت کے نام پر اس مٹی پرفداء ہیں۔ یہ طبقہ صحافیوں پر مشتمل ہے، جو بلا معاوضہ فیسٹول کو کوریج دنیے کے لیے دن رات کام کرتےہوئے نظر آتے ہیں ہیں۔

گزشتہ تین سالوں کے دوران استور کی صحافی برادری نے جتنی کوریج راما فیسٹول کو دی ہے، شائد ہی کسی اور ایونٹ کو اتنی کوریج ملی ہو۔ ایک صحافی کن مشکل حالت میں کوریج کرتا ہے یہ ایک صحافی ہی بہتر جان سکتا یے۔

میں استور پریس کلب کی کابینہ اور تمام ارکین، بشمول محترم بزرگ صحافی سرتاج ، شفیع اللہ قریشی اور ہوا کی دوش پر کرگل کے محاز سے لے کر سیاچن کے باڈر تک ہر جگہ لوگوں کو اپنی خوبصورت آواز میں راما فیسٹول کی لائیو کوریج کرنے والے شیر محمد صاحب اور خورشید سمیت ریڈیو پاکستان کی پوری ٹیم  اور تمام صحافی برادی کا انتہائی ممنون و مشکور ہوں جنہوں نے مشکل حالت کے باوجود اس فیسٹول کو دنیا بھر میں دکھانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

استورسمیت پورے گلگت بلتستان کی صحافی برادری کو خاکسار کا سلام ہو۔یہاں میں صحافی برادی کے نام ایک شعر عرض کروں گا

ہر ایک جانب روا ظلم و ستم ہے
تو ایک جانب میرا روتا قلم ہے
محبت کے سفیرو چپ رہو تم
یہاں دستور الفت کالعدم ہے

میں یہاں پر گلگت بلتستان کے معروف علم دوست شاعر عنایت اللہ خان شمالی ، جمشید خان  دوکھی، تاج ، راشد ارشد اور دیگر تمام دوست احباب کا بھی مشکور ہیں جنہوں نے راما فیسٹول کے محفل مشاعرے میں اس فیسٹول کو مزید چار چاند لگا دئے

میں اس فیسٹول کے کامیاب انقاد پر اس فیسٹول کے کواڈنیٹر پارلیمانی سیکرٹری ہیلتھ  برکت جمیل ، وزیر بلدیات فرمان علی ، وزیر کھیل سیاحت فدا خان ، کمشنر دیامر استور سید عبدالوحید شاہ، ڈپٹی کمشنر استور ولی خان ، امن کمیٹی ، عمایدین کو اپنی جانب سے اور پوری استوری قوم کی جانب سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں میں وزیر اعلی گلگت بلتستان کا انتہائی ممنون و مشکور ہوں انھوں نے راما فیسٹول کے اختتام پر استوری قوم سے خطاب بھی کیا اور مختلف عوامی نمائندوں سے ملکر کر ان کے مسائل بھی سنا اس موقعے پر میں استور پریس کلب کے منتخب صدر اور کابینہ کی جانب سے بھی انتہائی ممنون و مشکور ہوں کہ انھوں نے استور کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری انداز میں منتخب کابینہ کی تقریب حلف برادری میں شرکت کرکے کابینہ سے حلف لیکر منتخب کابینہ کی حوصلہ آفزائی کی۔میں مزید اس بات کی امید کرتا ہوں کی وزیر اعلی گلگت بلتستان اور محکمہ سیاحت گلگت بلتستان اس فیسٹول کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے مزید بہتر اور سنجیدہ اقدامات کریں گے۔

میں اللہ رب العزت کے حضور دعا کرتا ہوں اللہ پاک میری وطن عزیز کے ہر گوشہ گوشہ کو امن محبت کا گہوار بنائے ۔۔۔امین میں اس شعر کے ساتھ اجازات چاہوں گا

میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی

میرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے

اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا

جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments